Column

دہشت گردی کے خلاف جنگ

اداریہ۔۔۔۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ
پاکستان آج بھی دہشت گردی کے خلاف ایک ایسی جنگ لڑ رہا ہے جس کا مقصد محض چند مسلح گروہوں کا خاتمہ نہیں بلکہ ریاستی خودمختاری، شہریوں کے تحفظ اور قومی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ بلوچستان کے اضلاع کچھی اور وڈھ میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی جانے والی کارروائیوں میں نو دہشت گردوں کی ہلاکت اور رواں سال ملک بھر میں دہشت گردی کے خلاف ہزاروں آپریشنز کی تفصیلات اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہیں کہ ملکی سلامتی کے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیں۔ تاہم اس جنگ کی کامیابی کا تقاضا ہے کہ آپریشنل اقدامات کے ساتھ ان عوامل کا بھی خاتمہ کیا جائے جو انتہا پسندی اور تشدد کو جنم دیتے ہیں۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق کچھی میں دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے کے خلاف کارروائی کے دوران سات دہشت گرد ہلاک ہوئے، جبکہ وڈھ میں دو دہشت گرد مارے گئے۔ ان کارروائیوں کے دوران اسلحہ اور گولہ بارود کی برآمدگی بھی رپورٹ کی گئی۔ ان واقعات کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ بلوچستان طویل عرصے سے دہشت گردی، تخریب کاری اور امن و امان کے متعدد چیلنجز کا سامنا کرتا رہا ہے۔ ایسے حالات میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیوں کا مقصد خطرات کو بروقت شناخت کرنا اور انہیں شہری آبادی تک پہنچنے سے پہلے روکنا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی صرف ہتھیاروں کی برتری سے حاصل نہیں ہوتی۔ اس کے لیے درست معلومات، اداروں کے درمیان مثر رابطے، تربیت یافتہ اہلکاروں اور عوام کے اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہر کامیاب کارروائی کی اصل قدر اسی وقت سامنے آتی ہے جب اس کے نتیجے میں لوگوں کی زندگیوں میں تحفظ کا احساس بڑھے، کاروبار بحال ہوں اور معمولاتِ زندگی بلا خوف جاری رہ سکیں۔ قومی اسمبلی میں پیش کی گئی وزارتِ داخلہ کی تفصیلات بھی انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کے حجم کو ظاہر کرتی ہیں۔ فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق یکم جنوری سے 29ستمبر تک ملک بھر میں 5143آپریشنز کیے گئے، جن میں 2410دہشت گرد ہلاک، 806زخمی اور 3518گرفتار ہوئے۔ یہ اعداد و شمار سیکیورٹی اداروں کی سرگرمیوں کی نشاندہی کرتے ہیں، لیکن ان کے ساتھ ایک اہم سوال بھی جڑا ہے: اتنی بڑی کارروائیوں کے باوجود دہشت گردی کے خطرے کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے مزید کیا اقدامات درکار ہیں؟۔ اس سوال کا جواب صرف میدانِ عمل میں نہیں بلکہ پالیسی سازی، تعلیم، سماجی ترقی اور جدید ٹیکنالوجی کے موثر استعمال میں بھی تلاش کرنا ہوگا۔ دہشت گرد تنظیمیں اب محض دور دراز علاقوں یا خفیہ ٹھکانوں تک محدود نہیں رہیں۔ آن لائن پلیٹ فارم، انتہا پسندانہ مواد اور ڈیجیٹل رابطوں کے ذریعے بھی نوجوانوں کو تشدد کی طرف مائل کرنے کی کوششیں کی جا سکتی ہیں۔ وزارتِ داخلہ کی جانب سے آن لائن خطرات کی نگرانی کے لیے مربوط نظام، تربیت یافتہ تجزیہ کاروں اور چوبیس گھنٹے نگرانی کی صلاحیت میں کمی کی نشاندہی ایک اہم پالیسی چیلنج ہے۔ اگر دہشت گردی کے خلاف جنگ کو دیرپا کامیابی سے ہم کنار کرنا ہے تو ان کمزوریوں کو دور کرنا ناگزیر ہوگا۔ قومی انسدادِ دہشت گردی ادارے کو مطلوبہ وسائل، جدید آلات اور تربیت یافتہ افرادی قوت فراہم کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ بجٹ میں مختص رقوم کا شفاف اور موثر استعمال، وفاق اور صوبوں کے درمیان معلومات کا تبادلہ اور آن لائن انتہا پسندی کی روک تھام کے لیے مربوط حکمت عملی ریاستی صلاحیت میں اضافہ کر سکتی ہے۔ نیکٹا کے مستقبل کے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی بھی اسی وقت نتیجہ خیز ہوگی جب اس کے اختیارات، ذمہ داریاں اور کارکردگی کے پیمانے واضح ہوں۔ افغان شہریوں کے شناختی کارڈز کی منسوخی سے متعلق فراہم کردہ اعداد و شمار بھی شناختی نظام کی شفافیت اور قانونی دستاویزات کی جانچ کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں۔ قومی سلامتی کے تقاضوں کے تحت دستاویزات کی تصدیق ضروری ہے، لیکن ایسے معاملات میں قانون، شواہد اور منصفانہ طریقہ کار کی پابندی بھی اتنی ہی اہم ہے۔ کسی بھی شہری کے حقوق کا فیصلہ محض قومیت یا شناخت کے عمومی تصور کی بنیاد پر نہیں بلکہ متعلقہ قانون اور انفرادی حقائق کے مطابق ہونا چاہیے۔ مضبوط ریاست وہی ہوتی ہے جو سلامتی کے تحفظ کے ساتھ قانونی اصولوں کو بھی برقرار رکھے۔ بلوچستان میں پائیدار امن کے لیے سیکیورٹی آپریشنز کے ساتھ عوامی مسائل کا حل بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ روزگار کے مواقع، معیاری تعلیم، صحت کی سہولتیں، سڑکیں، پانی اور مقامی آبادی کی فیصلہ سازی میں موثر شمولیت ریاست اور شہریوں کے درمیان اعتماد کو مضبوط کرتی ہے۔ دہشت گرد عناصر کو مقامی آبادی سے الگ تھلگ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ شہریوں کو تحفظ، انصاف اور ترقی کے حقیقی مواقع میسر ہوں۔ جب عوام ریاستی اداروں کو اپنی مشکلات کے حل میں شریک پاتے ہیں تو دہشت گردی کے لیے جگہ محدود ہوتی ہے۔ پاکستان کی سلامتی ایک مشترکہ قومی ذمے داری ہے۔ پاک فوج، پولیس، انٹیلی جنس اداروں، وفاقی و صوبائی حکومتوں، عدلیہ، تعلیمی اداروں اور شہریوں کو اپنے اپنے دائرہ کار میں کردار ادا کرنا ہوگا۔ سیکیورٹی اہلکاروں کی قربانیوں کا تقاضا ہے کہ قومی سطح پر انسدادِ دہشت گردی کی حکمت عملی کو مزید موثر، جدید اور مربوط بنایا جائے۔ ساتھ ہی ہر کارروائی کی کامیابی کا جائزہ قابلِ تصدیق نتائج، شہریوں کے تحفظ اور امن کی پائیداری کے پیمانوں پر لیا جائے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ طویل ضرور ہے، مگر قومی عزم، موثر اداروں اور عوامی اعتماد کے امتزاج سے اس کے خطرات کم کیے جا سکتے ہیں۔ بلوچستان میں کارروائیاں ہوں یا ملک بھر میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر اقدامات، اصل مقصد ایک محفوظ، مستحکم اور پُرامن پاکستان ہونا چاہیے۔ ریاستی قوت کی حقیقی کامیابی اسی میں ہے کہ دہشت گردی کے نیٹ ورک کمزور ہوں، انتہا پسندی کی وجوہات کا تدارک ہو اور ہر پاکستانی خود کو محفوظ، بااختیار اور قانون کے تحفظ میں محسوس کرے۔

 

 

 

شذرہ۔۔۔
ملکی معیشت کے لیے نئی امید
پاکستان کی معاشی خودمختاری کا راستہ صرف روایتی صنعتوں اور برآمدات میں اضافے سے نہیں بلکہ قدرتی وسائل کی موثر تلاش، سائنسی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری سے بھی ہو کر گزرتا ہے۔ سندھ کے واحد بخش۔01کنویں سے حاصل زیرِزمین پانی کے نمونے میں لیتھیم کی موجودگی کی اطلاع اسی تناظر میں اہمیت رکھتی ہے۔ آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ ( او جی ڈی سی ایل) کے مطابق نمونے میں لیتھیم کی مقدار 291ملی گرام فی لیٹر ریکارڈ ہوئی ہے۔ یہ ابتدائی نتیجہ امید افزا ضرور ہے، لیکن اسے تجارتی ذخائر کی حتمی تصدیق سمجھنا قبل از وقت ہوگا۔ او جی ڈی سی ایل اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے درمیان معاہدے کے تحت دو ہزار سے زائد پانی کے نمونوں کا تجزیہ ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس تحقیق سے لیتھیم اور نایاب ارضی عناصر کی موجودگی اور مقدار کے بارے میں زیادہ واضح معلومات حاصل ہوسکتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نتائج کی آزادانہ سائنسی جانچ، ممکنہ ذخائر کے حجم اور لیتھیم کے حصول کی لاگت کا تعین شفاف انداز میں کیا جائے۔ لیتھیم جدید بیٹریوں کی تیاری میں اہم خام مال ہے۔ پاکستان میں شمسی توانائی کے بڑھتے استعمال اور بیٹریوں کی درآمدات مقامی صنعت کے لیے نئے امکانات پیدا کرتی ہیں۔ اگر ملک میں قابلِ استخراج اور معاشی طور پر موزوں ذخائر کی تصدیق ہوجاتی ہے تو بیٹری سازی، روزگار، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور درآمدی اخراجات میں کمی کے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔ تاہم صرف خام مال کی دستیابی کافی نہیں، جدید پلانٹس، ہنرمند افرادی قوت، توانائی، سرمایہ اور مضبوط صنعتی پالیسی بھی ضروری ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ معدنی تحقیق کے لیے جامعات، سائنسی اداروں اور نجی شعبے کے درمیان تعاون بڑھائے۔ سرمایہ کاروں کو واضح قواعد، شفاف منظوریوں اور طویل مدتی پالیسیوں کے ذریعے اعتماد فراہم کیا جائے۔ سندھ کے قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والے ممکنہ فوائد میں مقامی آبادی کی شمولیت، ماحول کا تحفظ اور صوبے کے جائز معاشی مفادات بھی یقینی بنائے جائیں۔ اسلام آباد میں پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم جیسے اقدامات اسی وقت نتیجہ خیز ہوں گے جب اعلانات عملی منصوبوں، ذمہ دار سرمایہ کاری اور قابلِ پیمائش نتائج میں تبدیل ہوں۔ سندھ میں لیتھیم کے ابتدائی آثار ایک موقع ہیں، حتمی کامیابی نہیں۔ پاکستان کو امید کے ساتھ تحقیق، احتیاط اور منصوبہ بندی کا راستہ اختیار کرنا ہوگا تاکہ ممکنہ معدنی دولت قومی ترقی کا حقیقی ذریعہ بن سکے۔

جواب دیں

Back to top button