ColumnImtiaz Aasi

جسٹس محسن اختر کیانی کا استعفیٰ ، اصل وجوہات

جسٹس محسن اختر کیانی کا استعفیٰ ، اصل وجوہات
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
پاکستان کی عدلیہ کی تاریخ میں ایسے ایسے منصف ہو گزرے ہیں جنہیں آج بھی لوگ شاندار الفاظ میں یاد کرتے ہیں۔ انسان کا ایک ضمیر ہی ہوتا ہے انسان اپنے ضمیر کا سودا کر لئے وہ وقتی طور پر تو مراعات لے سکتا ہے مگر اس کے اندر کا ضمیر اسے ضرور جھنجوڑتا ہے۔ اگر کوئی شخص میرٹ پر منصف کے عہدے پر فائز ہوجائے تو اس کے لئے قدرت کا اس سے بڑا انعام کوئی اور ہو نہیں سکتا۔ گو جسٹس ایم آر کیانی کو دنیا سے رخصت ہوئے عشرے ہو چکے ہیں وہ عدلیہ کی تاریخ میں کئی حوالوں سے آج بھی زندہ ہیں۔ وہ جج صاحبان جو عہدے اور پرکشش مراعات کے عوض اپنے ضمیر کا سودا کر لیتے ہیں دنیا اور آخرت میں ان کا کوئی مقام نہیں ہوتا۔ گزشتہ ایک سال کے دوران کئی جج صاحبان اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے چکے ہیں۔ ابھی گزشتہ دنوں معروف قانون دان اکرم شیخ کے بیٹے جو لاہور ہائیکورٹ کے جج تھے اپنے عہدے سے مستعفی ہو چکے ہیں۔ عدلیہ سے جج صاحبان کی قبل از وقت رخصتی سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ اگر ہم ان وجوہات کا ذکر کریں جن کی بنا منصفوں نے اپنے عہدے چھوڑے دیئے ہیں تو پر جلتے ہیں۔ وہ جج صاحبان جو آئین اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں معاشرے میں بلند و بالا مقام کے حامل ہوتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے ایک سابق چیف جسٹس رانا بھگوان داس، لاہور ہائی کورٹ کے پارسی جج جسٹس رستم ایس سدھوا اور جناب جسٹس ( ر) عبادالرحمان لودھی جیسے راست باز ججوں کو وکلابرادری اور عوام شاندار الفاظ میں یاد کرتے ہیں۔ قارئین کو پڑھ کر حیرت ہوگی جناب جسٹس ( ر) عبادالرحمان لودھی سے ایک چیف جسٹس نے شیخ رشید کو راولپنڈی میں13اگست کو جلسہ کرنے کی اجازت نہ دینے کی سفارش کی تو جج صاحب نے جوابا کہا وہ گزشتہ کئی عشروں سے جلسہ کر رہا ہے جہاں کسی قسم کے لا اینڈ آرڈر کو کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ جج صاحب نے جلسے کی اجازت تو دے دی مگر انہیں پھر ملتان بینچ میں تبدیل ہونا پڑا۔ چیف جسٹس کو جس صاحب نے بھی کہا ہوگا اس کا ذکر یہاں مناسب نہیں۔ اب میں آتا ہوں اپنے اصل موضوع کی طرف جناب جسٹس محسن اختر کیانی کے استعفے کی طرف۔ کیانی صاحب نے اپنے استعفے میں جن وجوہات کا ذکر کیا ہے وہ اپنی جگہ درست ہیں جن سے کوئی انکار نہیں کر سکتا، لیکن جسٹس صاحب کو جس ماحول میں لاہور بھیجا گیا دراصل وہ تنہائی کا شکار تھے۔ تعجب ہے ایک قابل ترین جج کو سنگل بینچ میں رکھ کر اس کی کاز لسٹ میں صرف فیملی کیسز لگانا کون سا میرٹ ہے۔ کیانی صاحب کو نہ تو ڈی بی میں رکھا گیا بلکہ انہیں راولپنڈی بینچ میں ٹرانسفر کرتے ہوئے ایک بار پھر سے سنگل بینچ میں رکھا گیا، جواس امر کا غماز ہے جسٹس کیانی سے کسی کو ضمیر کے خلاف فیصلوں کی توقع نہیں تھی۔ ایک جج کا بیس ہزار سے زیادہ مقدمات کا فیصلہ کرنا کوئی آسان کام نہیں بلکہ جان جوکھوں کا کام ہے۔ دراصل جسٹس کیانی صاحب کو وہ ماحول میسر نہیں آسکا جو ایک جج کو اپنے آبائی ضلع میں میسر تھا۔ جج صاحب کی سرجری کوئی بڑی بات نہیں تھی وہ تو ہرنیا کا آپریشن تھا جو ایک معمول کی بات ہے، ان کی مستعفی ہونے کی جو وجوہات انہوں نے اپنے استعفے میں بیان کی ہیں ان سے ہم پوری طرح متفق ہیں، لیکن جج صاحب لاہور ہائی کورٹ کے اس ماحول میں ڈپریشن کا شکار ضرور تھے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ سے بیک وقت ججوں کے تبادلوں سے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ عدلیہ پر شب خون مارا گیا، بعض حلقوں کے نزدیک من پسند فیصلے صادر نہ کرنے والے جج معتوب قرار دیئے گئے، اور انہیں دوسرے صوبوں کی ہائی کورٹس میں بھیج دیا گیا۔ توجہ طلب پہلو یہ بھی ہے ججوں کی سینیارٹی کو بھی ملحوظ نہیں رکھا گیا۔ حیرت ہے جنرل مشرف نے ججوں کو معزول کیا تو وکلاء برادری کے ساتھ عوام کی بہت بڑی تعداد سڑکوں پر آگئی جس کے نتیجے میں ججوں کو بحال کرنا پڑا۔ وکلا برادری اور ان کی تنظیموں کے نمائندے جو قانون اور آئین کے سب سے بڑے علمبردار ہیں، آئین میں پے درپے ترامیم اور ججوں کے تبادلوں پر خاموش تماشائی بنے رہے۔ وکلا برادری کی خاموشی اس امر کی غماز ہے ان کی کوئی تحریک ہو اس کے پس پردہ کوئی نہ کوئی ضرور ہوتا ہے۔ ہاں اگر اس موقع پر بھی کوئی وکلا برادری کی پشت پناہی کرنے والا کوئی ہوتا تو وہ سڑکوں پر ہوتے لیکن حکومت سے مراعات، بار کونسلوں کے لئے فنڈز اور وزارت قانون میں عہدے آئین میں ترامیم کی راہ میں رکاوٹ بن گئے۔ جسٹس کیانی نے اپنے استعفے میں جن وجوہات کا خاص طور پر ذکر کیا ہے ان میں آئین میں 26ویں اور 27ویں ترمیم قابل ذکر ہیں، ان کا کہنا ہے آئین میں تبدیلیوں نے ہائی کورٹس کی آزادی اور ادارہ جاتی خود مختاری کو متاثر کیا ہے۔ اس کے ساتھ انہوںنے عدالتی امور میں انتظامیہ کے بڑھتے ہوئے کنٹرول کو بھی عدلیہ کی آزادی میں رکاوٹ قرار دیا ہے۔ آج ریاست پاکستان کو جن جن مشکلات کا سامنا ہے ان میں عدلیہ کی آزادی سب سے بڑا فیکٹر ہے۔ سیاسی جماعتوں میں انہی کو بار بار مسلط کرکے عوام کو گوناگوں مسائل سے دوچار کر دیا گیا ہے۔ عدلیہ اور آئین و قانون کی بالادستی پر یقین رکھنے والے جج صاحبان باری باری رخصت ہو رہے ہیں۔ موجودہ ماحول نے قرون اولیٰ کے دور کی یاد دلا دی جس میں بڑا کوئی جرم کرتا اسے چھوڑ دیا جاتا تھا اور چھوٹو ں سے جرم کا ارتکاب ہو تا انہیں سزائیں دے دی جاتی تھیں۔ ریاست پاکستان بھی کچھ اسی طرح کے مسائل سے دوچار ہے۔ سیاسی آزادیوں پر قدغن ہے، قانون کی بالادستی کا تصور ختم ہو چکا ہے، اور انصاف ناپید ہے۔ سوال ہے کیا ایسے معاشرے صفحہ ہستی پر برقرار رہ سکتے ہیں؟۔ مملکت خداداد کو آج آزاد عدلیہ کی جتنی ضرورت ہے پہلے کبھی نہیں تھی۔ آپ دیکھیں ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے بانی اور ان کے اہل خاندان کو قید و بند میں رکھا گیا ہے اور ان کے مقدمات کی سماعت نہیں ہو پا رہی ہے۔ شہریوں کی آزادی پر پابندی ہے۔ شائد اسی لئے جسٹس محسن اختر کیانی اپنے منصب سے مستعفی ہوئے ہیں۔
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
پاکستان کی عدلیہ کی تاریخ میں ایسے ایسے منصف ہو گزرے ہیں جنہیں آج بھی لوگ شاندار الفاظ میں یاد کرتے ہیں۔ انسان کا ایک ضمیر ہی ہوتا ہے انسان اپنے ضمیر کا سودا کر لئے وہ وقتی طور پر تو مراعات لے سکتا ہے مگر اس کے اندر کا ضمیر اسے ضرور جھنجوڑتا ہے۔ اگر کوئی شخص میرٹ پر منصف کے عہدے پر فائز ہوجائے تو اس کے لئے قدرت کا اس سے بڑا انعام کوئی اور ہو نہیں سکتا۔ گو جسٹس ایم آر کیانی کو دنیا سے رخصت ہوئے عشرے ہو چکے ہیں وہ عدلیہ کی تاریخ میں کئی حوالوں سے آج بھی زندہ ہیں۔ وہ جج صاحبان جو عہدے اور پرکشش مراعات کے عوض اپنے ضمیر کا سودا کر لیتے ہیں دنیا اور آخرت میں ان کا کوئی مقام نہیں ہوتا۔ گزشتہ ایک سال کے دوران کئی جج صاحبان اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے چکے ہیں۔ ابھی گزشتہ دنوں معروف قانون دان اکرم شیخ کے بیٹے جو لاہور ہائیکورٹ کے جج تھے اپنے عہدے سے مستعفی ہو چکے ہیں۔ عدلیہ سے جج صاحبان کی قبل از وقت رخصتی سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ اگر ہم ان وجوہات کا ذکر کریں جن کی بنا منصفوں نے اپنے عہدے چھوڑے دیئے ہیں تو پر جلتے ہیں۔ وہ جج صاحبان جو آئین اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں معاشرے میں بلند و بالا مقام کے حامل ہوتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے ایک سابق چیف جسٹس رانا بھگوان داس، لاہور ہائی کورٹ کے پارسی جج جسٹس رستم ایس سدھوا اور جناب جسٹس ( ر) عبادالرحمان لودھی جیسے راست باز ججوں کو وکلابرادری اور عوام شاندار الفاظ میں یاد کرتے ہیں۔ قارئین کو پڑھ کر حیرت ہوگی جناب جسٹس ( ر) عبادالرحمان لودھی سے ایک چیف جسٹس نے شیخ رشید کو راولپنڈی میں13اگست کو جلسہ کرنے کی اجازت نہ دینے کی سفارش کی تو جج صاحب نے جوابا کہا وہ گزشتہ کئی عشروں سے جلسہ کر رہا ہے جہاں کسی قسم کے لا اینڈ آرڈر کو کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ جج صاحب نے جلسے کی اجازت تو دے دی مگر انہیں پھر ملتان بینچ میں تبدیل ہونا پڑا۔ چیف جسٹس کو جس صاحب نے بھی کہا ہوگا اس کا ذکر یہاں مناسب نہیں۔ اب میں آتا ہوں اپنے اصل موضوع کی طرف جناب جسٹس محسن اختر کیانی کے استعفے کی طرف۔ کیانی صاحب نے اپنے استعفے میں جن وجوہات کا ذکر کیا ہے وہ اپنی جگہ درست ہیں جن سے کوئی انکار نہیں کر سکتا، لیکن جسٹس صاحب کو جس ماحول میں لاہور بھیجا گیا دراصل وہ تنہائی کا شکار تھے۔ تعجب ہے ایک قابل ترین جج کو سنگل بینچ میں رکھ کر اس کی کاز لسٹ میں صرف فیملی کیسز لگانا کون سا میرٹ ہے۔ کیانی صاحب کو نہ تو ڈی بی میں رکھا گیا بلکہ انہیں راولپنڈی بینچ میں ٹرانسفر کرتے ہوئے ایک بار پھر سے سنگل بینچ میں رکھا گیا، جواس امر کا غماز ہے جسٹس کیانی سے کسی کو ضمیر کے خلاف فیصلوں کی توقع نہیں تھی۔ ایک جج کا بیس ہزار سے زیادہ مقدمات کا فیصلہ کرنا کوئی آسان کام نہیں بلکہ جان جوکھوں کا کام ہے۔ دراصل جسٹس کیانی صاحب کو وہ ماحول میسر نہیں آسکا جو ایک جج کو اپنے آبائی ضلع میں میسر تھا۔ جج صاحب کی سرجری کوئی بڑی بات نہیں تھی وہ تو ہرنیا کا آپریشن تھا جو ایک معمول کی بات ہے، ان کی مستعفی ہونے کی جو وجوہات انہوں نے اپنے استعفے میں بیان کی ہیں ان سے ہم پوری طرح متفق ہیں، لیکن جج صاحب لاہور ہائی کورٹ کے اس ماحول میں ڈپریشن کا شکار ضرور تھے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ سے بیک وقت ججوں کے تبادلوں سے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ عدلیہ پر شب خون مارا گیا، بعض حلقوں کے نزدیک من پسند فیصلے صادر نہ کرنے والے جج معتوب قرار دیئے گئے، اور انہیں دوسرے صوبوں کی ہائی کورٹس میں بھیج دیا گیا۔ توجہ طلب پہلو یہ بھی ہے ججوں کی سینیارٹی کو بھی ملحوظ نہیں رکھا گیا۔ حیرت ہے جنرل مشرف نے ججوں کو معزول کیا تو وکلاء برادری کے ساتھ عوام کی بہت بڑی تعداد سڑکوں پر آگئی جس کے نتیجے میں ججوں کو بحال کرنا پڑا۔ وکلا برادری اور ان کی تنظیموں کے نمائندے جو قانون اور آئین کے سب سے بڑے علمبردار ہیں، آئین میں پے درپے ترامیم اور ججوں کے تبادلوں پر خاموش تماشائی بنے رہے۔ وکلا برادری کی خاموشی اس امر کی غماز ہے ان کی کوئی تحریک ہو اس کے پس پردہ کوئی نہ کوئی ضرور ہوتا ہے۔ ہاں اگر اس موقع پر بھی کوئی وکلا برادری کی پشت پناہی کرنے والا کوئی ہوتا تو وہ سڑکوں پر ہوتے لیکن حکومت سے مراعات، بار کونسلوں کے لئے فنڈز اور وزارت قانون میں عہدے آئین میں ترامیم کی راہ میں رکاوٹ بن گئے۔ جسٹس کیانی نے اپنے استعفے میں جن وجوہات کا خاص طور پر ذکر کیا ہے ان میں آئین میں 26ویں اور 27ویں ترمیم قابل ذکر ہیں، ان کا کہنا ہے آئین میں تبدیلیوں نے ہائی کورٹس کی آزادی اور ادارہ جاتی خود مختاری کو متاثر کیا ہے۔ اس کے ساتھ انہوںنے عدالتی امور میں انتظامیہ کے بڑھتے ہوئے کنٹرول کو بھی عدلیہ کی آزادی میں رکاوٹ قرار دیا ہے۔ آج ریاست پاکستان کو جن جن مشکلات کا سامنا ہے ان میں عدلیہ کی آزادی سب سے بڑا فیکٹر ہے۔ سیاسی جماعتوں میں انہی کو بار بار مسلط کرکے عوام کو گوناگوں مسائل سے دوچار کر دیا گیا ہے۔ عدلیہ اور آئین و قانون کی بالادستی پر یقین رکھنے والے جج صاحبان باری باری رخصت ہو رہے ہیں۔ موجودہ ماحول نے قرون اولیٰ کے دور کی یاد دلا دی جس میں بڑا کوئی جرم کرتا اسے چھوڑ دیا جاتا تھا اور چھوٹو ں سے جرم کا ارتکاب ہو تا انہیں سزائیں دے دی جاتی تھیں۔ ریاست پاکستان بھی کچھ اسی طرح کے مسائل سے دوچار ہے۔ سیاسی آزادیوں پر قدغن ہے، قانون کی بالادستی کا تصور ختم ہو چکا ہے، اور انصاف ناپید ہے۔ سوال ہے کیا ایسے معاشرے صفحہ ہستی پر برقرار رہ سکتے ہیں؟۔ مملکت خداداد کو آج آزاد عدلیہ کی جتنی ضرورت ہے پہلے کبھی نہیں تھی۔ آپ دیکھیں ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے بانی اور ان کے اہل خاندان کو قید و بند میں رکھا گیا ہے اور ان کے مقدمات کی سماعت نہیں ہو پا رہی ہے۔ شہریوں کی آزادی پر پابندی ہے۔ شائد اسی لئے جسٹس محسن اختر کیانی اپنے منصب سے مستعفی ہوئے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button