Column

اے پی ایس سے پمز اور الخیر اسکول تک معصوم بچوں کا لہو‘‘ ایک قومی تعزیتی ریفرنس و فورم وقت کا تقاضا

اے پی ایس سے پمز اور الخیر اسکول تک معصوم بچوں کا لہو‘‘ ایک قومی تعزیتی ریفرنس و فورم وقت کا تقاضا
حافظ بختیار احمد
صدائے جہاں
والدین کے لیے شاید دنیا میں اس سے بڑا کوئی غم، کوئی صدمہ اور کوئی قیامت نہیں کہ وہ اپنے معصوم بچے کی لاش اپنے ہاتھوں میں اٹھائیں۔ اس درد کو نہ مکمل طور پر بیان کیا جا سکتا ہے، نہ سمجھایا جا سکتا ہے اور نہ ہی الفاظ میں سمیٹا جا سکتا ہے۔ ماں جب صبح اپنے بچے کو پیار سے تیار کرتی ہے، اس کے بال سنوارتی ہے، یونیفارم درست کرتی ہے، بستہ اس کے کندھے پر رکھتی ہے اور دعائوں کے ساتھ اسکول روانہ کرتی ہے تو اسے کیا معلوم کہ چند گھنٹوں بعد یہی بستہ، یہی کتابیں اور یہی یونیفارم اس کے لیے زندگی کا سب سے بڑا صدمہ بن جائیں گے۔
پاکستان کی قومی یادداشت میں پشاور کے معصوم بچوں کا لہو ایک ایسا باب ہے جسے وقت کبھی مٹا نہیں سکتا۔ 16 دسمبر 2014ء کو آرمی پبلک اسکول پشاور پر دہشت گرد حملہ ہوا، جس میں 147افراد، جن میں 132طلبہ بھی شامل تھے، شہید ہوئے۔ یہ سانحہ پاکستان کی تاریخ کے ان سیاہ ترین واقعات میں شمار ہوتا ہے جس نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا۔ وہ بچے بھی صبح اپنے والدین سے رخصت ہوئے تھے، کتابیں اٹھائی تھیں، اسکول پہنچے تھے اور ان کے والدین شام کو ان کی واپسی کے منتظر تھے، مگر کئی گھروں کے چراغ ہمیشہ کے لیے بجھ گئے۔
اے پی ایس کا سانحہ دہشت گردی کا حملہ تھا، مگر اس کے بعد بھی معصوم بچوں کے حوالے سے ایسے واقعات ہمارے سامنے آتے رہے جنہوں نے والدین کے دلوں میں ایک ہی سوال چھوڑا: کیا ہمارا بچہ اسکول، اسپتال یا کسی محفوظ مقام پر بھی محفوظ ہے؟۔ 26اگست2026ء کو اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، پمز، کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ وارڈ میں آتشزدگی نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا۔ نوزائیدہ بچوں کی نرسری میں آگ لگنے سے 14نومولود جاں بحق ہوئے۔ ایک نومولود کو نرس رضیہ نورین نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر بچایا، لیکن وہ بچہ بھی انتہائی نازک حالت میں رہنے کے بعد 18ستمبر 2026ء کو انتقال کر گیا۔ یوں اس سانحے میں نرسری میں موجود 15نومولود اپنی زندگی کی شروعات ہی میں ہم سے بچھڑ گئے۔
پمز کے واقعے نے صرف ایک اسپتال کی انتظامی خامیوں پر سوال نہیں اٹھایا بلکہ ہمیں یہ سوچنے پر بھی مجبور کیا کہ جہاں انسان اپنی زندگی اور اپنے بچے کی زندگی بچانے کے لیے جاتا ہے، اگر وہی جگہ حفاظتی انتظامات میں ناکام ہو جائے تو عام شہری کہاں جائے؟ تحقیقاتی رپورٹ نے بعد میں اسے محض ایک اتفاقی حادثہ قرار دینے کے بجائے نظامی اور ادارہ جاتی ناکامیوں کی نشاندہی کی اور آگ کی ممکنہ وجہ مقامی برقی خرابی کو قرار دیا۔
اس سانحے میں ایک طرف 14نومولودوں کی جان چلی گئی، دوسری طرف ایک نرس نے اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے ایک بچے کو آگ سے نکالا۔ ریاست نے اس بہادری کا اعتراف بھی کیا اور رضیہ نورین کے لیے تمغہ شجاعت کی منظوری دی۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں ایسے واقعات کے بعد صرف اعزازات اور تعزیت تک محدود رہنا چاہیے یا ان وجوہات کو بھی ختم کرنا چاہیے جو ایسے سانحات کو جنم دیتی ہیں؟۔
پمز کے زخم ابھی تازہ تھے کہ 15اکتوبر 2026ء کو پشاور کے دیر کالونی میں واقع الخیر ایجوکیشن سینٹر کا المناک سانحہ سامنے آ گیا۔ اسکول کی چھت دورانِ تعلیم منہدم ہوئی، بچے ملبے تلے دب گئے اور چند ہی لمحوں میں کئی خاندانوں کی دنیا اجڑ گئی۔ تازہ دستیاب رپورٹس کے مطابق 34بچے اور ایک خاتون استاد جاں بحق ہوئے جبکہ 45سے زائد افراد زخمی ہوئے۔
یہ منظر شاید ان والدین سے بہتر کوئی نہیں سمجھ سکتا جو اسکول کے باہر کھڑے اپنے بچے کی خیریت کی خبر کا انتظار کر رہے تھے۔ کوئی ماں اپنے بچے کو صبح ناشتہ کرا کے نکال رہی ہوگی، کسی نے اس کے بال سنوارے ہوں گے، کسی باپ نے جاتے ہوئے ماتھے پر بوسہ دیا ہوگا، کسی نے کہا ہوگا: بیٹا، اسکول سے واپس آ کر سبق دکھانا۔ مگر کس کو معلوم تھا کہ وہ صبح ان معصوم بچوں کی زندگی کی آخری صبح بن جائے گی۔
یہاں سوال صرف یہ نہیں کہ چھت کیوں گری۔ سوال یہ بھی ہے کہ اسکول کی عمارت کو محفوظ کس نے بنانا تھا؟ اس کی جانچ کس نے کرنی تھی؟ خطرات کی نشاندہی کس کی ذمہ داری تھی؟ تازہ رپورٹس میں عمارت کی کمزور ساخت اور چھت پر اضافی تعمیر کے باعث پیدا ہونے والے بوجھ کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ حکام نے تحقیقات شروع کرکے دیگر نجی اسکولوں کی عمارتوں کے حفاظتی معائنے کے احکامات بھی دئیے ہیں۔
واقعات کی نوعیت مختلف ہے۔ اے پی ایس دہشت گردی کا نشانہ بنا، پمز میں آگ نے نومولودوں کی جان لی اور الخیر ایجوکیشن سینٹر میں عمارت کا انہدام بچوں کی موت کا سبب بنا۔ لیکن ان تینوں سانحات کے درمیان ایک مشترک حقیقت موجود ہے: مرنے والے معصوم تھے، ان کے والدین بے بس تھے اور ہر گھر میں ایک ایسا خواب تھا جو اچانک ٹوٹ گیا۔
ہم خبر پڑھتے ہیں، چند لمحوں کے لیے دل اداس ہوتا ہے، آنکھیں نم ہوتی ہیں اور پھر ہم اپنی زندگی میں واپس چلے جاتے ہیں۔ لیکن جس ماں کا بچہ واپس نہیں آتا، اس کے لیے زندگی دوبارہ معمول پر نہیں آتی۔ گھر میں اس کی کتاب پڑی رہتی ہے، بستہ رکھا رہتا ہے، یونیفارم موجود رہتی ہے، کھلونے اپنی جگہ ہوتے ہیں، مگر وہ آواز نہیں ہوتی جس سے گھر آباد تھا۔ ایک باپ کے لیے بچے کی موت صرف ایک فرد کا بچھڑنا نہیں بلکہ اس مستقبل کا ٹوٹ جانا بھی ہے جس کے خواب اس نے برسوں سے دیکھے ہوتے ہیں۔
سچ تو یہ ہے کہ اب ہمت نہیں رہی ایسے واقعات کو لکھنے کی، نہ انہیں سننے کی اور نہ انہیں برداشت کرنے کی۔ جب کسی معصوم بچے کی موت کی خبر آتی ہے تو اپنے بچوں کے چہرے آنکھوں کے سامنے آ جاتے ہیں۔ ہر ماں کے آنسو میں اپنی ماں دکھائی دیتی ہے اور ہر باپ کی خاموشی میں اپنا درد محسوس ہوتا ہے۔
اسی لیے میری اپیل کسی ایک سیاسی جماعت، حکومت، اپوزیشن، ادارے یا طبقے سے نہیں، پورے پاکستان سے ہے۔ سیاست کے مواقع بہت آئیں گے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافِ رائے بھی ہوگا، پارلیمان میں بحث بھی ہوگی، سیاسی جلسے بھی ہوں گے، ٹیلی وژن پر مناظرے بھی ہوں گے اور اخبارات میں کالم بھی شائع ہوں گے۔ اقتدار کی بحث بھی جاری رہے گی اور سیاسی جماعتیں اپنے اپنے موقف کے دفاع کے لیے آواز بھی بلند کرتی رہیں گی۔ یہ سب جمہوری زندگی کا حصہ ہے اور اس کے لیے بہت سے دن اور بہت سے مواقع موجود ہیں۔
مگر جب وطنِ عزیز کسی بڑے سانحے کے غم سے دوچار ہو تو کیا ہماری قومی ترجیحات کچھ دیر کے لیے تبدیل نہیں ہونی چاہئیں؟۔
یہ سیاست سے دستبرداری نہیں، انسانیت کی ترجیح ہے۔ میری تجویز ہے کہ میڈیا کے بڑے ادارے ایک مشترکہ قومی تعزیتی اور یکجہتی فورم قائم کریں، جہاں حکومت، اپوزیشن، سیاسی جماعتوں، پارلیمنٹ، سول و عسکری اداروں، علمائ، دانشوروں، صحافیوں، سول سوسائٹی اور متاثرہ خاندانوں کے نمائندے ایک جگہ بیٹھیں۔ وہاں سیاسی مقابلہ نہ ہو، الزام تراشی نہ ہو، بلکہ ان معصوم بچوں کو یاد کیا جائے، ان کے والدین سے اظہارِ تعزیت کیا جائے اور پوری قوم کو محبت، اتحاد، امن، برداشت اور ذمہ داری کا پیغام دیا جائے۔
ایک پلیٹ فارم ہو، ایک آواز ہو، ایک قوم کا احساس ہو۔ ہمیں اپنے اختلافات ختم کرنے کی ضرورت نہیں، مگر انہیں کچھ دیر کے لیے پسِ پشت ڈالنے کی ضرورت ضرور ہے۔ پاکستان ہمارا گھر ہے۔ جب گھر میں خوشی ہو تو اس خوشی میں سب شریک ہوتے ہیں اور جب گھر میں سوگ ہو تو گھر کے مکین اپنے اختلافات بھلا کر ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں۔ آج اگر کسی ماں کی گود اجڑ گئی ہے، کسی باپ کا سہارا چھن گیا ہے اور کسی گھر کا چراغ بجھ گیا ہے تو یہ صرف اس خاندان کا غم نہیں، پاکستان کا غم ہے۔ ہمیں اسکولوں کی عمارتوں کی باقاعدہ جانچ، ہنگامی راستوں، آگ سے بچائو کے انتظامات، عمارتوں کے حفاظتی اجازت ناموں اور ہنگامی مشقوں کو محض کاغذی کارروائی نہیں بلکہ بچوں کے تحفظ کا بنیادی حق سمجھنا ہوگا۔ پمز کی تحقیقاتی رپورٹ اور الخیر اسکول کے بعد شروع ہونے والے حفاظتی معائنے ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ سانحہ گزر جانے کے بعد کارروائی سے زیادہ اہم سانحے سے پہلے احتیاط ہے۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ بچے کسی سیاسی جماعت کے نہیں ہوتے۔ وہ حکومت یا اپوزیشن کے نہیں ہوتے۔ وہ کسی طبقے، زبان، شہر یا ادارے کے نہیں ہوتے۔ وہ پاکستان کا مستقبل ہوتے ہیں۔ اے پی ایس کے شہداء ہوں، پمز کے نومولود ہوں یا الخیر اسکول کے معصوم بچے، ان سب کا لہو ہم سے سوال کرتا ہے کہ ہم نے ان کے بعد کیا سیکھا؟۔ کیا ہم نے اپنے اسکول محفوظ کیے؟۔ کیا ہم نے اسپتال محفوظ کیے؟۔ کیا ہم نے عمارتوں کی بروقت جانچ کی؟۔ کیا ہم نے ہنگامی حالات کے لیے موثر نظام بنایا؟۔ کیا ہم نے اختلافات سے اوپر اٹھ کر انسانی جان کو ترجیح دی؟۔ آج ہمیں ان سوالوں کے جواب صرف تقریروں میں نہیں بلکہ عملی اقدامات میں دینے ہوں گے۔ اور شاید سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کے لیے ایسی دنیا چھوڑیں جہاں ان کے ہاتھوں میں کتاب ہو، بارود نہیں؛ ان کی آنکھوں میں خواب ہوں، خوف نہیں؛ ان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ ہو، آہ و بکا نہیں۔ ہم بڑوں نے دنیا کو بہت کچھ دے دیا، نفرتیں، جنگیں، تعصبات اور اختلافات۔ اب اپنے بچوں کو امن، علم، محبت، تحفظ اور امید دینے کی باری ہے۔
آئیے! کچھ دن کے لیے اپنی سیاسی آوازیں مدھم کر دیں اور انسانی آواز کو بلند کریں۔ آئیے ان معصوم بچوں کو یاد کریں۔ ان کے والدین کے دکھ کو سنیں۔ ان کا ہاتھ تھامیں۔ انہیں یقین دلائیں کہ پاکستان انہیں بھولا نہیں۔ یہ وقت ایک دوسرے کو شکست دینے کا نہیں، غم زدہ خاندانوں کا سہارا بننے کا ہے۔ یہ وقت لفظی جنگ کا نہیں، محبت کے اظہار کا ہے۔ یہ وقت تقسیم کا نہیں، پاکستان بن کر کھڑے ہونے کا ہے۔ میری اپیل ہے:: سیاست کے دروازے بند نہ کریں، صرف چند دن کے لیے انہیں خاموش کر دیں، اور قومی سوگ، تعزیت، محبت اور یکجہتی کا دروازہ پوری قوم کے لیے کھول دیں۔ شاید یہی ان معصوم بچوں کے لیے ہمارا سب سے خوبصورت خراجِ عقیدت ہوگا۔
اے اللہ! پاکستان پر رحم فرما۔ جن مائوں کی گودیں خالی ہو گئی ہیں، انہیں صبرِ جمیل عطا فرما۔ جن باپوں نے اپنے جگر کے ٹکڑے کھو دئیے ہیں، انہیں حوصلہ عطا فرما۔ جن بہن بھائیوں نے اپنے پیارے کھوئے ہیں، ان کے دلوں کو سکون عطا فرما۔ پشاور، اسلام آباد اور پاکستان کے ہر اس گھر پر اپنی رحمت نازل فرما جہاں کسی معصوم بچے کی جدائی کا غم موجود ہی۔ یا اللہ! صرف پاکستان ہی نہیں، پوری دنیا کے معصوم بچوں پر رحم فرما۔ غزہ کے بچے ہوں یا دنیا کے کسی بھی خطے کے بچے، جنگ کے سائے میں پلنے والے بچے ہوں یا بھوک، بیماری، غربت، حادثات اور ظلم کا شکار بچے، سب کو اپنی حفاظت میں لے لے۔ وہ کتاب اٹھائیں، خون نہیں۔ وہ قلم اٹھائیں، کفن نہیں۔ وہ خواب لے کر اسکول جائیں، خوف لے کر نہیں۔ اللہ پاکستان پر رحم فرمائے، ہمارے بچوں کی حفاظت فرمائے اور ان کے والدین کو صبر عطا فرمائے، آمین۔

جواب دیں

Back to top button