Column

افغانستان پر فضائی حملے، دہشت گردی کا جواب یا نیا محاذ؟

شاہد ندیم احمد
افغانستان پر فضائی حملے، دہشت گردی کا جواب یا نیا محاذ؟
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات ایک بار پھر ایسے نازک موڑ پر پہنچ گئے ہیں کہ جہاں سرحدی دہشت گردی، فضائی حملوں، سفارتی احتجاج اور باہمی الزامات نے ایک دوسرے کو جوڑ لیا ہے، خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات کے بعد پاکستان کی جانب سے افغانستان کے اندر مبینہ دہشت گرد ٹھکانوں پر فضائی کارروائی نے پرانے تنازع کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے، اب معاملہ صرف یہ نہیں رہا کہ پاکستان میں دہشت گرد حملے کہاں سے ہو رہے ہیں، بلکہ سوال یہ بھی ہے کہ ان حملوں کے جواب میں پاکستان افغانستان کے اندر کس حد تک کارروائی کر سکتا ہے ، اس کا کابل کیا جواب دے گا اور کیا یہ سلسلہ دونوں ممالک کو ایک ایسے عسکری تصادم کی طرف لے جا سکتا ہے کہ جس سے نکلنا دونوں کیلئے ہی مشکل ہو جائے گا؟۔
اس پوری صورتحال کو سمجھنے کے لیے پس منظر کو دیکھنا ضروری ہے کہ جس نے موجودہ بحران کو جنم دیا ہے، پاکستان کئی عرصے سے موقف اختیار کرتا چلا آرہا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان اور اس سے منسلک عسکریت پسند گروہوں کے بعض مراکز اور سہولت کار افغانستان میں موجود ہیں اور وہاں سے پاکستان کے اندر دہشت گرد کارروائیوں کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے، اسلام آباد کا کہنا ہے کہ کابل سے متعدد مرتبہ مطالبہ کیا گیا کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکا جائے، لیکن مطلوبہ نتائج سامنے نہیں آئے ہیں، جبکہ افغانستان کی طالبان حکومت، پاکستان کے ان الزامات کو مسترد کرتی آ رہی ہے اور ٹی ٹی پی کو پاکستان کا داخلی مسئلہ قرار دیتی آرہی ہے، یہ بنیادی اختلاف ہی آج کے بحران کی جڑ ہے، اس اختلاف کو دور کر نے کے بجائے مزید اضافہ کیا جارہا ہے۔
یہ کشیدگی اس وقت مزید بڑھی ہے کہ جب خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے سنگین واقعات سامنے آئے ہیں، کوہاٹ میں پولیس کمپائونڈ پر خودکش حملے اور مسلح افراد کی کارروائی میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا، پاکستان نے ان واقعات کے بعد واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی محض داخلی سطح تک محدود نہیں رہے گی اور ان عناصر کے خلاف بھی اقدامات کیے جائیں گے، جوکہ پاکستانی حکام کے مطابق افغانستان کی سرزمین پر موجود ہیں، اس کے بعد پاکستان نے افغانستان کے سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں، اس میں 28دہشت گرد مارے گئے کہ جن میں خودکش حملہ آور بھی شامل تھے۔
افغان طالبان حکومت نے پاکستانی کارروائی کی شدید مذمت کی اور اسے افغانستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے، افغان حکام کے مطابق پاکستانی حملوں میں عام شہری بھی متاثر ہوئے ہیں، جبکہ پاکستان کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں، تاہم ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں ہے، یہ اختلاف اس بحران کی سنگینی کو واضح کرتا ہے، اگر ایک ملک کسی کارروائی کو انسدادِ دہشت گردی آپریشن قرار دے اور دوسرا اسے اپنی خودمختاری پر حملہ سمجھے تو پھر ہر اگلا قدم پہلے سے زیادہ حساس ہو جاتا ہے، اس پر افغانستان نے پاکستانی سفارتی نمائندے کو طلب کرکے نہ صرف احتجاج کیا، بلکہ اس کارروائی کا جواب دنے کا عندیہ بھی دیا ہے، اس بیان نے معاملے کو محض سفارتی احتجاج سے آگے بڑھا کر ممکنہ عسکری ردعمل کے خدشے تک پہنچا دیا ہے۔
اس پر ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے، اگر افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی ہو رہی ہے اور اس کو افغان طالبان حکومت روک بھی نہیں رہی ہے تو پاکستان کے پاس کیا راستہ رہ جاتا ہے؟ پاکستان کے سامنے بنیادی طور پر تین ہی راستے ہیں، سفارتی دبائو، انٹیلی جنس اور سرحدی انتظام کے ذریعے خطرے کو روکنا یا ضرورت پڑنے پر سرحد پار محدود فوجی کارروائی کر نا ہے، پاکستان تینوں راستے استعمال کر رہا ہے، لیکن معاملات سدھرنے کے بجائے مزید بگڑ رہے ہیں تو کیا اس صورتحال میں فضائی حملے دہشت گردی کا مستقل حل بن سکتے ہیں؟۔
اگر دیکھا جائے تو فضائی کارروائی کسی مخصوص ٹھکانے، کمانڈ مرکز یا دہشت گرد گروہ کی آپریشنل صلاحیت کو نقصان پہنچا سکتی ہے، لیکن دہشت گردی کا پورا نیٹ ورک صرف میزائل یا بمباری سے ختم نہیں ہوگا، اس کے لیے انٹیلی جنس تعاون، سرحدی نگرانی، مالیاتی نیٹ ورک کی روک تھام، دہشت گردوں کی نقل و حرکت پر قابو، مقامی سہولت کاروں کے خلاف کارروائی اور سب سے بڑھ کر ایک موثر سیاسی و سفارتی نظام درکار ہوگا، اگر اسلام آباد صرف فضائی کارروائیوں تک محدود رہتا ہے تو ممکن ہے کہ وقتی طور پر کچھ دہشت گرد ٹھکانوں کو نقصان پہنچے، لیکن طویل مدت میں مسئلہ دوبارہ سامنے آ سکتا ہے، اس کے برعکس پاکستان عسکری کارروائی کے ساتھ کابل پر سفارتی دبائو، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے، سرحدی نگرانی اور قابلِ تصدیق سکیورٹی میکنزم کے قیام پر بھی زور دے تو صورتحال کو ایک وسیع حکمتِ عملی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، اگر یہ نظام تشکیل پا گیا تو موجودہ بحران کو محدود کیا جا سکتا ہے، لیکن اگر الزام، جوابی حملے اور مزید عسکری کارروائیوں کا سلسلہ ایسے ہی جاری رہا تو پاکستان اور افغانستان کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔

 

مشتاق الرحمان زاہد
اسلام آباد میں تعلیمی اداروں کی بندش
وفاقی حکومت کی جانب سے اسلام آباد میں 22ستمبر سے 24سرکاری تعلیمی ادارے بند کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ سیاسی تنظیموں کی جانب سے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر اضافی پولیس نفری طلب کی جائے گی اور ان سرکاری اسکولوں کی عمارتوں میں پولیس اہلکاروں کو رہائش فراہم کی جائے گی۔ آخر ہمارے تعلیمی ادارے کب تک ہر ہنگامی صورتِ حال، ہر انتظامی ضرورت اور ہر مشکل وقت کی بھینٹ چڑھتے رہیں گے
یہ افسوسناک پہلو ہے کہ جب بھی کوئی ہنگامی صورتِ حال پیدا ہوتی ہے، کوئی مشکل سامنے آتی ہے یا کسی مسئلے سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو سب سے پہلے تعلیمی اداروں کی طرف توجہ جاتی ہے۔ کسی بھی مسئلے کا حل تلاش کرتے ہوئے یہ سوچنا شاید آسان سمجھا جاتا ہے کہ اسکول بند کر دیے جائیں، طلبہ کو گھروں تک محدود کر دیا جائے اور تعلیمی سرگرمیوں کو وقتی طور پر روک دیا جائے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ باقی تمام معاملات اپنی جگہ برقرار رہ سکتے ہیں، لیکن تعلیمی اداروں کو بند کرنا ہر مسئلے کا ایک آسان اور فوری حل تصور کیا جاتا ہے۔
بدقسمتی سے یہ طرزِ عمل اب ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔ کبھی سیاسی احتجاج کے پیش نظر اسکول بند کر دئیے جاتے ہیں ، کبھی سکیورٹی کے نام پر تعلیمی سرگرمیاں معطل کر دی جاتی ہیں، کبھی کسی انتظامی ضرورت کے تحت اسکولوں کی عمارتیں استعمال میں لائی جاتی ہیں اور کبھی کسی اور مسئلے کو بنیاد بنا کر طلبہ کو تعلیم سے دور کر دیا جاتا ہے۔ اس تمام صورتِ حال میں سب سے زیادہ نقصان ہمارے ان بچوں کا ہوتا ہے جو پہلے ہی تعلیمی سہولیات کی کمی، محدود وسائل اور مختلف مشکلات کے باوجود تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمیں اس حقیقت کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں پہلے ہی ہفتے میں دو دن تعطیل ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ سال بھر میں مختلف سرکاری تعطیلات، موسمی چھٹیاں، امتحانات، انتظامی مصروفیات اور دیگر وجوہات کی بنیاد پر بھی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوتی رہتی ہیں۔ ایسے میں اگر ہر نئی ہنگامی صورتِ حال کے موقع پر بھی اسکولوں کو بند کر دیا جائے تو طلبہ کے لیے تعلیمی سال مکمل کرنا اور نصاب بروقت پڑھنا ایک مشکل امر بن جاتا ہے۔ خصوصاً سرکاری اسکولوں میں زیرِ تعلیم بہت سے بچے ایسے خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں جہاں گھر پر تعلیمی ماحول، مناسب سہولیات یا متبادل تدریسی انتظامات میسر نہیں ہوتے۔ ان کے لیے اسکول ہی تعلیم حاصل کرنے کا بنیادی اور اہم ترین ذریعہ ہے۔ جب اسکول بند ہوتا ہے تو ان بچوں کی تعلیم بھی عملاً رک جاتی ہے۔ ہر طالب علم کے پاس یہ سہولت نہیں ہوتی کہ وہ گھر بیٹھ کر آن لائن کلاسز لے سکے، اضافی ٹیوشن حاصل کر سکے یا کسی دوسرے ذریعے سے اپنی تعلیمی کمی پوری کر سکے جب بھی کوئی مشکل پیدا ہوتی ہے تو تعلیمی ادارے ہی سب سے پہلے کیوں متاثر ہوتے ہیں کیا کسی بھی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے ہمارے پاس دیگر عمارتیں، سرکاری مراکز، انتظامی دفاتر یا متبادل مقامات موجود نہیں اگر کسی ممکنہ احتجاج کے پیش نظر اضافی پولیس نفری طلب کرنا ضروری سمجھا جا رہا ہے تو حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے متبادل انتظامات پر غور کرے جن کے ذریعے سکیورٹی کی ضروریات بھی پوری ہوں اور تعلیمی سرگرمیاں بھی جاری رہیں۔ یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے اسکول وہ مراکز ہیں جہاں ملک کے مستقبل کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ ان عمارتوں میں بچے اپنے خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے علم حاصل کرتے ہیں۔ یہاں اساتذہ اپنی محنت اور صلاحیتوں سے نئی نسل کی تربیت کرتے ہیں۔ ان اداروں کو بار بار غیر تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور ان کی تعلیمی سرگرمیوں کو روک دینا ایک ایسا عمل ہے جس کے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ہمارے ہاں انتخابات کے موقع پر بھی اکثر تعلیمی اداروں کو پولنگ اسٹیشنز کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ بلاشبہ انتخابات ایک اہم قومی اور جمہوری عمل ہیں اور ان کے انعقاد کے لیے مناسب انتظامات ضروری ہوتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر مرتبہ اس مقصد کے لیے تعلیمی اداروں ہی کو ترجیح دینا ناگزیر ہے
جب اسکولوں کو پولنگ اسٹیشن بنایا جاتا ہے تو کئی مرتبہ وہاں کئی دن پہلے سے انتظامی سرگرمیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ انتخابی عملے کی آمد، سامان کی ترسیل، سکیورٹی انتظامات اور دیگر ضروری امور کے باعث تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں۔ بعض اوقات انتخابات کے بعد بھی اسکولوں کو معمول کی حالت میں واپس لانے میں وقت لگتا ہے۔ اس کے علاوہ اساتذہ کو بھی انتخابی ذمہ داریوں میں مصروف کر دیا جاتا ہے۔ وہ اساتذہ جو اپنی تمام تر توجہ طلبہ کی تعلیم و تربیت پر مرکوز رکھنا چاہتے ہیں، انہیں غیر تدریسی فرائض انجام دینے پڑتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں نہ صرف طلبہ کا تعلیمی نقصان ہوتا ہے بلکہ اساتذہ کی اصل ذمہ داری، یعنی تدریس، بھی متاثر ہوتی ہے۔۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ کیا ہمارے پاس ایسا کوئی مستقل اور متبادل انتظام نہیں ہو سکتا جس کے ذریعے انتخابات اور دیگر قومی سرگرمیاں بھی جاری رہیں اور تعلیمی اداروں کی تدریسی سرگرمیاں بھی کم سے کم متاثر ہوں تعلیمی اداروں کی بار بار بندش کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ ان کے وقار اور بنیادی مقصد پر اثر پڑتا ہے۔ ایک اسکول کی عمارت کا بنیادی مقصد بچوں کو تعلیم فراہم کرنا، ان کی شخصیت سازی کرنا اور انہیں مستقبل کی ذمہ داریوں کے لیے تیار کرنا ہے۔ اگر ان عمارتوں کو بار بار پولیس کی رہائش، انتظامی سرگرمیوں یا دیگر غیر تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے تو اس سے ان اداروں کی شناخت اور اہمیت متاثر ہوتی ہے۔
اساتذہ کی ذمہ داری بچوں کو علم دینا، ان کی اخلاقی تربیت کرنا اور ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا ہے۔ لیکن جب انہیں بار بار تدریس کے بجائے مختلف سرکاری اور انتظامی کاموں میں مصروف کر دیا جاتا ہے تو ان کی اصل ذمہ داری متاثر ہوتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ استاد ایک سرکاری ملازم نہیں بلکہ قوم کے مستقبل کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرنے والا فرد ہے۔ اس کے وقت، صلاحیت اور توانائی کو تدریسی امور کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
تعلیم کو اکثر مستقبل کے معماروں کے لیے زیور قرار دیا جاتا ہے۔ یہ ایک خوبصورت جملہ نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے۔ آج جو بچے اسکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، وہی کل ملک کے مختلف شعبوں میں اپنی خدمات انجام دیں گے۔ انہی میں سے ڈاکٹر، انجینئر، اساتذہ، سائنس دان، افسران، ماہرین، کاروباری افراد اور مختلف شعبوں کی ذمہ دار شہری پیدا ہوں گے۔
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ قوموں کی ترقی کا راز ان کے تعلیمی نظام میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ جو قومیں اپنی تعلیم، اپنے تعلیمی اداروں اور اپنے اساتذہ کو اہمیت دیتی ہیں، وہی مستقبل میں ترقی کی منازل طے کرتی ہیں۔ اس کے برعکس جو معاشرے تعلیم کو وقتی ضرورتوں کے تابع بنا دیتے ہیں، ان کے لیے ترقی کا سفر مشکل ہو جاتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت تعلیمی اداروں کو غیر ضروری بندش سے بچائے، ان کے لیے متبادل انتظامات کرے، اساتذہ کو غیر تدریسی مصروفیات سے حتی الامکان آزاد رکھے اور تعلیم کے تسلسل کو ہر ممکن طریقے سے برقرار رکھیں۔

جواب دیں

Back to top button