CM RizwanColumn

سب اسی تنخواہ پر کام کرتے رہیں گے

جگائے گا کون؟
سب اسی تنخواہ پر کام کرتے رہیں گے
تحریر: سی ایم رضوان
حکم حاکم مرگ ’’ مفادات‘‘ کے مصداق اب پاور کوریڈورز کے فرمان کے مطابق وفاقی سول حکومت اور پی ٹی آئی کو صرف ایک دہشت گردی کے پوائنٹ پر آئندہ کی حکمت عملی واضح طور پر طے کرنا ہے کہ آیا کے پی کے حکومت سکیورٹی فورسز کی پالیسی کے مطابق دہشت گردی کے خلاف صوبہ کے پی میں اقدامات کرے گی یا نہیں۔ اس فرمان کی تعمیل میں ہی وفاقی حکومت اچھی بھلی ایک طرف بیٹھ کر کھانے پینے میں مصروف پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آئی ہے۔ ورنہ گزارا تو اچھا بھلا ہو ہی رہا ہے۔ دوسری طرف پی ٹی آئی کے چوری کھانے والے مجنوں بھی بقول عمران خان کے چوروں کے ساتھ مذاکرات بلکہ ایک مرتبہ ڈیڈ لاک برقرار رہنے کے بعد اب دوبارہ مذاکرات پر آمادہ ہیں کیونکہ دوسری صورت میں اب وفاقی حکومت تو انتہائی اقدام دکھانے کے لئے ایمرجنسی لگانے پر بھی غور کر رہی ہے جو کہ پی ٹی آئی کو شاید ہضم نہ ہو پائے اس لئے وہ بھی دوبارہ مذاکرات کا ڈول ڈال رہے ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے سہیل آفریدی کی مجبوری یہ ہے کہ وہ اپنے طالبان خان کے لقب سے مشہور بانی جماعت کی پالیسی سے انحراف نہیں کر سکتے۔ اب نیم دلی کے ساتھ مذاکرات کی میز پر دوبارہ بیٹھ کر وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کو بس یہ ایک درمیانی راہ نکالنے پر غور کرنا ہے کہ طالبان نوازی اور طالبان کشی کی دو انتہائی حدود میں سے کس حد پر ٹک مارک کرنا ہے۔ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا موقف سب کے سامنے ہے کہ وفاقی حکومت کی موجودہ انسدادِ دہشت گردی کی پالیسی ناکام ہو چکی ہے اور بند کمروں میں بیٹھ کر فیصلے کرنے کی بجائے ایک نئی جامع حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا نے گزشتہ 22سال سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان اٹھایا ہے، اس لئے صوبے کو سکیورٹی فیصلوں میں مرکزِ نگاہ بنایا جائے۔ آفریدی کی صوبائی حکومت کا اصرار ہے کہ عسکری کارروائیوں کے ساتھ ساتھ سیاسی اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے بات چیت کا راستہ اپنایا جائے تاکہ فوج، پولیس اور عام شہریوں کا مزید خون نہ بہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اگر درست حکمت عملی اپنائی جائے تو محدود مدت ( مثلاً 100دن) میں امن بحال کیا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف وفاقی حکومت اور سکیورٹی اداروں کا موجودہ عسکری قیادت کی پالیسی کے مطابق موقف یہ ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز اور فیصلہ کن کارروائیاں ناگزیر ہیں۔ وفاق کے مطابق ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی نرمی نہیں برتی جا سکتی۔ صوبہ کے پی کے اور وفاق کے نقطہ ہائے نظر میں زمین و آسمان کی طرح کے اس امتیاز کے باوصف ہی بعض وفاقی وزراء اور مخالف سیاسی حلقوں کا یہ الزام رہا ہے کہ کی پی حکومت دہشت گردی کے اصل خطرات سے نمٹنے میں سنجیدہ نہیں ہے اور صوبائی قیادت امن و امان کی بجائے سیاسی دبائو اور احتجاجی سیاست پر زیادہ توجہ دے رہی ہے۔ اس فرق کو بات چیت سے کیسے حل کیا جا سکتا ہے نیز مرکز اور صوبے کے درمیان اس کشیدگی اور پالیسی کے تضاد کو ختم کرنے کے لئے موثر گرینڈ سکیورٹی جرگہ یا ڈائیلاگ کی ضرورت بھی اکثر محسوس کی جاتی ہے جس کے تحت تجویز کیا جاتا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے تمام اسٹیک ہولڈرز ( بشمول عسکری قیادت اور تمام سیاسی جماعتوں کے) سب کو ایک میز پر بیٹھ کر سنجیدہ مذاکرات کرنے چاہئیں تاکہ ایک متفقہ قومی لائحہ عمل طے پا سکے۔ اس حوالے سے پرہیز یہ تجویز کیا جاتا ہے کہ فریقین کو عوامی بیانات اور الزام تراشی کی سیاست کو چھوڑ کر انسدادِ دہشت گردی کے موثر نفاذ کے لئے آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا ہو گا۔ ساتھ ہی یہ مطالبہ بھی کیا جاتا رہا ہے کہ خیبر پختونخوا پولیس اور کائونٹر ٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ کو جدید اسلحہ، فنڈز اور تربیت کی فراہمی میں بھرپور مدد دی جائے تاکہ صوبہ خود اپنے پاؤں پر کھڑا ہو کر اس ناسور کا مقابلہ کر سکے۔ دوسری طرف انٹیلی جنس کی سطح پر شیئرنگ اور باہمی تعاون کو بہتر بنایا جائے تاکہ مرکز اور صوبہ ایک ہی پیج پر رہ کر دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں کریں لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ صوبہ بھر میں سی ٹی ڈی کے شعبہ میں چند مستقل اہلکاروں کے علاوہ نہ کوئی وسیع ایمونیشن کا بندوبست ہے اور نہ کسی بڑے آپریشن یا کاروائی کے لئے کوئی انتظام یا ارادہ روبہ عمل ہے بلکہ دہشت گردوں کو سرکاری سطح پر فنڈز کے نام پر بھتہ دے کر تحفظ کی ایک صورت حاصل کی گئی ہے۔ دونوں انتہائوں یعنی کے پی کے اور وفاق کی پالیسی کے تمام پہلوئوں پر غور کے بعد بات پھر بھی وہی نظر آتی ہے کہ اب بھی اگر ان دونوں کے مابین مذاکرات ہوئے تو صرف اسی ایک صلاح مشورے پر ہوں گے کہ آیا جن جن نشستوں، مراعات اور ٹھنڈی گاڑیوں کی سہولت حکومت سمیت اپوزیشن کے ان سب عہدیداروں کو اب ملی ہوئی ہیں۔ یہ سہولیات مزید کس طرح یہ سب اپنے اپنے پاس رکھ سکتے ہیں اور وہ بھی خاص طور پر عسکری قیادت کی جانب سے کے پی کے میں سخت آپریشن کے نفاذ کے ساتھ۔ لہٰذا ملک میں دہائیوں سے رائج سیاسی صورتحال کے تحت اب مذاکرات میں یہ طے کرنا ہے کہ آیا فرینڈلی ایمرجنسی لگائی جائے یا ایسی فرینڈلی لڑائی جاری رکھی جائے جس میں وفاقی حکومت سکیورٹی فورسز کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کی نمائندگی کرتی نظر آئے اور سہیل آفریدی فرینڈلی لانگ مارچ کرتے نظر آتے رہیں۔ یعنی کسی بھی ظاہری صورت حال میں جو بھی ہو وہ فرینڈلی ہو اور اسی تنخواہ پر کام جاری رہنے کے لئے ہو کیونکہ فرینڈلی اپوزیشن یا اندرونی مفاہمت تو پہلی ہی چل رہی ہے۔ پاکستانی سیاست کے تناظر میں یہ کہنا ہر گز بے جا نہیں کہ اب ’’ فرینڈلی ایمرجنسی‘‘ کا بھی کوئی تصور ہو سکتا ہے جو ایک نئی سیاسی ڈیل یا پس پردہ مفاہمت کے تحت ہو گا۔ یہ فرینڈلی کا لفظ یونہی نہیں لکھا جا رہا بلکہ ماضی میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ اگر کبھی حکومتی حلقوں یا پاور کوریڈورز کی طرف سے کوئی سخت قدم ( جیسے ایمرجنسی یا گورنر راج) لگانے یا کوئی پابندی لگانے کی بات ہوئی اور عوامی سطح پر سخت مخالفت کے باوجود اندرون خانہ فریقین کے درمیان کوئی سمجھوتہ یا لچک موجود ہوئی، تو یہ سیاست دان ظاہراً کچھ اور کرتے رہے اور اصل میں یہ اپنے ذاتی اور گروہی مفادات پورے کرتے رہے۔۔ موجودہ سیاسی کشیدگی میں بھی فریقین پیچھے ہٹنے یا نرمی دکھانے کا عندیہ دے رہے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ تمام سیاسی کھلاڑی اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ وہ کسی بھی سخت فیصلے کو ’’ فرینڈلی‘‘ طریقے سے ہینڈل کر سکیں اور بظاہر محض سیاسی بیان بازی کی حد تک اپنی اپنی پوزیشن کا تحفظ کرتے رہیں لیکن جب عوام کو یہ محسوس ہو جائے کہ سیاستدان اور حکمران طبقہ عوامی مسائل پر لڑنے کے بجائے اندرون خانہ اپنے مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں تو پھر یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ سب ’’ اسی تنخواہ پر کام کرتے رہیں گے‘‘۔ اس طرزِ فکر کے پس منظر میں ملکی تاریخ کے چند اہم زمینی حقائق میں سر فہرست مفادات کا گٹھ جوڑ ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی اقتدار کی کشتی ڈولنے لگتی ہے تو بظاہر ایک دوسرے کے شدید مخالف نظر آنے والے یہ سیاسی رہنما اکثر پردے کے پیچھے مفاہمت کی کوئی نہ کوئی راہ نکال لیتے ہیں جبکہ عام سیاسی کارکن سڑکوں پر نقصان اٹھاتا رہتا ہے اور عوام اپنے حقوق کا رونا روتے رہتے ہیں لیکن یہ سیاست دان کبھی بھی عوام کے ساتھ مخلص نہیں ہوتے کیونکہ نظام کے اندر انہیں گروہی کمک اور ادارہ جاتی مدد ہمیشہ حاصل رہتی ہے۔ اس نظام میں اصل جنگ اقتدار اور مراعات کی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب بھی عوام مہنگائی، بدامنی اور روزگار کے بحران میں پس رہے ہیں، لیکن سیاسی اشرافیہ کے باہمی تعلقات اور ’’ مفاہمت‘‘ کے دروازے ہمیشہ کسی نہ کسی شکل میں کھلے رہتی ہیں۔ یہ جب بھی آپس میں لڑتے ہیں اور جب بھی ان حکمران فریقین کو یہ اندازہ ہو جائے کہ زیادہ سختی سے دونوں کا اپنا نقصان ہو سکتا ہے، تو وہ جمہوریت کے نام پر ایسے راستے نکال لیتے ہیں جہاں ماحول گرم بھی رہے اور ان کے مفادات بھی خطرے میں نہ پڑیں۔ اس عوامی بے یقینی اور مایوسی کے ماحول میں عام شہری اس سیاسی نظام کو دیکھ کر واضح طور پر سب کچھ محسوس کر رہے ہوتے ہیں۔ اب اگر وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی دونوں کی طرف سے لچک کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اور فریقین ایک ایک قدم پیچھے ہٹنے پر آمادہ ہوں، تو ظاہر ہے اس سے ملکی سیاسی فضا میں نمایاں بہتری اور خوشگوار تبدیلی آ سکتی ہے۔ جیسا کہ ماضی میں بھی جب جب سیاسی بحرانوں میں بند گلی کی سی صورتحال پیدا ہوئی، مذاکرات ہی وہ واحد دروازہ ثابت ہوئے جن سے کشیدگی کو کم کیا گیا۔ اب بھی اگر دونوں طرف سے سختی اور تلخ بیانیے میں کمی آئی تو ملک میں جاری سیاسی محاذ آرائی اور بے یقینی کا خاتمہ ہو سکتا ہے، جو معیشت اور عام عوام کے لئے شاید ریلیف کا باعث بنے۔ شاید مذاکرات کے ذریعے تمام معاملات کو سڑکوں پر لڑنے کی بجائے پارلیمنٹ اور آئینی دائرہ کار کے اندر حل کرنے کی ثقافت پروان چڑھ سکے۔ ان حالات میں جبکہ ملک کو دہشت گردی اور شدید معاشی چیلنجز کا سامنا ہے؛ فریقین کی بیٹھک سے قومی سلامتی اور معیشت جیسے سلگتے ہوئے مسائل پر ایک متفقہ لائحہ عمل بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ اگرچہ سیاسی لچک مثبت شگون ہے، لیکن زمینی حقائق اور ماضی کے تجربات یہ بتاتے ہیں کہ بعض اہم مطالبات ( جیسے قیدیوں کی رہائی، لانگ مارچ یا احتجاج کی کالز اور قانون سازی کے معاملات) پر ڈیڈ لاک بھی آ جاتا ہے۔ اس لئے پائیدار خوشگوار فضا کے لئے ضروری ہے کہ مذاکرات صرف وقتی بندوبست کے لئے نہ ہوں بلکہ فریقین یعنی وفاق اور کے پی کے صوبہ کے درمیان طویل مدتی رولز آف دی گیم طے پائیں، جن میں با اعتماد رابطہ کاری کا نظام موجود ہو۔ ساتھ ہی طالبان نوازی پر سزائیں بھی ضروری ہیں چاہے کوئی وزیر ہو یا سرکاری اہلکار۔

جواب دیں

Back to top button