قرض کے ڈالر، درآمدی گاڑیاں اور معاشی خود فریبی

قرض کے ڈالر، درآمدی گاڑیاں اور معاشی خود فریبی
تحریر: ابراہیم حسن مراد ( سابق صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب)
ہماری قومی معیشت کا المیہ وسائل کی کمی نہیں، بلکہ دستیاب وسائل، قیمتی زرمبادلہ اور مستقبل کی آمدنی کو دانش مندی سے استعمال نہ کرنا ہے۔ ہم ایک طرف عالمی مالیاتی اداروں سے مسلسل قرض لیتے، سخت شرائط قبول کرتے، ٹیکسوں اور مہنگائی کا بوجھ عوام پر ڈالتے اور بجلی کے نرخ بڑھاتے ہیں، مگر دوسری طرف ادھار لیے گئے ان قیمتی ڈالروں کا بڑا حصہ ایسی درآمدات پر خرچ کر دیتے ہیں جو نہ توبرآمدات میں قابلَ ذکر اضافہ کرتی ہیں، نہ صنعتی پیداوار کی رفتار بڑھاتی ہیں اور نہ ہی قرضوں سے نجات کی ضمانت دیتی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ جب ہم آئی ایم ایف سے اربوں ڈالر قرض لینے کے لیے مہینوں مذاکرات کرتے، ہر قسط کے ساتھ نئی شرائط قبول کرتے اور پھر ان قرضوں پر سود بھی ڈالروں میں ادا کرتے ہیں، تو کیا اسی دوران گاڑیوں کے انجن، تیار شدہ گاڑیوں اور دیگر درآمدات پر اربوں ڈالر خرچ کرنا دانش مندی ہے؟ اگر ہماری برآمدات بیرونی اخراجات برداشت کرنے کے لیے کافی نہیں تو درآمدات پر خرچ ہونے والا ہر اضافی ڈالر بالآخر قرضوں اور معاشی دبائو میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ قرض لے کر پیداواری مشینری خریدنا قابلِ فہم سرمایہ کاری ہو سکتی ہے، لیکن ایسی اشیا ء کی درآمدمیں اضافہ کرنا جن سے قرض واپس کرنے کی صلاحیت پیدا نہ ہو سکے، معاشی خود فریبی ہے۔
پاکستان کی تاریخ میں بجلی پیدا کرنے والے انڈی پینڈنٹ اداروں ( آئی پی پیز) کے معاہدے دن دہاڑے ہونے والی سب سے بڑی لوٹ مار ثابت ہوئے۔ کاروباری شخصیات کے بھیس میں موجود مفاد پرست عناصر نے بیوروکریٹس اور سیاست دانوں کی ملی بھگت سے کھربوں روپے کما لیے۔ اس پورے نظام کا طریقہ کار بہت سادہ تھا، ذمہ داریاں ڈالروں میں طے کی گئیں، جبکہ آمدنی روپے میں حاصل ہوتی تھی۔ جب بھی روپے کی قدر گرتی ہے، قرض کا بوجھ بڑھ جاتاہے، قرض بڑھتا تو بجلی کے نرخ بڑھ جاتے ہیں ، اور بالآخر اس کی قیمت غریب عوام کو ادا کرنا پڑتی ہے۔
اب یہی طریقہ واردات مکمل تیار شدہ گاڑیوں اور ان کی مقامی طور پر اسمبلنگ کے لیے درآمد کیے جانے والے پرزہ جاتکی درآمد میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ پاکستان نے گزشتہ مالی سال یعنی2025۔26ء میں گاڑیوں اور ان کی اسمبلنگ کٹس کی درآمد پر 2.496ارب ڈالر خرچ کیے، جبکہ اس سے پچھلے سال یہ رقم 1.38ارب ڈالر تھی۔ یوں ایک ہی سال میں اخراجات 81فیصد بڑھ گئے، یعنی مزید 1.116ارب ڈالر ڈالر ملک سے باہر چلے گئے۔
آخر اس قدر قیمتی زرمبادلہ خرچ کرنے سے ایسا کون سا قومی فائدہ حاصل ہوا جو ان بھاری اخراجات کا جو از بن سکے ؟ یہ سب کچھ اس وقت ہوا جب پاکستان آئی ایم ایف کے 7ارب ڈالر کے توسیعی قرض پروگرام کے تحت مالی مدد حاصل کر رہا تھا۔ اس پروگرام کی تحت سخت شرائط پر قریباً 4.6ارب ڈالر مختلف اقساط میں حاصل کرنے کا عمل ، ملک کے ہر شہری کے بجلی کے بل اور ہر تنخواہ دار کی تنخواہ پر اثر انداز ہوا ہے۔ آئی ایم ایف کے جائزے کے بعد پاکستان تقریباً ایک ارب ڈالر قرض حاصل کرتا ہے، جبکہ گاڑیوں پر سالانہ ڈھائی ارب ڈالر خرچ کر دیتا ہے۔
یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ آئی ایم ایف سے حاصل ہونے والے ڈالروں کی ہر قسط براہِ راست گاڑیوں کی درآمد پر خرچ نہیں ہوتی، لیکن جب ملکی زرمبادلہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ڈالروں میں قرض لینا پڑے تو درآمدات پر خرچ ہونے والے ہر ایک ڈالر کی قیمت بالآخر قومی معیشت کو ادا کرنا پڑتی ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ گاڑیاں درآمد کیوں ہوتی ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ان پر خرچ ہونے والے ڈالروں کے بدلے ہمیں کیا فائدہ حاصل ہو تا ہے؟ کیا برآمدات بڑھتی ہیں، جدید ٹیکنالوجی منتقل ہوتی ہے، مقامی صنعت مضبوط ہوتی ہے یا روزگار اور پیداواری صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے؟ اگر ان سوالات کے واضح جواب موجود نہیں تو محض گاڑیوں کی فروخت اور اسمبلنگ کو معاشی ترقی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اب ذرا گاڑیوں کی اسمبلنگ کرنے والی صنعت پر نظر ڈالیے۔ آئی پی پیز کے منصوبوں کے پیچھے موجود بااثر کاروباری گروپ ہی اب گاڑیاں اسمبل کرنے والی صنعت میں سرمایہ لگا رہے ہیں۔ وہی لوگ، وہی طریقہ کار اور وہی ذاتی مفادات۔ ریاست کی طرف سے ایسی رعایتیں دی جاتی ہیں جن کا فائدہ صرف مخصوص کاروباری طبقے کو پہنچتا ہے، درآمدات کی قیمت ڈالروں میں ادا ہوتی ہے، منافع روپے میں حاصل کیا جاتا ہے، اور زرمبادلہ کی کمی پوری کرنے کے لیے ملک کو مزید قرض لینا پڑتا ہے۔
قرض کی مالی لاگت کو سمجھنے کے لیے ایک مثال دیکھیے۔ پاکستان نیاسی ماہدو مرحلوں میںیورو بانڈ جاری کرکے 3 ارب ڈالر حاصل کیے، جن پر شرحِ سود 7.9فیصد تک ہے۔ یہ رقم ایسے مالی انتظام کا حصہ تھی جس کے ذریعے اپریل میں سعودی عرب سے لیے گئے تین ماہ کے قرض کی ادائیگی کی گئی تھی، اور وہ قرض متحدہ عرب امارات کو واپس کرنے کے لیے لیا گیا تھا۔ یوں پاکستان ایک قرض ادا کرنے کے لیے دوسرا قرض لینے پر مجبور ہی۔ یہی وہ قیمت ہے جس کے لیے پاکستان کو اضافی ڈالر حاصل کرنا پڑتے ہیں۔ اگر 2.5ارب ڈالر کے مساوی رقم 7.9فیصد سالانہ شرحِ سود پر حاصل کی جائے تو صرف سود کی مد میں ہر سال 197.5ملین ڈالر ادا کرنا پڑیں گے۔ اس میں دیگر فیسیں شامل نہیں اور نہ ہی قرض کی اصل رقم کی واپسی کا حساب شامل ہے۔
اگر ایک ڈالر کی قیمت 280روپے فرض کی جائے تو یہ سود قریباً 55.3ارب روپے بنتا ہے، جبکہ روپے کی قدر گر کر 308 روپے فی ڈالر ہو جائے تو یہی رقم قریباً60.8 ارب روپے تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ رقم تنخواہ دار طبقے سے حاصل ہونے والے اوسط ماہانہ انکم ٹیکس سے بھی کچھ زیادہ ہے۔ ایف بی آر کے عبوری اعداد و شمار کے مطابق سالانہ انکم ٹیکس وصولی 633ارب روپے بتائی گئی ہے۔ یعنی قرض کی ڈالر میں اصل رقم اور شرحِ سود تبدیل ہوئے بغیر صرف روپے کی قدر گرنے سے قومی خزانے پر بوجھ بڑھ جاتا ہے۔ یہی بیرونی قرض کی گرفت ہے جس سے کمزور معیشتوں کے لیے نکلنا مشکل ہو جاتا ہے۔
گاڑیوں کی درآمد کے حق میں ایندھن کی بچت کی دلیل عملی اعداد و شمار کے سامنے زیادہ مضبوط ثابت نہیں ہوتی۔ فرض کیجیے کہ ایک لاکھ درآمدی گاڑیاں سالانہ 15000کلومیٹر چلتی ہیں اور ہر 100کلومیٹر پر پہلے استعمال ہونے والی گاڑی کے مقابلے میں پانچ لٹر ایندھن بچاتی ہیں۔ اگر ایک لیٹر ایندھن کی قیمت 0.933ڈالر ہو تو سالانہ بچت قریباً
قریباً سات کروڑ ڈالر کی بچت ہوگی۔ یہ 16.863ارب ڈالر کے پٹرولیم مصنوعات کے درآمدی بل کا محض 0.4فیصد بنتا ہے، جبکہ قرض پر سود کی تخمینی رقم کا بمشکل 35فیصد ہے۔ اور یہ سب کچھ اصل قرض کا ایک پیسہ واپس کیے بغیر ہوگا۔ مزید یہ کہ اس مفروضے میں یہ بھی فرض کر لیا گیا ہے کہ گاڑیوں کا پورا بیڑا توانائی کی بچت کرنے والا ہے، جبکہ ان گاڑیوں کو چارج کرنے کے لیے درآمد شدہ ایندھن سے پیدا ہونے والی بجلی کے استعمال کو بھی نظرانداز کر دیا گیا ہے۔
ذرا یہ بھی دیکھیے کہ ان مراعات کا فائدہ کن لوگوں کو پہنچا۔ لینڈ کروزر اور فارچیونر رکھنے والوں نے ان کے بجائے ٹینک گاڑیاں خریدنا شروع کر دیں، جبکہ کرولا اور سوک خریدنے والے چنگان اور ہاول کی طرف چلے گئے۔ لیکن آلٹو خریدنے والے کو الیکٹرک گاڑی کے معاملے میں کچھ حاصل نہ ہوا۔ روزانہ اجرت پر کام کرنے والے اس مزدور کو، جو روزانہ ایک لٹر پٹرول جلاتا ہے، نہ تو الیکٹرک اسکوٹر چارج کرنے کے لیے بجلی کے پانچ یونٹ مفت ملے اور نہ ہی اسکوٹر خریدنے کے لیے کوئی سبسڈی دی گئی۔ یوں مراعات آمدنی کی سیڑھی پر اوپر کھڑے لوگوں کو ملیں، جبکہ ان سے پیدا ہونے والے قرض کا بوجھ نیچے کھڑے لوگوں تک جا پہنچا۔
لہٰذا پالیسی سازوں کو اب باقی ماندہ فوائد بھی واضح طور پر ثابت کرنا ہوں گے: ملک کے اندر حقیقی قدر افزائی، پیداواری روزگار، برآمدات اور عام لوگوں کے لیے قابلِ برداشت سفری سہولتیں۔ ان تمام پہلوں کے اعداد و شمار عوام کے سامنے لائے جائیں، تاکہ لوگوں کو معلوم ہو سکے کہ ان مراعات کے بدلے ملک کو آخر کیا حاصل ہو رہا ہے۔
ایک عام آدمی بھی اس مسئلے کو فوراً سمجھ جائے گا۔ فرض کیجیے کہ ایک شخص بڑی مشکل سے اپنا گزارا کر رہا ہے ۔ وہ پچاس ہزار روپے قرض لیتا ہے اور اگلی ہی صبح اس میں سے پچیس ہزار روپے کا موبائل فون خرید لیتا ہے۔ حالانکہ آٹھ ہزار روپے کا فون بھی اس کی ضرورت پوری کرنے کے لیے کافی تھا۔ اس صورت میں اس کے پاس بیالیس ہزار روپے بچ جاتے، جن سے وہ ریڑھی، اوزار یا سلائی مشین خرید سکتا تھا۔ یہ سب ایسی چیزیں ہیں جو کوئی کام دھندا شروع کرنے یا آمدنی بڑھانے میں مدد دیتیں اور یوں قرض کی واپسی کا ذریعہ بن سکتی تھیں۔ لیکن یہاں خواہشات نے ان وسائل کو ہڑپ کر لیا جو حقیقی ضروریات پوری کرنے کے لیے درکار تھے۔
ہم ایک ایسی خیالی دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں ڈالر آموں کی طرح سمجھے جاتے ہیں، موسم آیا، ڈالر ملے، ہر کسی نے اپنا حصہ کھایا، لیکن کسی نے یہ نہیں سوچا کہ اگلے موسم کے لیے درخت کیسے لگایا جائے۔ حالانکہ ڈالر آم نہیں ہوتے، انہیں کمانا، بچانا اور اس طرح خرچ کرنا پڑتا ہے کہ آنے والے برسوں میں بھی ملک کے پاس ان کے حصول کے ذرائع موجود رہیں۔





