تازہ ترینخبریںدنیاسیاسیات

ایران کے خلاف جنگ میں 81 امریکی فوجی طیارے اور ڈرون تباہ یا متاثر، لاگت 3.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئی

امریکی کانگریس کے بجٹ دفتر (سی بی او) کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق رواں سال ایران کے خلاف شروع کی گئی امریکی فوجی مہم ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے دوران کم از کم 81 امریکی فوجی طیارے، جنگی جہاز اور ڈرون تباہ یا نقصان کا شکار ہوئے ہیں۔

 

رپورٹ کے مطابق یکم اگست تک ان فضائی اثاثوں کے نقصان کی مالیت 1.9 ارب سے 3.3 ارب ڈالر کے درمیان تھی۔

 

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 28 فروری کو شروع ہونے والی امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ آٹھویں ماہ میں داخل ہو چکی ہے، جبکہ مستقل جنگ بندی تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔

 

متاثر ہونے والے امریکی فضائی اثاثوں میں 12 ایف-15 ای سٹرائیک ایگل لڑاکا طیارے، ایک ایف-35 اے لائٹننگ ٹو، سات کے سی-135 فضائی ایندھن بردار طیارے اور 45 ایم کیو-9 ریپر ڈرونز شامل ہیں۔

 

سابق امریکی بحری افسر اور دفاعی تجزیہ کار ہارلن اُلمین کا کہنا ہے کہ جدید جنگوں میں کم لاگت والے ڈرونز بڑی فوجی طاقتوں کے لیے بھی سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔ ان کے مطابق ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی اڈوں اور فوجی اثاثوں کو نشانہ بنا کر نقصان پہنچانے میں کسی حد تک کامیابی حاصل کی ہے۔

 

اُن کا کہنا تھا کہ ’چھوٹے ڈرون بھی انتہائی قیمتی فوجی اثاثوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، اور حالیہ تنازع کے دوران خلیجی ممالک میں اس کی مثالیں دیکھی گئی ہیں۔‘

 

ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ کی بدلتی ہوئی نوعیت نے روایتی فضائی برتری کو بھی چیلنج کر دیا ہے۔ روس۔یوکرین جنگ کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کم وسائل رکھنے والے ممالک بھی ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے بڑی فوجی طاقتوں کو مؤثر نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

 

اُدھر جنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ پر سیاسی دباؤ بھی بڑھا دیا ہے۔ انتظامیہ نے مالی سال 2027 کے لیے 1.5 ٹریلین ڈالر کے دفاعی بجٹ کی درخواست کی ہے، تاہم کانگریس میں اس پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

 

گذشتہ ماہ 45 ڈیموکریٹ سینیٹرز اور ایک آزاد رکن نے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کو خط لکھ کر جنگی اخراجات کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کیا تھا۔

 

کانگریس کے بجٹ دفتر کی ایک الگ رپورٹ کے مطابق یکم اگست تک ایران کے ساتھ جنگ پر امریکی اخراجات تقریباً 38 ارب ڈالر تک پہنچ چکے تھے، جبکہ ادارے کا اندازہ ہے کہ تنازع جاری رہنے کی صورت میں ہر اضافی ماہ کی لاگت دو سے تین ارب ڈالر تک ہو سکتی ہے

جواب دیں

Back to top button