انعام ایک ملین ڈالر کا، قیمت جمہوریت کی

انعام ایک ملین ڈالر کا، قیمت جمہوریت کی
پیامبر
قادر خان یوسف زئی
کسی گھر میں چوری کا شک ہو تو سمجھدار مالک خاموشی سے تالا بدلوا لیتا ہے۔ ناسمجھ مالک چھت پر چڑھ کر اعلان کر دیتا ہے کہ جو چور پکڑوائے گا اسے منہ مانگا انعام ملے گا۔ چور پکڑا جائے یا نہ پکڑا جائے، اتنا ضرور ہوتا ہے کہ اگلی صبح محلے کا ہر آدمی اپنے ہمسائے کو شک کی نظر سے دیکھ رہا ہوتا ہے۔ امریکہ میں اس وقت کچھ ایسا ہی منظر ہے، فرق صرف یہ ہے کہ یہاں محلہ پچاس ریاستوں پر پھیلا ہوا ہے اور چھت وائٹ ہائوس کی ہے۔
26 اکتوبر 2026ء کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ووٹر فراڈ کی اطلاع دینے والوں کو 10لاکھ ڈالر انعام دیا جائے گا۔ گارڈین، رائٹرز اور اے بی سی نیوز نے یہ خبر نمایاں طور پر شائع کی۔ اعلان کا وقت بھی دیکھ لیجیے۔ وسط مدتی انتخابات 3نومبر کو ہیں، یعنی پولنگ میں چند دن ہی باقی ہیں۔ ایسے وقت میں جب ووٹر کو بتایا جانا چاہیے کہ اس کا ووٹ محفوظ ہے، اسے یہ بتایا جا رہا ہے کہ اس کے آس پاس کوئی نہ کوئی دھوکہ ضرور کر رہا ہے اور اسے پکڑوانے کا معاوضہ بھی ملے گا۔
اصل سوال یہ نہیں کہ امریکی انتخابات میں کبھی کوئی بے ضابطگی ہوئی یا نہیں۔ دنیا کا کوئی انتخابی نظام سو فیصد بے داغ نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ جب ریاست خود اپنے شہریوں کو مشتبہ سمجھنے لگے، ان کا ڈیٹا اکٹھا کرے اور شک کو انعام سے جوڑ دے، تو ووٹ پر اعتماد اس رفتار سے ٹوٹتا ہے جس رفتار سے کوئی فراڈ کبھی نہیں توڑ سکتا۔ ایک جعلی ووٹ ایک نشست کا نتیجہ بدل سکتا ہے۔ عوام کا اعتماد ختم ہو جائے تو پورا نظام ہل جاتا ہے۔ اب ذرا اس تصویر کا دوسرا حصہ دیکھیے۔ قانونی تنظیم ڈیموکریسی فارورڈ نے اکتوبر 2026ء میں ایک رپورٹ جاری کی جس کے مطابق موجودہ انتظامیہ نے قریباً 10کروڑ ریکارڈز جمع کیے ہیں، اور ان میں قریباً 5کروڑ ووٹر ریکارڈز شامل ہیں۔ یہ بات اندازوں پر نہیں کھڑی۔ تنظیم نے 700سے زیادہ فریڈم آف انفارمیشن ایکٹ درخواستیں دائر کیں اور 13ہزار سے زیادہ صفحات کی سرکاری دستاویزات حاصل کیں۔ رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ انتظامیہ کے کئی انتخابی اقدامات عدالتیں پہلے ہی مسترد کر چکی ہیں۔
ان اعداد کو ایک لمحے کے لیے امریکی پس منظر سے نکال کر اپنے ہاں رکھ کر دیکھیے۔ اگر پاکستان میں کوئی حکومت انتخابات سے پہلے کروڑوں ووٹرز کا ڈیٹا اکٹھا کرے اور ساتھ ہی مخبروں کے لیے انعام کا اعلان کر دے، تو واشنگٹن کے تھنک ٹینک اگلی صبح تشویش بھرے بیانات جاری کر رہے ہوں گے۔ جمہوریت کا پیمانہ جغرافیہ دیکھ کر نہیں بدلنا چاہیے۔ جو بات اسلام آباد میں تشویشناک ہو، وہ واشنگٹن میں صرف اس لیے معمول نہیں بن جاتی کہ وہاں کی عمارتیں سفید ہیں۔ ڈیموکریسی فارورڈ کے انکشافات پر انتظامیہ کا کوئی باقاعدہ جواب اب تک سامنے نہیں آیا۔ ہو سکتا ہے حکومت کے پاس اس ڈیٹا کی کوئی وضاحت ہو، کوئی قانونی جواز ہو۔ مگر خاموشی بھی ایک بیان ہوتی ہے، اور جمہوریت میں حکومت کی خاموشی کو شہری اکثر اپنے خدشات کی تصدیق سمجھ لیتے ہیں۔ جو ریاست دوسروں سے شفافیت مانگتی ہے، اسے پہلے خود حساب دینا ہوتا ہے۔
تاریخ بھی اس بحث میں کچھ کہتی ہے، اور غور سے سننے کے قابل ہے۔ 2020ء کے صدارتی انتخابات کے بعد امریکی محکمہ داخلی سلامتی کے سائبر سیکیورٹی ادارے سی آئی ایس اے اور انتخابی حکام نے مشترکہ بیان میں اس الیکشن کو امریکی تاریخ کا سب سے محفوظ انتخاب قرار دیا تھا۔ اسی برس دسمبر میں ٹرمپ کے اپنے اٹارنی جنرل ولیم بار نے کہا تھا کہ محکمہ انصاف کو اتنے بڑے پیمانے پر فراڈ نہیں ملا جو نتیجہ بدل سکتا۔ برینن سینٹر کی ایک پرانی اور مشہور تحقیق کے مطابق ذاتی حیثیت میں ووٹر فراڈ کی شرح 0.0003فیصد سے 0.0025فیصد کے درمیان پائی گئی۔ اتنی کم شرح والے مسئلے پر دس لاکھ ڈالر کا انعام رکھنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی مچھر مارنے کے لیے توپ خانہ منگوا لے۔ مچھر شاید بچ نکلے، مگر دیواریں نہیں بچیں گی۔
انتظامیہ کے حامی کہتے ہیں کہ انتخابی شفافیت پر سوال اٹھانا جمہوریت دشمنی نہیں بلکہ جمہوریت کی حفاظت ہے۔ ان کی بات میں وزن ہے۔ پیو سینٹر آن دی اسٹیٹس کی 2012ء کی رپورٹ نے بتایا تھا کہ امریکی ووٹر فہرستوں میں قریباً 18لاکھ وفات پا جانے والوں کے نام موجود تھے اور قریباً 2کروڑ 40لاکھ رجسٹریشنز غلط یا نامکمل تھیں۔ ہیریٹیج فانڈیشن کا ڈیٹا بیس بھی کئی دہائیوں پر پھیلے ڈیڑھ ہزار کے لگ بھگ ثابت شدہ مقدمات دکھاتا ہے۔ حامی یہ بھی یاد دلاتے ہیں کہ ڈیموکریسی فارورڈ ایک ترقی پسند قانونی تنظیم ہے، اس لیے اس کی رپورٹ کو غیر جانبدار سمجھنا درست نہیں۔
یہ اعتراضات سنجیدہ ہیں اور انہیں رد کرنے کے بجائے سمجھنا چاہیے۔ لیکن ایک فرق ذہن میں رہے۔ ووٹر فہرست میں کسی مرحوم کا نام ہونا اور اس نام پر ووٹ ڈالا جانا دو الگ باتیں ہیں۔ پہلی بات انتظامی سستی ہے، دوسری جرم ہے۔ اگر فہرستیں ناقص ہیں تو علاج فہرستوں کی درستی ہے، ریاستوں کے الیکشن دفاتر کو وسائل دینا ہے، شفاف آڈٹ ہے۔ انعامی اسکیم سے فہرستیں درست نہیں ہوتیں۔ اس سے ہمسایہ ہمسائے کی مخبری کرنے لگتا ہے اور پولنگ اسٹیشن کے باہر کھڑا شہری خود کو گواہ کم اور ملزم زیادہ محسوس کرتا ہے۔ ڈیموکریسی فارورڈ کی جانبداری پر اعتراض بھی بجا ہے، مگر اس کی رپورٹ کا بڑا حصہ خود حکومت کی جاری کردہ دستاویزات پر کھڑا ہے۔ کسی کی سیاست سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، سرکاری کاغذات سے نہیں۔
ایک دن پہلے، 27اکتوبر کو اسرائیل میں کنیست کے انتخابات ہوئے اور ٹرن آئوٹ 77.7فیصد رہا۔ وہاں جھگڑا اتحاد بنانے پر ہے، نشستوں کی گنتی پر ہے، مگر عام شہری اس بات پر بحث نہیں کر رہا کہ بیلٹ بکس پر بھروسہ کیا جائے یا نہیں۔ میں اسرائیلی سیاست کو مثالی نہیں کہہ رہا، اس کے اپنے بے شمار تضادات ہیں۔ 2026ء کے وسط مدتی انتخابات امریکی جمہوریت کے لیے ایک لٹمس ٹیسٹ (Litmus test)کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایک ایسا ملک جو پوری دنیا میں جمہوری اقدار کا پرچارک بنتا ہے، آج خود اپنے ہی وضع کردہ انتخابی نظام پر شک کر رہا ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے مقامی اداروں پر عدم اعتماد، انعام کے لالچ میں مخبری کا کلچر، اور سیاسی مقاصد کے لیے قانون کا اندھا دھند استعمال اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ خرابی بہت گہری ہے۔
بہرحال، سیاست کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے، اس کا فیصلہ تو چند روز میں بیلٹ باکس کر ہی دے گا، مگر یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہو چکی ہے کہ امریکی عوام اب پرانے نعروں اور کھوکھلے وعدوں پر بہلنے والے نہیں ہیں۔ ایک باشعور قوم کو چاہیے کہ وہ اپنی جمہوری اقدار کی نیلامی کو روکے، کیونکہ جمہوریت کوئی بکنے والی جنس نہیں، بلکہ عوام کے اعتماد کا نام ہے، اور جس روز یہ اعتماد اٹھ گیا، اس روز سپر پاور کا سارا غرور زمیں بوس ہو جائے گا۔





