ColumnImtiaz Aasi

خان کی مردم شناسی اور پی ٹی آئی کا مستقبل

خان کی مردم شناسی اور پی ٹی آئی کا مستقبل
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
پاکستان کی سیاسی تاریخ اس امر کی شائد ہے دھونس اور جبر سے کسی سیاسی جماعت کو ختم نہیں کیا جا سکا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد بعض حلقوں کو اس بات کا پورا یقین تھا پیپلز پارٹی کا وجود ختم ہو چکا ہے مگر کئی عشرے گزرنے کے باوجود بھٹو کی پارٹی موجود ہے۔ یہ علیحدہ بات ہے وقتی طور پر جبر سے کسی سیاسی جماعتوں کو کھڈے لائن تو لگایا جا سکتا ہے لیکن ایسی جماعتوں کو مستقل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ بعض حلقوں کے نزدیک کے پی کے میں پی ٹی آئی کی حکومت کے خاتمے اور عمران خان کو قید و بند میں رکھنے سے پی ٹی آئی کا وجود ختم ہو سکتا ہے وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ اگرچہ بھٹو کی پھانسی اور بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد بھٹو کی پارٹی کی مقبولیت کا گراف بہت زیادہ گر چکا ہے تاہم بھٹو کی پارٹی زندہ ہے۔ اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں بانی پی ٹی آئی عمران خان مردم شناس نہیں ہے، اگر انہیں لوگوں کی پہچان ہوتی وہ نہ تو جیل میں ہوتے، نہ ہی ان کی جماعت اقتدار سے ہٹائی جا سکتی تھی۔ عمران خان کی پارٹی میں اکثریت ان لوگوں کی تھی جو طالع آزماء اور ہوا کے رخ کے ساتھ چلنے والے تھے۔ ہاں البتہ پی ٹی آئی میں شاہ محمود قریشی، میاں محمودالرشید، اعجاز چودھری، محترمہ ڈاکٹر یاسمین راشد اور دیگر کئی ایسے رہنما موجود ہیں جو قیدوبند میں رہنے کے باوجود طاقتور حلقوں کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کو کسی قیمت پر تیار نہیں۔ عمران خان کے ساتھ دوستی کا دم بھرنے والے آج کہاں ہیں۔ عمران خان کی مردم شناسی کا یہ عالم ہے جس نے عامر کیانی جیسے لوگوں کو وفاقی وزارت صحت دے دی، حالانکہ کیانی جیسے لوگ کونسلر بننے کے قابل نہیں تھے۔ فواد چودھری، عثمان بزدار اور جانے بے شمار لوگ ایسے ہیں جو مشکل پڑتے ہی خان کا ساتھ چھوڑ کر طاقتور حلقوں کی گود میں جا کر بیٹھ گئے۔ بلاشبہ پارٹی کا جنازہ نکالنے میں خان کی بہنوں خصوصا حلمیہ باجی کا بڑا ہاتھ ہے، جو جذبات کی رو میں جانے کے بعد کیا کچھ کہہ جاتی ہیں۔ اس حقیقت میں دو آرا ء نہیں بہنوں کی بھائیوں سے محبت لازوال ہوتی ہے، بھائی کو تکلیف میں دیکھ کر بہنیں چین سے کہاں بیٹھ سکتی ہیں، لیکن عمران خان کی بہنوں نے اڈیالہ روڈ پر دھرنے دے کر اپنی توانائیوں کو بلا وجہ ضائع کیا۔ اچھی بھلی ملاقات ہو رہی تھی، عمران خان کی بہنوں نے بیانات دے کر طاقتور حلقوں کی ناراضی مول لے لی۔ یہ بات پاکستان کے ہر شہری پر آشکار ہو چکی ہے ملک میں اقتدار کا سرچشمہ عوام کی بجائے طاقتور حلقے ہیں، پھر عمران خان کو اقتدار میں کون لایا اس بات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے عمران خان اقتدار میں آنے کے باوجود ڈلیور نہیں کر سکے، الٹا طاقتور حلقوں کی آشیرباد سے محروم کر دیئے گئے۔ اب ہم ماضی کی طرف لوٹتے ہیں۔ قائد اعظمؒ کی مسلم لیگ کے مقابلے میں 1950 ء میں ایوب خان نے کنونشن مسلم لیگ کی بنیاد ر رکھی، جس کے مقابلے میں محترمہ فاطمہ جناحؒ نے کونسل مسلم لیگ قائم کر دی۔ چنانچہ اس طرح مسلم لیگ دو ٹکڑوں میں بٹ گئی۔ پھر وقت نے پلٹا کھایا تو طاقتور حلقوں نے مسلم لیگ نواز کی بنیاد رکھ دی، جس کے بعد مسلم لیگ جونیجو اور مسلم لیگ ضیاء نے آنکھ کھولی۔ پیپلز پارٹی کو جنرل ضیاء الحق نے توڑنے کے لاکھ کوشش کی، اور اس مقصد کے لئے بھٹو کے دیرینہ ساتھی مولانا کوثر نیازی کو استعمال کیا گیا، جنہوں نے پروگرسیو پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔ پھر پیپلز پارٹی کے غلام مصطفیٰ کھر اور سندھ سے سیاست دان مصطفیٰ جتوئی نے نیشنل پیپلز پارٹی قائم کی، جو زیادہ دیر تک نہیں چل سکی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی لگا دی، اور بلوچستان اور اس وقت کے صوبہ سرحد کی حکومتیں ختم کر دیں۔ مفتی محمود اور سردار عطاء اللہ مینگل کو وزارت اعلیٰ سے ہٹا کر ایمرجنسی اور گورنر راج لگا دیا، مگر آج نیشنل عوامی پارٹی ( اے این پی) کے نام سے موجود ہے، اور صوبے میں پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحادی بن کر اقتدار کے مزے لے چکی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اے این پی کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان میں ریفرنس دائر کرکے پارٹی پر پابندی لگوا دی، مگر ولی خان کی جماعت آج بھی زندہ ہے۔ جہاں تک عمران خان کا معاملہ ہے وہ بنیادی طور پر بین الاقوامی شہرت کا کھلاڑی تھا سیاست اس کے بس کی بات نہیں تھی۔ شوکت خاتم ہسپتال بنایا تو اندرون اور بیرون ملکوں سے لوگوں کے اربوں کے فنڈز دیئے۔ درحقیقت عمران خان ایک سماجی بہبود کے کاموں کے لئے شہرت کی بلندیوں پر پہنچ چکا تھا، یہ تو بعض حلقوں کی طرف سے اسے سیاست میں لایا گیا تاکہ پاکستان کی سیاست میں تبدیلی عمل میں لائی جا سکے۔ کوئی مانے نہ مانے عمران خان نے سیاست میں قدم رکھ کر بھی اپنا لوہا منوایا۔ اور جیل میں رہتے ہوئے بھی جھکنے کو تیار نہیں ہے۔ یہ کہنا بھی غلط نہیں ہوگا ذوالفقار علی بھٹو کے بعد ملک میں کوئی سیاست دان طاقتور حلقوں کے سامنے سرنگوں ہونے کو تیار نہیں وہ بانی پی ٹی آئی عمران خان ہے۔ اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد ایک نجی ٹی وی پروگرام میں اس کا کہنا تھا وہ احتساب تو کرنے کا خواہاں تھا مگر اسے احتساب کرنے نہیں دیا گیا، جو ہماری سیاست کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ پاکستان کی سیاست میں کرپشن کرنے والوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے، اور اگر کوئی چھوٹا آدمی جرم کرے اسے سزا دلوا دی جاتی ہے۔ قرون اولیٰ کے دور میں یہی کچھ ہوتا تھا، اگر کوئی بڑا جرم کرتا تو اسے چھوڑ دیا جاتا تھا، اور چھوٹے لوگوں کو سزائیں دے دی جاتی تھیں۔ جو لوگ پی ٹی آئی کے خاتمے کے خواب دیکھ رہے ہیں وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ جن سیاسی جماعتوں کی جڑیں عوام میں ہوں انہیں کوئی ختم نہیں کر سکتا، ہاں البتہ وقتی طور پر انہیں سائیڈ لائن تو کیا جا سکتا ہے، مگر مستقل طور پر ان کا خاتمہ خواب ہی کہا جا سکتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button