ColumnTajamul Hussain Hashmi

اداروں کو اپنی ترجیحات کو بدلنا ہو گا

اداروں کو اپنی ترجیحات کو بدلنا ہو گا
تجمّل حسین ہاشمی
دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ جرائم کے طریقے بدل چکے ہیں ۔ پیسے کی منتقلی کے راستے بدل گئے ہیں۔ فراڈ کرنے والوں نے انٹرنیٹ مصنوعی ذہانت، جعلی ویب سائٹس اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے تفتیشی ادارے بھی اسی رفتار سے خود کو جدید بنا رہے ہیں، یا اب بھی روایتی چھاپوں گرفتاریوں اور اہلِ خانہ کو دبائو میں لانے کے طریقوں پر زیادہ انحصار کیا جاتا ہے؟۔20اکتوبر 2026ء کو انڈپینڈنٹ اردو میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ نے اس سوال کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی ( این سی سی آئی اے) لاہور زون نے جعلی امریکی ڈاک ٹکٹوں کی آن لائن فروخت کے مبینہ فراڈ میں مطلوب فہیم اکرم کو گرفتار کیا ہے۔ حکام کے مطابق اگست 2023ء سے ستمبر 2026ء تک LabelsBank.com کے نام سے ایک ویب سائٹ چلائی گئی جس کے ذریعے50 لاکھ سے زائد جعلی امریکی ڈاک ٹکٹ فروخت کیے گئے۔ اس کاروبار کی مجموعی مالیت قریباً 35ارب روپے بتائی گئی ہے ۔ امریکہ نے بھی ملزم کی گرفتاری میں مدد دینے پر ایک لاکھ ڈالر کے انعام کا اعلان کیا تھا۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ مبینہ مالی لین دین کے لیے 16بینک اکائونٹس استعمال ہوئے ہیں جن میں ملزم کے علاوہ اس کے بھائی، اہلیہ، بہن اور خالہ کے اکائونٹس بھی شامل تھے۔ تفتیشی ٹیموں نے مصنوعی ذہانت سمیت جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے 122کال ڈیٹا ریکارڈز 50آئی ایم ای آئی ٹریکنگ رپورٹس اور 120کیمروں کی ویڈیو و آڈیو ریکارڈنگز کا تجزیہ کیا۔ پنجاب، اسلام آباد اور سندھ میں 35 مقامات پر چھاپے مارے گئے اور 47افراد سے پوچھ گچھ کی گئی ۔ ان تفصیلات سے واضح ہوتا ہے کہ جدید جرائم کی تفتیش میں ٹیکنالوجی کتنی اہم ہو چکی ہے۔ اسی خبر میں 59افراد کی گرفتاریوں کا بھی ذکر ہے، لیکن یہ گرفتاریاں لاہور میں تین مختلف مبینہ غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف الگ کارروائیوں سے متعلق بتائی گئی ہیں۔ ان تمام افراد کو ڈاک ٹکٹوں کے فراڈ میں ملوث سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ تفتیش کا مرکز ملزم کا خاندان ہونا چاہیے یا جرم کے ٹھوس شواہد ؟۔ اگر کسی ملزم کے بھائی، بہن، اہلیہ یا کسی دوسرے رشتہ دار کے بینک اکائونٹ میں مشکوک رقم منتقل ہوئی ہے تو اس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔
بینک ریکارڈ رقم کے ذرائع ڈیجیٹل لین دین ویب سائٹ کی ملکیت سرورز کا ڈیٹا ای میلز مالیاتی رابطوں اور دیگر متعلقہ شواہد کی بنیاد پر ہر شخص کا انفرادی کردار متعین کیا جانا چاہیے۔ اگر کسی رشتہ دار نے جان بوجھ کر جرم میں معاونت کی ہے تو قانون اس کے خلاف کارروائی کرے لیکن محض رشتہ دار ہونے کی بنیاد پر کسی شخص کو مجرم سمجھ لینا انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ کسی ملزم کی بہن بھائی یا دیگر رشتہ داروں کے گھروں پر چھاپے مارنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ ان کے خلاف شواہد کیا ہیں؟ کیا ان کے اکائونٹس میں مشکوک رقم ٹرانسفر ہوئی ہے ؟ کیا انہوں نے مبینہ فراڈ میں کوئی عملی کردار ادا کیا؟ کیا ان کے ڈیجیٹل آلات یا مالیاتی معاملات میں جرم سے تعلق ظاہر ہوتا ہے؟ اگر ان سوالات کے جواب موجود ہیں تو قانونی طریقے سے کارروائی کی جائے۔ اگر مقصد صرف خاندان پر دبائو ڈال کر ملزم تک پہنچنا ہو تو یہ طرزِ عمل قابلِ سوال ہے۔ رات کے وقت چھاپوں کے معاملے میں بھی قانونی ضرورت اور تناسب کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔ جہاں فوری کارروائی ضروری ہو، وہاں قانون کے مطابق اقدام کیا جا سکتا ہے، لیکن محض خوف پیدا کرنا تفتیش کا مقصد نہیں ہونا چاہیے۔ کسی گھر میں خواتین بچے بزرگ اور ایسے افراد بھی رہتے ہیں جن کا مبینہ جرم سے کوئی تعلق نہیں ہوتا تو ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ مجرم کو قانون کے کٹہرے میں لائے نہ کہ بے گناہ اہلِ خانہ کو اجتماعی سزا جیسی صورتِ حال سے دوچار کرے۔
سائبر کرائم کی تفتیش اب صرف روایتی چھاپوں سے مکمل نہیں ہو سکتی۔ اگر کوئی شخص انٹرنیٹ کے ذریعے لاکھوں جعلی ڈاک ٹکٹ فروخت کرتا ہے تو اس کے پیچھے ڈیجیٹل اور مالیاتی شواہد کی ایک پوری زنجیر موجود ہو سکتی ہے۔ اس زنجیر کو جوڑنے کے لیے جدید فرانزک لیبارٹریاں مالیاتی جرائم کے ماہرین ڈیجیٹل شواہد کا محفوظ تجزیہ اور مصنوعی ذہانت پر مبنی معاون نظام بینکوں کے ساتھ موثر رابطہ کرپٹو کرنسی کی صورت میں رقوم کی نقل و حرکت کا تجزیہ اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ قانونی تعاون ضروری ہے۔ مصنوعی ذہانت مشکوک لین دین کے پیٹرن کی نشان دہی کر سکتی ہے۔ ڈیجیٹل فرانزک ماہرین ویب سائٹ کے ریکارڈ ڈیوائسز اور متعلقہ فائلوں کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ مالیاتی تفتیش کار یہ معلوم کر سکتے ہیں کہ رقم کہاں سے آئی کن اکانٹس میں منتقل ہوئی اور آخرکار کس کے قبضے میں پہنچی ۔ بین الاقوامی تعاون سے غیر ملکی متاثرین ادائیگیوں کے ذرائع اور متعلقہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے شواہد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم ٹیکنالوجی خود فیصلہ نہیں کرتی کہ کون مجرم ہے۔ مصنوعی ذہانت سے حاصل ہونے والے نتائج کی انسانی جانچ شواہد کی تصدیق ڈیٹا کی رازداری اور قانونی نگرانی بھی ضروری ہے۔ ڈیجیٹل ریکارڈ کو اس انداز میں محفوظ کرنا چاہیے کہ عدالت میں اس کی اصلیت اور قابلِ اعتماد ہونے کا تعین کیا جا سکے۔این سی سی آئی اے کی اس کارروائی میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا ذکر ایک مثبت پیش رفت ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس طریقہ کار کو مستقل ادارہ جاتی نظام بنایا جائے۔ ہر بڑے سائبر فراڈ کی تفتیش میں تربیت یافتہ ڈیجیٹل فرانزک ٹیمیں مالیاتی ماہرین اور واضح قانونی طریقہ کار موجود ہونا چاہیے۔ تفتیش کی کامیابی چھاپوں کی تعداد سے نہیں بلکہ قابلِ اعتماد شواہد اصل مجرموں کی شناخت اور غیر قانونی رقوم کی بازیابی اور عدالت میں مقدمہ ثابت ہونے سے ناپی جانی چاہیے۔ گرفتار کرنا اور جرم ثابت کرنا دو الگ مراحل ہیں۔ کسی بھی ملزم کو عدالت سے جرم ثابت ہونے تک قانونی طور پر بے گناہ تصور کیا جانا چاہیے۔ میڈیا ٹرائل غیر مصدقہ الزامات اور خاندان کے تمام افراد کو ایک ہی نظر سے دیکھنے کا رویہ انصاف کے عمل کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
ریاست کی طاقت صرف اس بات میں نہیں کہ وہ کسی شخص کو گرفتار کر سکتی ہے بلکہ اصل طاقت اس میں ہے کہ وہ شواہد کی بنیاد پر مجرم کو سزا دلوائے اور متاثرین کو انصاف فراہم کرے اور بے گناہ شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرے۔ ہمارے تفتیشی ادارے اپنی ترجیحات بدلیں۔ سائبر جرائم کے دور میں تفتیش کا معیار جدید ٹیکنالوجی، مضبوط فرانزک شواہد مالیاتی نگرانی بین الاقوامی تعاون اور قانون کی پابندی ہونا چاہیے۔ خاندان کے کسی فرد کے خلاف کارروائی صرف اس کے ثابت شدہ یا قابلِ تفتیش انفرادی کردار کی بنیاد پر ہونی چاہیے اور نہ کہ اس کے رشتے کی بنیاد پر ہو مجرم جدید ٹیکنالوجی سے بچ نہ سکے لیکن ایک بے گناہ شہری بھی محض کسی کا بھائی بہن بیوی یا رشتہ دار ہونے کی وجہ سے خوف اور تذلیل کا شکار نہ ہو۔ کیونکہ انصاف کا مطلب صرف مجرم تک پہنچنا نہیں بلکہ اس راستے میں بے گناہ لوگوں کے حقوق کو محفوظ رکھنا بھی ہے۔

جواب دیں

Back to top button