Column

روشن مستقبل کے خواب

اداریہ۔۔۔۔
روشن مستقبل کے خواب
کسی قوم کی حقیقی دولت اس کے خزانے، بلند و بالا عمارتیں یا وسائل کے انبار نہیں، بلکہ اس کے بچے ہوتے ہیں۔ بچے اگر تعلیم، تربیت اور آگے بڑھنے کے مساوی مواقع سے محروم رہ جائیں تو قوم کا مستقبل بھی محرومیوں کے اندھیروں میں گم ہونے لگتا ہے۔ اس کے برعکس اگر کسی معاشرے میں ایک غریب گھرانے کا ذہین بچہ بھی اپنی صلاحیتوں کے بل پر کامیابی کی منزلیں طے کر سکے تو یہ محض ایک فرد کی کامیابی نہیں، پوری قوم کے مستقبل کی فتح ہوتی ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے اسلام آباد میں دانش اسکول کا افتتاح اسی اہم قومی ضرورت کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ پاکستان کا کوئی بھی باصلاحیت بچہ محض غربت کی وجہ سے اپنے خوابوں سے دست بردار نہ ہو۔ مُلک میں غربت صرف روٹی، کپڑے اور مکان کا مسئلہ نہیں، یہ تعلیم، صحت، اعتماد اور مواقع تک رسائی کا مسئلہ بھی ہے۔ بہت سے گھرانوں میں ذہانت کی کمی نہیں، لیکن وسائل کی تنگی بچوں کے خوابوں کے راستے میں دیوار بن جاتی ہے۔ کسی کے والد کا سایہ بچپن ہی میں اٹھ جاتا ہے، کسی کا باپ مزدوری کرکے بھی تعلیمی اخراجات پورے نہیں کر پاتا اور کسی کی باصلاحیت بیٹی مناسب سہولتوں کی عدم دستیابی کی باعث تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہوجاتی ہے۔ ایسے حالات میں دانش اسکول جیسے ادارے امید کی وہ کرن بن سکتے ہیں جو محرومی کو امکان میں اور بے بسی کو خود اعتمادی میں بدل دے۔ وزیراعظم نے دانش اسکولوں کے قیام کا مقصد واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ مستحق بچوں کو ملک کے ممتاز تعلیمی اداروں کے ہم پلہ، بلکہ ان سے بہتر تعلیم فراہم کی جائے۔ یہ تصور اپنی جگہ نہایت اہم ہے، کیونکہ معیاری تعلیم کسی مخصوص طبقے کی جاگیر نہیں ہونی چاہیے۔ ایک امیر گھرانے کا بچہ اگر جدید سائنس، ٹیکنالوجی، تحقیق اور بہترین اساتذہ تک رسائی حاصل کر سکتا ہے تو غریب کا ذہین بچہ بھی اسی معیار کی تعلیم کا حق دار ہے۔ قومیں اسی وقت ترقی کرتی ہیں جب صلاحیت کی قدر خاندان کے مالی مرتبے سے نہیں بلکہ بچے کی محنت، قابلیت اور کردار سے کی جاتی ہے۔ اسلام آباد کے دانش اسکول میں تیس ایکڑ رقبے پر قائم تعلیمی ڈھانچہ، طلبہ و طالبات کے الگ تعلیمی بلاکس، سائنس، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور روبوٹکس لیبارٹریاں، ای لائبریری اور آرٹ روم اس امر کی علامت ہیں کہ جدید تعلیم اب محض کتابیں پڑھنے اور امتحانات پاس کرنے تک محدود نہیں رہی۔ آج کے طالب علم کو سائنسی شعور، تخلیقی صلاحیت، تنقیدی فکر، ڈیجیٹل مہارت اور عملی زندگی کے تقاضوں سے ہم آہنگ تربیت درکار ہے۔ تاہم عمارتوں اور جدید آلات کی افادیت اسی وقت سامنے آتی ہے جب ان کے ساتھ معیاری تدریس، تربیت یافتہ اساتذہ، موثر نگرانی اور طلبہ کی انفرادی صلاحیتوں کو نکھارنے کا ماحول بھی میسر ہو۔ اسکول میں ملک کے مختلف علاقوں سے 360بچوں کو میرٹ پر داخلہ دینا بھی ایک مثبت پیش رفت ہے۔ شمالی وزیرستان، کرک، ڈیرہ اسماعیل خان، سندھ، بلوچستان، پنجاب اور گلگت بلتستان سمیت مختلف خطوں کے طلبہ جب ایک ہی تعلیمی ماحول میں آگے بڑھتے ہیں تو ان کے درمیان صرف علم کا تبادلہ نہیں ہوتا، بلکہ ایک دوسرے کی ثقافت، زبان، روایات اور مسائل کو سمجھنے کے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔ یوں تعلیمی ادارہ قومی یکجہتی کی عملی درس گاہ بن سکتا ہے۔ پاکستان کی خوبصورتی اس کے مختلف رنگوں میں ہے اور ان رنگوں کو ایک قومی تصویر میں ڈھالنے کا بہترین ذریعہ معیاری اور مشترکہ تعلیم ہے۔ دانش اسکولوں سے فارغ التحصیل طلبہ کا ڈاکٹر، انجینئر، پولیس افسر، استاد اور دیگر شعبوں میں خدمات انجام دینا اس منصوبے کے ممکنہ ثمرات کی نشان دہی کرتا ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے ان طلبہ کی کامیابیوں کا ذکر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ مواقع میسر ہوں تو محروم گھرانوں کے بچے بھی معاشرے کے کارآمد اور ذمے دار شہری بن سکتے ہیں۔ لیکن کامیابی کی انفرادی داستانوں کو ایک وسیع قومی تبدیلی میں بدلنے کے لیے ضروری ہے کہ یہ نظام چند اداروں یا محدود علاقوں تک محصور نہ رہے۔ اس ضمن میں حکومت کو دانش اسکولوں کے پھیلائو کے ساتھ ان کے معیار اور تسلسل پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ وزیراعظم کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں میں 27دانش اسکول زیر تعمیر ہیں۔ ان منصوبوں کی تکمیل کے لیے شفاف نگرانی، مناسب بجٹ، اہل اساتذہ کی دستیابی اور تعلیمی نتائج کا باقاعدہ جائزہ ضروری ہے۔ داخلوں میں میرٹ کے ساتھ مستحق بچوں کی حقیقی ضرورت کو بھی ملحوظ رکھا جائے، تاکہ یہ ادارے سفارش یا اثر و رسوخ کے بجائے قابلیت اور ضرورت کی بنیاد پر مواقع فراہم کریں۔ اسی طرح طالبات کی تعلیم، محفوظ رہائش، غذائیت، ذہنی صحت اور کھیلوں کی سہولتوں کو بھی تعلیمی منصوبہ بندی کا لازمی حصہ بنایا جانا چاہیے۔ یہ حقیقت بھی فراموش نہیں ہونی چاہیے کہ دانش اسکول اہم اقدام ضرور ہیں، مگر پورے تعلیمی بحران کا واحد حل نہیں۔ پاکستان کے سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم کروڑوں بچوں کو بھی بہتر عمارتیں، صاف پانی، فعال اساتذہ، بنیادی سہولتیں اور جدید تدریسی وسائل درکار ہیں۔ اگر چند اداروں میں بہترین سہولتیں فراہم کردی جائیں لیکن عام سرکاری اسکول بنیادی ضروریات سے محروم رہیں تو تعلیمی عدم مساوات کی خلیج برقرار رہے گی۔ دانش اسکولوں کے تجربے سے حاصل ہونے والے موثر تدریسی طریقوں، تربیتی ماڈلز اور انتظامی اصلاحات کو دوسرے سرکاری اداروں تک بھی پہنچانا چاہیے۔ اصل کامیابی تب ہوگی جب معیاری تعلیم کسی استثنائی سہولت کے بجائے ہر بچے کا قابلِ حصول حق بن جائے۔ قائداعظمؒ کے پاکستان کا تصور بھی ایسے معاشرے سے وابستہ ہے جہاں شہریوں کو ترقی کے منصفانہ مواقع حاصل ہوں۔ ایک ایسا ملک جہاں یتیم بچے کو اپنے مستقبل کے لیے مایوس نہ ہونا پڑے، مزدور کی بیٹی اپنی صلاحیتوں کے اظہار سے محروم نہ رہے اور کسی نوجوان کی منزل صرف اس لیے محدود نہ ہوجائے کہ اس کے والدین صاحبِ ثروت نہیں۔ یہ منزل محض تقریروں سے حاصل نہیں ہوگی، اس کے لیے مسلسل سرمایہ کاری، شفاف پالیسی، مضبوط اداروں اور سیاسی ترجیحات میں تعلیم کو حقیقی اہمیت دینا ہوگی۔ دانش اسکول کی اصل کامیابی اس کی عمارت یا افتتاحی تقریب سے نہیں بلکہ ان خوابوں سے ناپی جائے گی جو یہاں پروان چڑھیں گے، ان ذہنوں سے جو تحقیق اور تخلیق کی راہ اختیار کریں گے اور ان زندگیوں سے جنہیں غربت کے اندھیروں سے نکال کر خودداری اور خدمت کا راستہ دکھایا جائے گا۔ ریاست اگر اپنے محروم بچوں کا ہاتھ تھام لے تو یہی بچے کل ریاست کو سنبھالنے کے قابل ہوسکتے ہیں۔ ضرورت اس عزم کو مستقل قومی پالیسی میں بدلنے کی ہے کہ پاکستان میں کسی بچے کا مستقبل اس کے والدین کی غربت کا اسیر نہ رہے۔ یہی تعلیم کا انصاف، یہی قومی ترقی اور یہی روشن پاکستان کی حقیقی بنیاد ہے۔

 

شذرہ۔۔۔
دہشت گرد جلد انجام کو پہنچیں گے
بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ امن و استحکام کسی بھی ریاست کی ترقی، خوش حالی اور قومی یکجہتی کے لیے بنیادی شرط ہیں۔ کوئٹہ، نوشکی اور خضدار میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کیے گئے آپریشنز کے دوران آٹھ دہشت گردوں کی ہلاکت، دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی تباہی اور بھاری مقدار میں دھماکا خیز مواد کی برآمدگی، آئی ایس پی آر کے مطابق، دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ ان کارروائیوں کی اہمیت محض عسکری کامیابی تک محدود نہیں، بلکہ اس کا تعلق شہریوں کے تحفظ اور معمولاتِ زندگی کی بحالی سے بھی ہے۔ اطلاعات کے مطابق پنج پائی میں دہشت گردوں کی جانب سے سڑک پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش ناکام بنائی گئی جب کہ خضدار میں ایک کارروائی کے دوران 490 کلوگرام دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا۔ یہ تفصیلات اس امر کی نشان دہی کرتی ہیں کہ دہشت گردی کا خطرہ صرف مسلح حملوں تک محدود نہیں۔ سڑکوں کی بندش، خوف و ہراس اور شہری نقل و حرکت میں رکاوٹ بھی عوامی زندگی اور معاشی سرگرمیوں کو متاثر کرتی ہے۔ ایسے خطرات کی روک تھام کے لیے مستند انٹیلی جنس، اداروں کے درمیان موثر رابطہ اور بروقت کارروائی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ بلوچستان قدرتی وسائل، ساحلی اہمیت، معدنی ذخائر اور جغرافیائی محلِ وقوع کے اعتبار سے پاکستان کا ایک اہم صوبہ ہے۔ اس خطے میں بدامنی کا اثر مقامی آبادی کے ساتھ قومی معیشت اور ترقیاتی منصوبوں پر بھی پڑتا ہے۔ دہشت گردی کا مقابلہ کرتے ہوئے ضروری ہے کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح رہے، کارروائیاں قانون کے مطابق ہوں اور بے گناہ افراد کو نقصان سے بچانے کے لیے ہر ممکن احتیاط برتی جائے۔ عوام کا اعتماد ہی انسدادِ دہشت گردی کی پائیدار کامیابی کی بنیاد بنتا ہے۔ آئی ایس پی آر نے بھارتی سرپرستی میں سرگرم عناصر کا ذکر کرتے ہوئے انسدادِ دہشت گردی مہم جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ایسے الزامات سے متعلق حقائق کی جانچ اور شواہد کی بنیاد پر مثر سفارتی و قانونی اقدامات بھی اہم ہیں۔ دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو ختم کرنے کے لیے صرف عسکری کارروائیاں کافی نہیں، مالی معاونت کی روک تھام، سرحدی نگرانی، نوجوانوں کے لیے تعلیم و روزگار اور مقامی آبادی کی شکایات کا ازالہ بھی ناگزیر ہے۔ پاکستان کو ایسا بلوچستان درکار ہے جہاں خوف کے بجائے امن، محرومی کے بجائے مواقع اور تشدد کے بجائے ترقی کو فروغ ملے۔ سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو پائیدار نتائج میں بدلنے کے لیے حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کو مشترکہ جدوجہد کرنا ہوگی۔ دہشت گردی کا خاتمہ اسی وقت ممکن ہے جب ریاستی قوت کے ساتھ انصاف، اعتماد اور ترقی بھی آگے بڑھیں۔

جواب دیں

Back to top button