
پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت 40 ہزار پاکستانی فوجیوں کی سعودی عرب میں تعیناتی سے متعلق خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ کو ’قیاس آرائی پر مبنی‘ قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ’فیکٹ چیکر وزارتِ اطلاعات و نشریات‘ نامی اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ معاہدے کی آپریشنل تفصیلات خفیہ ہیں اور انھیں میڈیا کی قیاس آرائیوں کا موضوع نہیں بنایا جانا چاہیے۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان حرمین شریفین اور سعودی عرب کی سلامتی کے لیے اپنے عزم کا پہلے ہی واضح اظہار کر چکا ہے اور اس معاملے پر پاکستان کا مؤقف غیر متزلزل ہے۔
وزارتِ اطلاعات کا یہ ردعمل روئٹرز کی تین اکتوبر کی رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان نے سعودی عرب کی سرحدوں کے دفاع اور ڈرون و میزائل حملوں کی روک تھام میں مدد کے لیے 30 ہزار سے 40 ہزار کے درمیان فوجی سعودی عرب میں تعینات کیے ہیں۔
روئٹرز کی رپورٹ میں، جس کا حوالہ وزارتِ اطلاعات نے اپنے فیکٹ چیک میں دیا، ایک پاکستانی عہدیدار کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ یہ فوجی دستے گذشتہ سال سے مختلف مراحل میں سعودی عرب پہنچے جبکہ حالیہ کشیدگی کے بعد بھی مزید تعیناتی عمل میں آئی۔
وزارتِ اطلاعات و نشریات کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسی رپورٹس سے گریز کیا جانا چاہیے جو نامعلوم اور غیر منسوب ذرائع پر مبنی ہیں۔







