
وزیر دفاع خواجہ آصف نے پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گورنر راج آخری آپشن ہوگا، حکومت کوشش کررہی ہےکہ وہاں تک نہ جانا پڑے، کوئی راستہ نہ بچا تو دارالحکومت کو کسی کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑ سکتے، ہر دو تین ماہ بعد لشکر کشی کے ذریعے دارالحکومت پر حملے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، اگر دارالحکومت پر حملہ کیا جائے گا تو حکومت کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔
خواجہ آصف نے کہا گور نرراج کے حوالے سے حتمی فیصلہ حالات اور دستیاب آپشنز کو دیکھ کر کیا جائے گا، حکومت گورنر راج سمیت تمام آئینی اور قانونی آپشنز پر غورکررہی ہے، عوام میں اتنا سیاسی شعور ہےکہ وہ موجودہ صورتحال کو سمجھ سکتے ہیں۔
خواجہ آصف نےکہا کے پی حکومت اور طالبان کے درمیان روابط کے حوالے سے شواہد موجود ہیں۔ مسلم لیگ ن طالبان کی اتحادی نہیں بنی، پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کی دہشت گردی سے لاتعلقی اور مجرمانہ بے حسی جاری ہے۔
وزیردفاع نے کہا صوبہ دہشتگردی کی زد میں ہے اور وزیراعلیٰ اور کابینہ سیاسی لانگ مارچ میں مصروف ہیں، اہم فیصلےکرنے کا وقت آچکا ہے، پورے صوبے کو یرغمال نہیں بنایا جاسکتا، ملک کی وحدت کو خطرے میں نہیں ڈالا جا سکتا اور نہ ہی خیبر پختونخوا کی عوام کو مزید نا اہل اور بے حس حکمرانوں کے رحم و کرم پر چھوڑا جا سکتا ہے۔







