
خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے کرک سے روانگی کے موقع پر لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ دہشت گردی ایک منصوبہ بندی کے تحت مسلط کی گئی اور غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک تقسیم ہو رہا ہے۔
اپنے خطاب میں وزیرِ اعلیٰ نے الزام لگایا کہ ’خیبر پختونخوا کو غلط پالیسی کا حصہ بننے پر مجبور کیا جا رہا تھا‘ اور صوبے کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔
انھوں نے کہا: ’ہم ہر اس پالیسی سے باغی ہیں، جو عوام کے مفاد میں نہ ہو۔‘
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ’اگر اپنے عوام کے ساتھ کھڑا ہونا نا سمجھی ہے تو میں یہ نا سمجھی بار بار کروں گا۔‘
سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’پورے ملک میں اس سسٹم کے خلاف نفرت دیکھ رہا ہوں، خیبر سے کراچی تک ہر شخص اسلام آباد جانا چاہتا ہے۔‘
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا نے دعویٰ کیا کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان ملک میں حقیقی سیاسی تبدیلی لا سکتے ہیں۔
اپنی تقریر کے اختتام پر سہیل آفریدی نے کارکنوں سے صوابی پہنچنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہاں آئندہ کے لائحۂ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کا پہلا پڑاؤ ضلع کرک میں تھا، جبکہ دوسرا پڑاؤ کوہاٹ شہر سے چند کلومیٹر پہلے لاچی کے مقام پر ہے۔







