لوٹ مار کا بڑھتا ہوا سلسلہ

لوٹ مار کا بڑھتا ہوا سلسلہ
صورتحال
سیدہ عنبرین
انقلاب کے معیار پر اترنے والے دو ہی انقلاب تھے، اس کے علاوہ انقلاب کے نام پر جو کچھ دنیا کے مختلف حصوں میں مختلف اوقات میں ہوتا رہا، وہ دراصل خفیہ ایجنسیوں کی کارستانیاں تھیں، پسندیدہ گروہ کو اقتدار میں لانا، اور صاحبان اقتدار کا تختہ الٹنا، اور اس کھیل کو سمجھنا اب چنداں مشکل نہیں رہا۔ واقعات کی کڑیاں ملاتے جائیے، سب کچھ روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتا ہے۔ انقلاب فرانس ہو، یا انقلاب ایران، دونوں کی وجوہات قدرے ملتی جلتی تھیں۔ اشرافیہ کی لوٹ مار اور عام آدمی روٹی کے دو لقموں کو ترستا نظر آیا، اس چلن کے خلاف آواز بلند کرنے والے یوں غائب کر دیئے جاتے جیسے کبھی ان کا وجود تھا ہی نہیں۔ انقلاب فرانس کے پس منظر میں ایک طرف تو بھوک تھی، دوسری طرف صاحبان اقتدار کی عیاشیاں تھیں۔ غروب آفتاب کے بعد اعلیٰ ترین شرابوں کے جام لنڈھائے جاتے، رقص و سرور کی محفلیں اپنا رنگ جمانا شروع کر دیتیں، بھوک کے ہاتھوں مجبور ہو کر مائوں نے اپنے بچے فروخت کرنے شروع کر دیئے، لیکن یہ ان کی بھوک کا مستقل علاج نہ تھا، تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق بھوکے عوام روٹی مانگنے کیلئے سڑکوں پر نکل آئے تو ان پر بہیمانہ تشدد شروع کر دیا گیا، ستم بالائے ستم ملکہ فرانس کے دو جملوں نے قہر برپا کر دیا، اس نے پوچھا سڑکوں پر ہجوم کیسا ہے، لوگ کیا چاہتے ہیں، انہیں بتایا گیا ان کے پاس کھانے کو روٹی نہیں ہے، وہ روٹی مانگ رہے ہیں، جس پر ملکہ نے جواب دیا اگر ان کے پاس کھانے کو روٹی نہیں ہے تو انہیں چاہئے کیک کھا لیں۔ اندازہ کیجئے کتنی بھولی ملکہ تھی، ایسی ملکائیں ہر دور، ہر زمانے میں پائی جاتی ہیں، ملکہ کے جواب نے عوام کے زخموں پر نمک کا کام کیا، لوگ بپھر گئے، پہلے مرحلے میں صرف احتجاج تھے، دوسرے مرحلے میں خونی احتجاج، لیکن اس میں عوام کا خون بہایا گیا، تیسرے مرحلے میں بھوکے عوام اشرافیہ کے محلات میں گھس گئے، ان کے اہل خاندان کو گھسیٹ گھسیٹ کر باہر نکالا، کسی پر تیل چھڑک کر اسے آگ لگا دی، کسی کا گلا گھونٹ دیا، اور بہت سوں کو چوک چوراہوں پر پھانسیاں دے دی گئیں۔ یہ سلسلہ کئی ماہ تک چلتا رہا، لیکن عوامی غیض و غضب اس وقت کم ہوا جب شاہی خاندان اور ان کے چیلے چانٹے اور متمول افراد اپنے انجام کو پہنچ گئے۔
انقلاب ایران تو ابھی کل کی بات ہے، ملکی وسائل پر قابض اور اسے بے دریغ لوٹنے والے ٹولے کا جو انجام ہوا وہ کسی کو نہ بھولا ہو گا۔ شہنشاہ ایران، ان کے خاندان اور ان کے حواریوں کو زمین کے کسی کونے میں پناہ نہ ملی، انقلاب فرانس کی طرح انقلاب ایران میں زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والوں کا کردار واضع تھا، خواتین مردوں کے شانہ بشانہ تھیں، اور کمسن بچے اشرافیہ کی گولیوں کو اپنے سینے پر روکتی نظر آئے، ہزاروں افراد اس انقلاب کی راہ میں قربان ہو گئے، پھر سستے اور فوری انصاف اور احتساب کا عمل شروع ہوا، ہر آنے والی صبح درجن بھر افراد کی لاشیں شہر کے مختلف چوکوں میں لٹکی نظر آتیں۔ آج ایران کرائم فری سوسائٹی ہے، مجرم جرم کرنے کے بعد محض چند گھنٹے میں گرفتار کر لیا جاتا ہے، اور کیفر کردار تک پہنچ جاتا ہے، کیونکہ حکمران طبقے میں صاحب کردار افراد ہیں، کوئی کسی کے جرم پر پردہ ڈالنے کی ہمت و جرات نہیں کر سکتا۔
بنگلہ دیش میں آنے والے انقلاب کی وجوہات بھی مختلف نہ تھیں۔ شیخ حسینہ کا خاندان اور ان کے پیاروں کے ٹولے ہر جگہ پر قابض تھے، لوٹ مار انتہا کو پہنچ چکی تھی، عام آدمی کا پرسان حال کوئی نہ تھا، تعلیم یافتہ نوجوان اور لڑکیاں سڑکوں پر رل رہے تھے۔ پیمانہ صبر لبریز ہوا تو یہی نوجوان سڑکوں پر نکل آئے، ان کے ساتھ بچے، بزرگ اور خواتین بھی شامل ہو گئیں۔ حسینہ شیخ کے قدم اکھڑ گئے، ان کے بعض وزراء کو گھروں سے نکال چوک میں کھڑا کر کے برہنہ کرنے کے بعد ان پر جان لیوا تشدد ہوا۔
اب یوں محسوس ہوتا ہے جسے باری امریکہ، برطانیہ اور یورپ کے دیگر شہروں کی ہے۔ بھوکے عوام ماضی قریب میں سپین کے نواحی علاقوں سے لاکھوں کی تعداد میں سپین میں داخل ہوئے تھے، جنہیں بہتر حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے پیار و محبت سے واپس ان کے علاقوں میں بھجوا دیا گیا، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ آج فرانس میدان جنگ ہے، اس کے بڑے بڑے شہروں میں غدر مچا ہوا ہے۔ دکانوں، ہوٹلوں، بینکوں، ٹورسٹ ریزارٹ اور برینڈڈ اشیاء کے سٹور بھوکوں کے رحم و کرم پر ہیں، لوٹ مار اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے، کسی کی زندگی محفوظ نہیں، سیکڑوں قیمتی گاڑیاں اور قیمتی املاک نذر آتش کی جا چکی ہیں، جن میں لیموڑا میں واقعہ 143سال پرانے ٹائون ہال کی عمارت بھی شامل ہے۔ اس عمارت سے آگ کے شعلے بلند ہوئے تو مظاہرین خوشی سے رقص کرتے نظر آئے، مظاہرین نے ان پر تشدد کرنے والے متعدد پولیس اہلکاروں کو خون میں نہلا دیا۔
اٹلی کی وزیراعظم ملونیا کا نظام تعلیم کے حوالے سے اور خصوصاً مسلمان طلبا کے حوالے سے کیا گیا فیصلہ ان کے گلے پڑ گیا ہے، اب انہیں حالات کو سنبھالنے میں مشکلات کا سامنا ہے، انہوں نے چند روز قبل اٹلی کی سب سے زیادہ عرصہ تک وزیراعظم رہنے کا ریکارڈ توڑا ہے، لیکن آج ان کے اقتدار کی کرسی ڈگمگا گئی ہے۔
البانیہ میں ٹرمپ خاندان کی ملکیت میں ایک جزیرے کو دیئے جانے کے بعد وہاں بھی عوام مشتعل ہو کر سڑکوں پر آ چکے ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ کے اہم شہروں میں بھی حالات پرسکون نہیں ہیں۔ فرانس میں اب تک دو ہزار کے قریب مظاہرین کو گرفتار کیا جا چکا، گھر گھر تلاشی اور چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ دیگر ممالک کے اہم شہروں میں بھی یہی منظر ہے، کہیں تارکین وطن، تو کہیں مسلمان ممالک سے آنے والوں کو جرائم میں ملوث ہونے پر ان کے خلاف پورے یورپ میں ایک مہم اپنے عروج پر ہے۔ مسلمان خاندان اپنی جان بچانے کے خوف سے بیک فٹ پر ہیں، اور یورپی جرائم اور ان کے پراپیگنڈے کا موثر جواب کے قابل نظر نہیں آتے۔ دوسری طرف مسلمان ممالک امریکی اور اسرائیلی منصوبے کے تحت آپس میں برسر پیکار ہیں، اور ازخود اختیارات کے تحت جنگ کو مختلف ممالک تک پھیلانے میں لاشعوری اور شعوری کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں، وہ اپنی تباہی سے بے نیاز نظر آتے ہیں۔ عجب بے نیازی ہے، چند ماہ پیچھے چلیں اور دیکھیں کہ دنیا بھر میں یہ فساد کب اور کہاں سے شروع ہوا، تو یہ بات واضع ہوتی ہے بنیادی وجہ اسرائیل اور امریکہ کا ایران پر بلاجواز حملہ تھا، جس کے جواب میں کی گئی ایرانی حکمت عملی نے دنیا بھر کی چیخیں نکلوا دیں، پٹرول بند، گیس بند، آبنائے ہرمز بند، اور بحر المندب بند ہوا تو گویا سب کچھ بند ہو گیا۔ ٹرمپ ٹیرف نے بھی اپنا کردار ادا کیا، مہنگائی آسمان پر جا پہنچی۔ آج ہر طرف افراتفری اور لوٹ مار ہے، ابھی یہ سلسلہ آگے بڑھے گا۔





