غریب کہاں کھڑا ہے؟

غریب کہاں کھڑا ہے؟
تجمّل حسین ہاشمی
پاکستان میں عام آدمی کی زندگی مہنگائی، بے روزگاری، بجلی کے بھاری بلوں اور روزمرہ ضروریات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے درمیان ایک مسلسل امتحان بنی ہوئی ہے، مگر اب پٹرول کی روزانہ قیمتوں نے اس امتحان کی شدت مزید بڑھا دی ہے۔ ہر دن پٹرولیم کی قیمتوں کے حوالے سے خبر ملتی ہے ۔ عوام یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ اگلے دن سفر، روزگار، کاروبار اور گھر کا بجٹ کس طرح چلے گا ۔ پٹرول صرف گاڑی کی ٹینکی میں نہیں جلتا ، اس کی قیمت بڑھنے سے پورا معاشی پہیہ متاثر ہوتا ہے ۔ سبزی سے لے کر دودھ تک، ٹرانسپورٹ سے لے کر اسکول کی فیس تک، ہر چیز پر اس کا اثر پڑتا ہے۔
وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کے ایک بیان نے عوام کی تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں تیل کی قلت پیدا ہوئی تو شاید پٹرول ایک ہزار روپے فی لٹر میں بھی نہ مل سکے۔ عالمی صورتحال کے باعث تیل کی قیمتوں میں شدید دبائو ہے اور حکومت کی کوشش ہے کہ ملک میں تیل کی فراہمی متاثر نہ ہو۔ وزیر پٹرولیم کے بیان کی نیت پر بحث کرنا نہیں بلکہ اس بیان کے عوامی اثرات کو سمجھنا ضروری ہے ۔ ایک عام مزدور، رکشہ ڈرائیور، موٹر سائیکل سوار، چھوٹا دکاندار یا تنخواہ دار شخص جب یہ سنتا ہے کہ پٹرول ایک ہزار روپے فی لٹر تک بھی پہنچ سکتا ہے تو اس کے ذہن میں عالمی منڈی کے اعداد و شمار نہیں آتے بلکہ اسے اپنے گھر کے خرچے نظر آتے ہیں ۔ اس سوچ پر حکومتی پالیسی اور عام آدمی کی زندگی کے درمیان فاصلہ بڑھتا نظر آتا ہے۔
حکومت عالمی منڈی کے حالات، خام تیل کی قیمت اور خطے کے بحران کی بات کرتی ہے۔ یہ عوامل یقیناً اہم ہیں، لیکن غریب کا سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ جب بحران کا اثر ہر مرتبہ ان کی جیب تک پہنچتا ہے تو ریاست ان کے لیے ایسا مستقل معاشی تحفظ کب پیدا کرے گی جس سے غریب عالمی بحران کا پہلا شکار نہ بنے؟۔ حکومت نے کم آمدنی والے صارفین کے لیے فیول ریلیف اسکیم بھی متعارف کرائی ہے، جس کے تحت موٹر سائیکل، رکشہ اور چنگ چی کے لیے ماہانہ مخصوص مقدار پر فی لٹر 100روپے تک سبسڈی کا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے 75ارب روپے کی منظوری بھی دی گئی۔ ریلیف یقیناً ضروری ہے، مگر کیا عارضی ریلیف مستقل مہنگائی کا مقابلہ کر سکتا ہے؟ ۔ اگر پٹرول مہنگا ہوگا تو صرف موٹر سائیکل چلانے والا متاثر نہیں ہوگا بلکہ سامان لانے والا ٹرک، سبزی پہنچانے والی گاڑی، دودھ سپلائی کرنے والا رکشہ اور مسافر لے جانے والی بس بھی متاثر ہوگی۔ نتیجہ یہ نکلے گا کہ پٹرول کی قیمت کا بوجھ بالآخر کسی نہ کسی شکل میں صارف کی جیب تک ہی پہنچے گا۔
اس وقت ملک میں ایک دوسری بڑی بحث بھی جاری ہے ’’ نئے صوبے اور نئے انتظامی یونٹس کا جلد از جلد قیام‘‘۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نئے انتظامی یونٹس کے قیام پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ فیصلہ عوام کی رائے اور سیاسی اتفاق رائے سے ہونا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نظام حکمرانی کو ری سیٹ کرنے کی ضرورت ہے اور اگر نئے ضلعے بن سکتے ہیں تو نئے صوبے بھی بن سکتے ہیں۔ نئے صوبوں کی بحث اپنی جگہ ایک آئینی، سیاسی اور انتظامی مسئلہ ہے۔ اس کے حق میں یہ موقف سامنے آتا ہے کہ بڑی آبادی اور وسیع علاقوں کے باعث انتظامی اختیارات عوام کے قریب لانے کے لیے نئے انتظامی یونٹس ضروری ہو سکتے ہیں، جبکہ مخالفین اس کے سیاسی، مالی اور انتظامی اثرات پر سوال اٹھاتے ہیں۔ سندھ میں اس بحث پر سخت ردعمل بھی سامنے آیا ہے اور سندھ حکومت کی جانب سے صوبے کی جغرافیائی وحدت برقرار رکھنے کا موقف اختیار کیا گیا ہے۔ لیکن یہاں پھر وہی سوال ہے کہ غریب کہاں کھڑا ہے؟۔ نیا صوبہ بنے یا نہ بنے، عام آدمی کو اس وقت ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جو اس کے بنیادی مسائل حل کرے۔ اسے اپنے بچے کے لیے اچھا اسکول چاہیے، بیمار ہونے پر سرکاری اسپتال میں علاج چاہیے، گھر میں صاف پانی چاہیے، گلی میں نکاسی آب چاہیے، روزگار چاہیے اور سب سے بڑھ کر اپنی محدود آمدنی میں عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق چاہیے۔ اگر صوبوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے لیکن عام آدمی کو سرکاری دفتر میں کام کرانے کے لیے پھر بھی سفارش یا رشوت درکار ہو، اگر نیا انتظامی یونٹ بن جائے لیکن سرکاری اسپتال میں دوا نہ ہو، اگر نیا صوبہ بن جائے لیکن نوجوان کے پاس روزگار نہ ہو، تو پھر صرف نقشے پر لکیر بدلنے سے غریب کی زندگی کیسے بدلے گی؟۔
اصل مسئلہ صرف صوبوں کا نہیں، حکمرانی اور لوٹ مار کا ہے ۔ پاکستان میں عام آدمی ہر دور میں جھوٹے بیانیوں کا بوجھ اٹھاتا رہا ہے۔ کبھی مہنگائی ختم کرنے کا وعدہ، کبھی روزگار دینے کا وعدہ، کبھی سستی بجلی کا وعدہ اور کبھی عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کا وعدہ۔ لیکن جب عملی زندگی میں آٹا، چینی، بجلی، گیس، ادویات اور پٹرول سب اس کی پہنچ سے دور ہونے لگیں تو اسے وعدوں سے زیادہ ایک ایسا نظام چاہیے جو اسے فوری سہارا دے۔پٹرول کی قیمت میں اضافہ دراصل پورے معاشری کے لیے ایک معاشی پیغام ہوتا ہے۔ جس گھر میں موٹر سائیکل روزگار کا ذریعہ ہے وہاں پٹرول مہنگا ہونا براہ راست آمدنی پر اثر ڈالتا ہے۔ رکشہ ڈرائیور کرایہ بڑھائے تو مسافر پریشان ہوتا ہے، کرایہ نہ بڑھائے تو ڈرائیور کا گھر متاثر ہوتا ہے۔ دکاندار مال کی قیمت بڑھاتا ہے تو خریدار پریشان ہوتا ہے، قیمت نہ بڑھائے تو دکاندار کا کاروبار دبائو میں آتا ہے۔ یوں پٹرول کی قیمت صرف ایک عدد نہیں رہتی بلکہ پورے معاشرے میں مہنگائی کی ایک نئی زنجیر پیدا کرتی ہے۔ حکومت کے لیے اصل امتحان یہی ہے کہ وہ عالمی بحران کا بوجھ عوام تک کس حد تک منتقل ہونے دیتی ہے اور اس کے مقابلے میں عام آدمی کے لیے کیا مستقل حفاظتی دیوار کھڑی کرتی ہے۔ہمیں سوچنا ہوگا کہ کیا ہماری سیاست کی ترجیحات عوام کی معاشی ترجیحات سے مطابقت رکھتی ہیں؟ جب ایک گھر کا سربراہ یہ حساب لگا رہا ہو کہ مہینے کے آخری دن کیسے چلے گئیں صوبوں کی نئی تقسیم، سیاسی بیانات اور اقتدار کی کشمکش میں عام آدمی خود کو اس بحث سے دور محسوس کرے گا۔ نئے صوبوں پر بحث ہونی چاہیے، مگر اس بحث کا مرکز بھی عوام ہونا چاہیے۔ انتظامی یونٹس بننے چاہئیں یا نہیں، اس کا فیصلہ آئینی تقاضوں، عوامی رائے، انتظامی ضرورت اور معاشی اثرات کو سامنے رکھ کر ہونا چاہیے۔ لیکن یہ سوال بھی اہم ہے کہ جو نظام پہلے سے موجود ہے، اسے عوام کے لیے زیادہ جوابدہ کیسے بنایا جائے؟کیونکہ پاکستان کے غریب کو آج نئے نقشے سے پہلے نئی امید چاہیے ۔ سیاسی نعرے سے پہلے سستا اور مستحکم روزگار چاہیے۔ پٹرول کی قیمت کے اعلان سے پہلے اپنے گھر کا بجٹ محفوظ ہونے کی ضمانت چاہیے۔ اگر پٹرول کی قیمتیں بڑھتی رہیں، قلت کا خوف بڑھتا رہے، بنیادی اشیاء مہنگی ہوتی رہیں اور دوسری طرف سیاسی منظرنامہ نئے صوبوں کی بحث میں الجھا رہے تو تاریخ سوال پوچھے گی کہ اس سب کے درمیان وہ شخص کہاں تھا جو اس ملک کی معیشت کا اصل بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے تھا؟۔
شاید یہی وہ سوال ہے جس کا جواب ہمیں نئے صوبوں کے نقشے بنانے سے پہلے اور پٹرول کی نئی قیمت مقرر کرنے کے بعد نہیں، بلکہ ہر حکومتی فیصلے سے پہلے تلاش کرنا ہوگا۔ کیونکہ ریاست کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ اس کے نقشے پر کتنی لکیریں ہوں ، بلکہ یہ ہے کہ اس نقشے کے اندر رہنے والا عام انسان کتنی عزت، سکون اور معاشی تحفظ کے ساتھ زندگی گزار رہا ہے۔





