ColumnQadir Khan

نو کنگز: ووٹ ارلی

نو کنگز: ووٹ ارلی
پیامبر
قادر خان یوسف زئی
امریکہ کے شہروں میں وہی نعرہ دوبارہ گونجا کہ نہ تخت ہوگا، نہ تاج، نہ بادشاہ۔ مگر اس بار نعرہ پرانا تھا اور مقصد نیا۔ سترہ اکتوبر کو ’’ نو کنگز: ووٹ ارلی‘‘ کے عنوان سے ملک گیر دن منایا گیا، جو اس تحریک کا چوتھا ملک گیر دن تھا۔ پہلے تین دن حکومت کو پیغام دینے کے لئے تھے۔ اس چوتھے دن کا پیغام اپنے حامیوں کے لئے تھا کہ تین نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ووٹ ڈالنے کا منصوبہ بنا لیں۔ احتجاج کی سیاست میں یہ ایک بڑا موڑ ہے اور میرے نزدیک اسے سمجھے بغیر اس تحریک کو سمجھنا ممکن نہیں۔ پہلے سفر پر نظر ڈال لیں۔ پہلا ملک گیر دن چودہ جون 2025کو ہوا، جس میں منتظمین کے مطابق دو ہزار ایک سو سے زیادہ شہروں اور قصبوں میں پچاس لاکھ سے زائد لوگ نکلے۔ دوسرا دن اٹھارہ اکتوبر 2025کو آیا اور منتظمین نے تقریباً ستر لاکھ شرکاء کا دعویٰ کیا۔ کنیکٹی کٹ یونیورسٹی کے پروفیسر جیریمی پریسمین نے اس وقت اے بی سی نیوز سے کہا تھا کہ اگر یہ تعداد درست ہو تو یہ ایک دن کا دوسرا بڑا امریکی احتجاج ہوگا، جس سے آگے صرف 1970ء کا پہلا ارتھ ڈے ہے۔ تیسرا دن اٹھائیس مارچ 2026کو ہوا، جس کے بارے میں منتظمین کا کہنا ہے کہ تینتیس سو سے زیادہ تقریبات میں اسی لاکھ سے زائد لوگ شریک ہوئے۔ یہ تمام اعداد منتظمین کے اپنے تخمینے ہیں۔ انہیں آزادانہ گنتی نہ سمجھا جائے۔
سترہ اکتوبر کا دن اس سانچے سے مختلف رہا۔ انڈیویزیبل نے اپنے مقامی اعلانات میں خود لکھا کہ پچھلے دنوں کے برعکس یہ محض احتجاج نہیں بلکہ ووٹروں کی غیر جانبدارانہ شمولیت کا دن ہے، جس میں لوگ مل کر جلد ووٹ ڈالنے کا منصوبہ بنائیں اور ہر اہل ووٹر کو اپنے اختیارات معلوم ہوں۔ منتظمین کے مطابق اس مقصد کے لئے تقریباً تین ہزار تقریبات تمام پچاس ریاستوں اور واشنگٹن ڈی سی میں رکھی گئیں۔ اے پی کی رپورٹ کے مطابق ریلیاں واشنگٹن میں لنکن میموریل کے قریب، نیویارک کے مین ہٹن اور اٹلانٹا سمیت کئی مقامات پر ہوئیں۔ اے پی نے منصوبہ بند تقریبات کو سیکڑوں لکھا ہے، جبکہ منتظمین ہزاروں کی بات کرتے ہیں۔ دونوں اعداد میں فرق موجود ہے اور اسے چھپانا درست نہیں ہوگا۔
زمینی تصویر مقامی خبروں سے ملتی ہے۔ کنساس سٹی کے مل کریک پارک میں ہزاروں لوگ جمع ہوئے۔ مقامی ریڈیو کے سی یو آر کے مطابق منتظمین کی توجہ گھر گھر مہم، فون بینکنگ اور ووٹر رجسٹریشن کے لئے رضاکار بھرتی کرنے پر تھی، اور سڑک کے پار ایک چرچ میں تقریباً سو افراد نے کینوسنگ کی مختصر تربیت کے لئے نام لکھوائے۔ مینیاپولس کے کامنز پارک میں منتظمین نے تقریباً پانچ ہزار افراد بتائے، جبکہ مینیسوٹا ریفارمر نے لکھا کہ سینکڑوں لوگ جمع ہوئے اور یہ مجمع پچھلے نو کنگز دنوں سے چھوٹا تھا۔ مارچ میں اسی ریاست کے دارالحکومت سینٹ پال میں منتظمین نے دو لاکھ افراد کا اندازہ دیا تھا۔ ریاستی اٹارنی جنرل کیتھ ایلیسن نے مینیاپولس میں خطاب کیا۔
اب اس تبدیلی کا مطلب دیکھیں۔ پچھلے مارچوں میں غصے کی وجوہات نمایاں تھیں، یعنی امیگریشن کارروائیاں، ایران کی جنگ اور وفاقی حکومت کی بندشیں۔ سڑک پر نکلنے کا فائدہ یہ ہے کہ آپ کی ناراضی نظر آتی ہے۔ نقصان یہ ہے کہ ناراضی گنتی میں نہیں آتی۔ گنتی صرف پولنگ اسٹیشن پر ہوتی ہے۔ منتظمین نے شاید یہی سمجھ لیا ہے کہ لاکھوں لوگوں کا مجمع خبر بن سکتا ہے، مگر نشست صرف ووٹ سے بدلتی ہے۔ ایزرا لیون نے ستمبر میں کہا تھا کہ اکتوبر کا دن صدر کو پیغام دینے کے لئے نہیں بلکہ اپنے حامیوں کو ووٹ کے لئے تیار کرنے کے لئے ہے۔ یہ ایک تحریک کا اپنی سمت پر خود حکم لگانا ہے۔ لیکن اس سمت کے ساتھ ایک سوال بھی آیا ہے جسے ٹالا نہیں جا سکتا، منتظمین نے ان تقریبات کو غیر جانبدار قرار دیا اور اپنی ویب سائٹ پر لکھا کہ شرکاء قانون کی پابندی کریں اور تصادم سے بچیں۔ دوسری طرف فاکس نیوز کی ایک رپورٹ میں لکھا گیا کہ دن سے دو روز پہلے انڈیویزیبل کے شریک بانیوں ایزرا لیون اور لیہ گرین برگ نے وسط مدتی انتخابات پر کھلے جماعتی انداز میں گفتگو کی، اور اوریگن اور ورجینیا کے بعض مقامی گروپوں نے ’’ ووٹ بلیو‘‘ جیسے نعروں یا ’’ انہیں ووٹ سے نکالو‘‘ جیسے پیغامات کی حمایت کی۔ مجھے اس سے سروکار نہیں کہ کوئی تنظیم کس جماعت کو ووٹ دینے کی بات کرے۔ یہ اس کا جمہوری حق ہے۔ مگر جب پوسٹر پر غیر جانبدار لکھا ہو اور مقرر کی تقریر میں ایک جماعت کی جیت کی خواہش جھلکے، تو ساکھ کو نقصان پہنچتا ہے۔ تحریک کا سب سے بڑا سرمایہ اس کی ساکھ ہوتی ہے۔
مخالفین نے اس پر طنز کرنے میں دیر نہیں کی۔ یو ایس اے ٹوڈے کے حوالے سے ایک بیان میں کہا گیا کہ اگر منتظمین آنے والے انتخابات میں ووٹ کی بات کر رہے ہیں تو انہیں اپنا نام بدل لینا چاہئے۔ منتظمین کا جواب اس کے برعکس ہے۔ لیہ گرین برگ نے کہا کہ نو کنگز کا مطلب بظاہر سادہ ہے، یعنی اس ملک میں طاقت عوام کے ہاتھ میں ہے اور عوام اپنی طاقت کا اظہار بیلٹ باکس سے کرتے ہیں۔ ایک اور مقرر نے کہا کہ آج ڈالا گیا ووٹ لمبی قطار یا بند پولنگ اسٹیشن کی نذر نہیں ہو سکتا۔ نام اگر تاج اور تخت کی مخالفت ہے تو اسے ووٹ سے جوڑنا منطقی ہے۔ لیکن اگر عملی پیغام ایک ہی جماعت کی کامیابی بن جائے تو نام سے وابستہ توقعات پوری نہیں ہوتیں۔ امریکی تاریخ کی مضبوط تحریکیں وہی رہی ہیں جنہوں نے سڑک کا غصہ قانون، عدالت اور ووٹ میں ڈھالنا سیکھا۔ مجمع ایک بار نظر آتا ہے اور اگلے دن خبر سے اتر جاتا ہے۔ ووٹ پانچ سال تک ایوان میں بیٹھتا ہے۔ مگر ووٹ سے طاقت لینے والی تحریک کو ووٹ دینے والوں کے سامنے وہی اصول رکھنا پڑتا ہے جو وہ دوسروں سے مانگتی ہے، یعنی شفافیت اور سچ۔ جو تحریک حکمرانوں سے احتساب مانگے اور اپنی غیر جانبداری کے دعوے پر سوال سننا ناگوار سمجھے، اسے پہلے اپنا پیمانہ خود پر لگانا ہوگا۔
یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ اس دن کا بنیادی پیغام کسی کے خلاف نہیں، ووٹ ڈالنے کے حق میں ہے۔ جلد ووٹنگ کی ترغیب دینا، رجسٹریشن کی مدد کرنا اور قطار کے خوف سے بچانا ایسے کام ہیں جن پر کوئی بھی جمہوریت پسند اعتراض نہیں کر سکتا۔ اگر یہی کام بڑی جماعتوں کے حامی ایک جیسے جوش سے کریں تو جمہوریت کو فائدہ ہی ہوگا۔ شہری اپنے حق کا استعمال کریں، چاہے انہیں کسی بھی امیدوار سے ہمدردی ہو، یہی ایک جمہوری ملک کی صحت ہے۔ اب فیصلہ تین نومبر کو ہوگا۔ اس وقت ہمیں معلوم ہوگا کہ ہفتے کے دن کی ریلیوں میں رجسٹر ہونے والے رضاکاروں نے کتنے دروازے کھٹکھٹائے اور کتنے لوگ پولنگ اسٹیشن تک پہنچے۔ سڑک پر نعرے لگانے والے اور گھر گھر جانے والے ایک ہی لوگ ہوں تو تحریک کی اصل طاقت اسی دن ظاہر ہوگی۔ ابھی تک جو کچھ ہمیں معلوم ہے، وہ اتنا ہے کہ نعرہ وہی ہے اور میدان بدل گیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ جو تحریک اپنے آپ کو ہر جماعت سے بالاتر کہتی ہے، کیا وہ ووٹ کے میدان میں بھی اتنی ہی غیر جانبدار رہ سکے گی؟۔

جواب دیں

Back to top button