Column

پی ٹی آئی کو مذاکرات کی دعوت، سیاسی حکمتِ عملی یا مجبوری؟

پی ٹی آئی کو مذاکرات کی دعوت، سیاسی حکمتِ عملی یا مجبوری؟
غلام مصطفیٰ جمالی
پاکستان کی سیاست ایک بار پھر ایسے مقام پر کھڑی ہے، جہاں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان فاصلے کم کرنے کے لیے مذاکرات کی بات ہو رہی ہے، لیکن دوسری طرف احتجاج، لانگ مارچ اور دھرنے کی سیاست بھی جاری ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر پاکستان تحریک انصاف کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر لانگ مارچ اور دھرنا ختم کیا جائے تو حکومت بات چیت کے لیے تیار ہے۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ سیاسی مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالا جا سکتا ہے اور احتجاج کی سیاست سے ملک کی معیشت متاثر ہوتی ہے۔
یہ صورتحال ایک اہم سوال ضرور پیدا کرتی ہے کہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی کو بار بار مذاکرات کی دعوت سیاسی حکمتِ عملی ہے یا سیاسی دبائو کا نتیجہ؟ اس سوال کا جواب صرف سیاسی نعروں سے نہیں بلکہ موجودہ حالات کو سمجھ کر تلاش کرنا ہوگا۔ ایک طرف حکومت چاہتی ہے کہ ملک میں سیاسی کشیدگی کم ہو، کاروباری سرگرمیاں متاثر نہ ہوں اور امن و امان کی صورتحال خراب نہ ہو، جبکہ دوسری طرف پی ٹی آئی اپنے سیاسی مطالبات کے لیے سڑکوں پر آنے کا راستہ اختیار کر رہی ہے۔
حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان اکتوبر کے آغاز میں مذاکرات کا سلسلہ شروع بھی ہوا۔ پہلے مرحلے میں فریقین نے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا، لیکن اگلے مرحلے میں بنیادی معاملات پر اختلاف برقرار رہا۔ پی ٹی آئی کی جانب سے اپنے بانی عمران خان سے ملاقات اور دیگر مطالبات کو اہم قرار دیا گیا، جبکہ حکومت احتجاج اور لانگ مارچ ختم کرنے پر زور دیتی رہی۔ بالآخر مذاکرات کسی واضح نتیجے تک نہ پہنچ سکے اور پی ٹی آئی نے اسلام آباد کی جانب مارچ کا راستہ اختیار کیا۔
اب وزیراعظم کی تازہ پیشکش کو اسی سیاسی پس منظر میں دیکھنا ہوگا۔ حکومت ایک طرف واضح کر رہی ہے کہ اسلام آباد میں احتجاج کی اجازت نہیں دی جائے گی اور دوسری طرف مذاکرات کا دروازہ بھی بند نہیں کرنا چاہتی۔ یہی دوہری حکمتِ عملی موجودہ سیاسی بحران کی اصل تصویر پیش کرتی ہے۔ حکومت تصادم سے بچنا چاہتی ہے لیکن ریاستی نظم و نسق اور دارالحکومت کے تحفظ کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے لیے بھی یہ صورتحال آسان نہیں۔ احتجاج کے ذریعے سیاسی دبائو بڑھانا ایک راستہ ہے، لیکن مذاکرات سیاسی مطالبات کو پارلیمانی اور آئینی طریقے سے آگے بڑھانے کا دوسرا راستہ فراہم کرتے ہیں۔ اگر دونوں فریق صرف ایک دوسرے سے اپنی شرائط منوانے پر اصرار کرتے رہیں گے تو مذاکرات کا عمل دوبارہ تعطل کا شکار ہو سکتا ہے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں احتجاج اور مذاکرات دونوں ساتھ ساتھ چلتے رہے ہیں، لیکن کسی بھی جمہوری نظام میں مستقل سیاسی کشیدگی عوام کے لیے فائدہ مند نہیں ہوتی۔ جب سیاسی جماعتیں سڑکوں پر آتی ہیں تو سب سے پہلے عام شہری متاثر ہوتا ہے۔ راستے بند ہوتے ہیں، کاروبار متاثر ہوتا ہے، طلبہ اور مریض مشکلات کا شکار ہوتے ہیں اور ریاستی مشینری کا بڑا حصہ سیاسی تنازع سے نمٹنے میں مصروف ہو جاتا ہے۔ موجودہ احتجاج کے دوران راستوں کی بندش اور نقل و حمل پر اثرات کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔
وزیراعظم نے بھی اپنی تازہ تقریر میں اسی پہلو پر زور دیا کہ احتجاج اور دھرنوں کی سیاست معیشت کو متاثر کر سکتی ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ ملک میں معاشی سرگرمیوں اور ترقی کے عمل کو سیاسی کشیدگی سے نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔
لیکن دوسری طرف صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ احتجاج ختم کرو اور پھر مذاکرات ہوں گے۔ اگر حکومت واقعی مذاکرات کو سیاسی حل کا راستہ سمجھتی ہے تو اسے بھی مذاکرات میں قابلِ عمل نکات سامنے رکھنے ہوں گے۔ اسی طرح پی ٹی آئی کو بھی یہ واضح کرنا ہوگا کہ اس کے مطالبات کیا ہیں، ان میں سے کون سے مطالبات آئینی اور سیاسی طریقے سے حل کیے جا سکتے ہیں اور کون سے معاملات عدالتوں یا متعلقہ اداروں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔
اصل مسئلہ حکومت یا پی ٹی آئی میں سے کسی ایک کی فتح نہیں بلکہ سیاسی نظام میں اعتماد کی بحالی ہے۔ اگر حکومت مذاکرات کی میز پر آتی ہے تو اسے صرف وقت حاصل کرنے کے لیے نہیں بلکہ قابلِ عمل حل تلاش کرنے کے لیے آنا چاہیے۔ اسی طرح اپوزیشن کو بھی مذاکرات کو محض احتجاج کی حکمتِ عملی کا حصہ بنانے کے بجائے سیاسی مسئلے کے حل کا ذریعہ بنانا ہوگا۔
وزیراعظم کی تازہ دعوت کو حکومت کی کمزوری قرار دینا بھی مکمل تصویر نہیں، کیونکہ حکومت بیک وقت احتجاج ختم کرنے، قانون و امن برقرار رکھنے اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے۔ دوسری طرف اسے صرف طاقت کی علامت سمجھنا بھی درست نہیں ہوگا۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ مذاکرات کی پیشکش عملی نتیجے میں تبدیل ہوتی ہے یا ایک بار پھر سیاسی بیانات تک محدود رہ جاتی ہے۔
پاکستان کو اس وقت سیاسی کشیدگی سے زیادہ سیاسی استحکام کی ضرورت ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کے پاس اپنے اپنے موقف ہیں، لیکن ملک کا نظام کسی ایک فریق کی خواہش پر نہیں بلکہ آئین، پارلیمان اور سیاسی مکالمے کے ذریعے آگے بڑھ سکتا ہے۔ اگر مذاکرات کا دروازہ کھلا ہے تو اسے بند کرنے کے بجائے ایسا راستہ نکالنا چاہیے جس میں حکومت کی رٹ بھی برقرار رہے، اپوزیشن کا سیاسی حق بھی محفوظ ہو اور عوام کو احتجاج اور محاذ آرائی کے مسلسل بوجھ سے نجات ملے۔
آج اصل سوال یہ نہیں کہ حکومت پی ٹی آئی سے مذاکرات کیوں کر رہی ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا دونوں فریق اپنے سیاسی موقف سے ایک قدم آگے بڑھ کر ملک کے وسیع تر مفاد میں قابلِ قبول راستہ نکال سکتے ہیں؟، اگر جواب ہاں ہے تو مذاکرات محض سیاسی حکمتِ عملی نہیں بلکہ بحران سے نکلنے کا راستہ بن سکتے ہیں۔ اور اگر دونوں جانب صرف اپنی اپنی شرائط منوانے کی کوشش جاری رہی تو مذاکرات کی ہر نئی دعوت ایک نئے تعطل کا آغاز بن سکتی ہے۔

جواب دیں

Back to top button