Column

اقوام متحدہ میں پاکستان کا موقف، فلسطین سے مشرق وسطیٰ تک امن کی جدوجہد

اقوام متحدہ میں پاکستان کا موقف، فلسطین سے مشرق وسطیٰ تک امن کی جدوجہد
غلام مصطفیٰ جمالی
دنیا اس وقت ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں جنگیں صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہیں بلکہ ان کے اثرات پوری دنیا کی معیشت، سیاست اور امن و سلامتی پر مرتب ہو رہے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، فلسطین کا مسئلہ، ایران سے متعلق بحران، خطے میں بڑھتی ہوئی بے یقینی اور مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات نے عالمی برادری کے سامنے کئی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔ ایسے حالات میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس محض ایک رسمی عالمی اجتماع نہیں بلکہ مختلف ممالک کے لیے اپنے موقف کو دنیا کے سامنے رکھنے کا ایک اہم موقع بن جاتا ہے۔ پاکستان بھی اس موقع پر اپنا موقف پیش کر رہا ہے اور اس کی سفارت کاری کا بنیادی پیغام جنگ کے بجائے مذاکرات، طاقت کے بجائے قانون اور تنازعات کے بجائے امن کی طرف پیش رفت ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب عالمی سطح پر امن اور سلامتی کا مسئلہ پہلے سے زیادہ اہم ہو چکا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ موقع اس لیے بھی اہم ہے کہ اسلام آباد ایک طرف خطے میں امن اور استحکام کی ضرورت پر زور دیتا ہے تو دوسری طرف فلسطین اور کشمیر سمیت ان معاملات کو بھی عالمی برادری کے سامنے اجاگر کرتا ہے جنہیں پاکستان طویل عرصے سے اپنی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ قرار دیتا آیا ہے۔
فلسطین کا مسئلہ آج بھی عالمی سیاست کا ایک بڑا انسانی اور سفارتی مسئلہ ہے۔ غزہ میں انسانی مشکلات، شہری آبادی کی پریشانیاں اور خطے میں جاری کشیدگی نے دنیا بھر میں تشویش پیدا کی ہے۔ پاکستان کا موقف یہ رہا ہے کہ فلسطینی عوام کو ان کے بنیادی حقوق ملنے چاہئیں اور مسئلہ فلسطین کا ایسا حل تلاش کیا جانا چاہیے جس میں فلسطینی عوام کی سیاسی اور قومی امنگوں کو تسلیم کیا جائے۔ اقوام متحدہ کا پلیٹ فارم پاکستان کو یہ مقف ایک مرتبہ پھر عالمی برادری کے سامنے رکھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
پاکستان کے لیے کشمیر بھی ایک دیرینہ مسئلہ ہے۔ اسلام آباد مسلسل اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔ پاکستان کی سفارت کاری میں کشمیر کا معاملہ ہمیشہ اہم رہا ہے اور عالمی فورم پر اس کا ذکر پاکستان کے بنیادی خارجہ پالیسی موقف کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے اقوام متحدہ کا اجلاس پاکستان کے لیے کشمیر کے مسئلے کو عالمی توجہ میں رکھنے کا ایک اور موقع ہے۔
موجودہ عالمی حالات میں پاکستان کے سامنے ایک اور بڑا چیلنج دہشت گردی کا ہے۔ پاکستان خود کئی برسوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا سامنا کرتا رہا ہے اور اس کے نتیجے میں ملک نے انسانی جانوں کے ساتھ ساتھ معاشی اور سماجی سطح پر بھی بھاری نقصان اٹھایا ہے۔ پاکستان عالمی برادری سے یہ مطالبہ کرتا رہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششیں کی جائیں اور کسی بھی ملک کی سرزمین کو دوسرے ملک کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ یہ موقف اقوام متحدہ جیسے عالمی ادارے کے سامنے مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے کیونکہ دہشت گردی کسی ایک ملک کا نہیں بلکہ عالمی امن کا مسئلہ بن چکی ہے۔
مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال نے عالمی معیشت کو بھی متاثر کیا ہے۔ تیل کی قیمتیں، سمندری راستوں کی سلامتی، تجارت اور توانائی کی فراہمی براہ راست خطے کے امن سے جڑی ہوئی ہیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے یہ صورتحال مزید اہم ہے کیونکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست عام آدمی کی زندگی، سفری اخراجات، بجلی، صنعت اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ اسی لیے پاکستان کے لیے مشرق وسطیٰ میں امن صرف خارجہ پالیسی کا معاملہ نہیں بلکہ ملکی معیشت اور عوامی زندگی سے بھی براہ راست جڑا ہوا مسئلہ ہے۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اسلام آباد مختلف ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو متوازن رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ برادرانہ تعلقات ہیں، ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے، جبکہ خلیجی ممالک پاکستان کی معیشت اور لاکھوں پاکستانیوں کے روزگار کے حوالے سے اہم حیثیت رکھتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ خطے میں کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کی حوصلہ افزائی کرنے اور تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ سفارتی رابطے برقرار رکھنے کی کوشش کرے۔
اقوام متحدہ کا بنیادی مقصد ہی عالمی امن اور سلامتی کا قیام ہے، لیکن گزشتہ کئی برسوں کے واقعات نے یہ سوال ضرور پیدا کیا ہے کہ عالمی ادارے جنگوں اور تنازعات کو روکنے میں کس حد تک موثر ثابت ہو رہے ہیں۔ طاقتور ممالک کے اپنے مفادات، سلامتی کونسل میں اختلافات اور مختلف عالمی تنازعات پر دوہرے معیار کے الزامات نے اقوام متحدہ کے کردار پر بحث کو جنم دیا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ عالمی قانون، خودمختاری، مذاکرات اور پرامن تنازعات کے حل کی حمایت کرتے ہوئے عالمی اداروں کو زیادہ موثر بنانے کی بات کریں۔
پاکستان کی سفارت کاری کے لیے ایک اور اہم پہلو معاشی تعاون ہے۔ آج کے دور میں خارجہ تعلقات صرف سیاسی ملاقاتوں تک محدود نہیں رہے۔ سرمایہ کاری، تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی اور روزگار بھی ممالک کے باہمی تعلقات کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔ پاکستان کو عالمی سطح پر اپنی سفارتی سرگرمیوں کے ساتھ معاشی سفارت کاری کو بھی مزید موثر بنانا ہوگا تاکہ ملک کے لیے سرمایہ کاری، تجارت اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں۔
پاکستان کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ عالمی فورمز پر اپنی بات صرف احتجاجی انداز میں نہ رکھے بلکہ ایک واضح اور تعمیری سفارتی حکمت عملی کے ساتھ اپنا موقف پیش کرے۔ دنیا آج ایسے ممالک کی طرف دیکھ رہی ہے جو تنازعات میں اضافہ کرنے کے بجائے انہیں کم کرنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع، چین، ایران، افغانستان، بھارت اور خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات اور خطے میں اس کی اہمیت اسے سفارتی طور پر ایک منفرد مقام فراہم کرتی ہے۔
آج جب دنیا جنگوں، معاشی بحرانوں، دہشت گردی اور سیاسی کشیدگی کا شکار ہے، پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور دینا اس کی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ ہے۔ تاہم عالمی سیاست میں صرف موقف پیش کرنا کافی نہیں ہوتا بلکہ سفارتی کوششوں کو عملی نتائج سے جوڑنا بھی ضروری ہے۔ پاکستان کو عالمی سطح پر اپنے دوست ممالک کے ساتھ مل کر ایسے اقدامات کی حمایت کرنی چاہیے جو جنگ بندی، انسانی امداد، مذاکرات اور سیاسی حل کی راہ ہموار کریں۔
اقوام متحدہ کے ایوان میں پاکستان کی آواز دراصل پاکستان کے عوام کی امن کی خواہش کی نمائندگی بھی کرتی ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ دیکھی ہے، خطے میں کئی بحرانوں کے اثرات برداشت کیے ہیں اور معاشی مشکلات کا سامنا کیا ہے۔ اس لیے پاکستان کے لیے عالمی امن کوئی نظریاتی بحث نہیں بلکہ ایک عملی ضرورت ہے۔ ایک پرامن خطہ ہی پاکستان کو اپنی معیشت مضبوط کرنے، عوام کی زندگی بہتر بنانے اور ترقی کے سفر کو تیز کرنے کا موقع دے سکتا ہے۔
آج دنیا کو مزید جنگوں کی نہیں بلکہ مزید سفارت کاری کی ضرورت ہے۔ فلسطین ہو، کشمیر ہو، مشرق وسطیٰ کا بحران ہو یا دہشت گردی کا مسئلہ، پائیدار حل طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ سیاسی مذاکرات، عالمی قانون اور انصاف کے اصولوں سے ہی ممکن ہے۔ اقوام متحدہ کا پلیٹ فارم اسی مقصد کے لیے قائم کیا گیا تھا اور پاکستان کو چاہیے کہ وہ اس پلیٹ فارم پر امن، مذاکرات اور عالمی قانون کی حمایت میں اپنی آواز موثر انداز میں بلند کرتا رہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو تباہی کے بجائے استحکام اور ترقی کی طرف لے جا سکتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button