Column

جماعت اسلامی کا سپر لانگ مارچ

جماعت اسلامی کا سپر لانگ مارچ
تحریر: رانا اعجاز حسین چوہان
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کی قیادت میں جماعت اسلامی کا سپر لانگ مارچ کراچی سے اسلام آباد کے لیے رواں دواں ہے جو کہ ملتان تک ٹرین میں اور ملتان سے اسلام آباد تک بائے روڈ شیڈول ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے حکمرانوں کو متنبہ کیا ہے کہ پٹرولیم لیوی بھتا واپس لینا ہوگا، حکمران فیصلہ کر لیں کہ عوام کو حق دینا ہے یا پھر عوام کا سمندر ملک بھر سے اسلام آباد میں داخل ہوکر سب کچھ ملیا میٹ کر دے ۔ پاکستان اس وقت ایک ایسے شدید معاشی اور سیاسی بحران سے گزر رہا ہے جہاں عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی اور جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنا ناگزیر حد تک دشوار ہو چکا ہے ۔ موجودہ حکومت نے ملک میں مہنگائی کا طوفان برپا کردیا ہے ، غریب اور سفید پوش طبقہ شدید مشکلات کا شکار ہے ملک میں گزشتہ پانچ سال میں قرضوں کا حجم 97ہزار ارب تک پہنچ چکا ہے ، اس کے باوجود حکمرانوں کی عیاشیاں ختم ہونے کو نہیں آرہی ہیں۔ حکومت کی جانب سے عالمی مارکیٹ کے بہانے بنا کر آئے روز بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، اور بالخصوص پٹرولیم مصنوعات پر عائد سنگین پٹرولیم لیوی اور کلائمٹ لیوی جیسے ایندھن ٹیکسوں نے متوسط اور غریب طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے ۔ ایسے میں جماعت اسلامی پاکستان کی جانب سے ظالمانہ معاشی پالیسیوں، آئی پی پیز کے عوام دشمن معاہدوں، ریفائنریز، شوگر اور بینک مافیا کی مبینہ لوٹ مار کے خلاف ’’ سپر لانگ مارچ‘‘ کا نعرہ محض ایک سیاسی شو نہیں بلکہ کروڑوں مظلوم اور پسے ہوئے پاکستانیوں کی آواز بن کر سامنے آیا ہے ۔ حافظ نعیم الرحمان کی اسلام آباد مارچ کی کال سے پاکستان کی سیاست میں ایک ہلچل سی مچ گئی ہے ۔ حکومتی وزراء کی جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ کی دوڑوں پر دوڑیں لگی ہوئی ہیں۔ مشیر داخلہ رانا ثناء اللہ جماعت اسلامی کے قائدین سے منت سماجت کر رہے ہیں کہ اسلام آباد دھرنا دو تین ہفتے آگے بڑھا دیا جائے تاکہ حکومت کوئی راستہ نکال لے ۔ جماعت اسلامی کی مذاکراتی ٹیم نے حکومتی مذاکراتی ٹیم کو لیوی ٹیکس کا متبادل بھی پیش کیا ہے تاکہ عوام کو ریلیف حاصل ہوسکے ۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کے خیالات، پریس کانفرنس اور مختلف اضلاع بشمول مردان، پشاور، اور کراچی کے عوامی جلسوں سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ ملک کے عوام اب حکمرانوں کی روایتی ٹال مٹول اور نمائشی ریلیف پیکیجز پر بہلنی کے لیے تیار نہیں۔
اس وقت کراچی سمیت پورے ملک میں گورنر ہائوسز کے باہر 36دنوں سے جاری مسلسل دھرنا، سمندری مارچ اور ملک گیر احتجاج اس حقیقت کا واضح ثبوت ہیں کہ عوامی اشتعال اپنے عروج پر ہے ۔ حکومت کی جانب سے ایک طرف اربوں روپے کے سرکاری جہاز، لگعری گاڑیاں، مفت بجلی، گیس اور مراعات یافتہ طبقے کی شاہ خرچیاں برقرار ہیں اور دوسری جانب غریب و تنخواہ دار طبقے سے اربوں روپے کا ’’ لیوی بھتہ‘‘ وصول کیا جا رہا ہے ، یہ ایک ایسا تضاد ہے جو کسی بھی سوسائٹی میں مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ جماعت اسلامی کے قائم کردہ موقف میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ حکومت کے پاس متبادل معاشی حل موجود ہیں۔ جیسا کہ اگر صرف سود کی شرح میں چند فی صد کمی لائی جائے اور سودی نظام کے خاتمے کی طرف عملی پیش رفت ہو تو وفاقی خزانے کو اربوں روپے کی بچت ہو سکتی ہے ، جس کے بعد عوام پر لیوی کے نام پر زائد مالی بوجھ ڈالنے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔ اتوار سے شروع ہونے والا یہ سپر لانگ مارچ جو کراچی سے حافظ نعیم الرحمان کی قیادت میں ٹرین مارچ کی صورت میں شروع ہو کر خیبر پختونخوا، بلوچستان، سندھ اور پنجاب کے چاروں اطراف سے قافلوں کی شکل میں اسلام آباد کی طرف گامزن ہو رہا ہے ، حکمران طبقے کے لیے حتمی انتباہ ہے ۔ اگر اب بھی اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے حکمرانوں نے عوامی موڈ کا درست اندازہ نہ لگایا اور پٹرولیم لیوی کے مکمل خاتمے سمیت ناگزیر اصلاحات نہ کیں، تو عوامی غیظ و غضب کا یہ سیلاب روکے نہیں رکے گا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ضد، تعطل اور کنٹینرز کی رکاوٹوں کا سہارا لینے کے بجائے فوری طور پر عوامی مطالبات پر سنجیدگی سے عمل درآمد کرے ، کیونکہ حقوق چھیننے کا یہ تسلسل اب مزید نہیں چل سکتا۔ جماعت اسلامی نے اپنی صلاحیتوں اور قوت، طاقت کا لوہا ہر دور میں منوایا ہے ، اور اب بھی حکمرانوں پر واضح کر دیا ہے کہ حکومت کو پٹرولیم مصنوعات پر 130روپے کا لیوی غنڈہ ٹیکس ہر قیمت پر ختم کرنا ہوگا، پاکستان کو اس وقت سب سے زیادہ استحکام، اعتماد اور مستقل مزاج معاشی پالیسیوں کی ضرورت ہے ۔ اگر روزانہ قیمتوں کے جھٹکوں کا سلسلہ جاری رہا تو نہ صرف مہنگائی مزید بے قابو ہوگی بلکہ سرمایہ کاری، صنعت، تجارت اور روزگار کے مواقع بھی متاثر ہوں گے ۔

جواب دیں

Back to top button