
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے خبردار کیا ہے کہ ’اگر امریکہ نے ایران پر نیا حملہ کیا تو ایران ’نئے ہتھیار‘ استعمال کرے گا اور ’جنگ کا جغرافیہ تبدیل کرتے ہوئے‘ ان علاقوں کو نشانہ بنائے گا جنھیں اب تک نشانہ نہیں بنایا گیا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اگر امریکہ نے حملہ کیا تو ایران ایسے نئے ہتھیار استعمال کرے گا جو دنیا کو ’حیران‘ کر دیں گے۔‘
ان کے مطابق ایران نے ایسے ہتھیار تیار کیے ہیں اور ان کی صلاحیتوں کو ترقی دی ہے جنھیں جنگ کے موجودہ مرحلے میں استعمال نہیں کیا گیا۔ انھوں نے ان ہتھیاروں کو ایران کے ’سٹریٹجیک‘ ہتھیار قرار دیتے ہوئے کہا کہ انھیں ’ضرورت پڑنے پر‘ استعمال کیا جائے گا اور ’دنیا دیکھے گی کہ کیا ہوتا ہے
جنگ کے جغرافیے میں تبدیلی کے حوالے سے آئی آر جی سی کے ترجمان نے کہا کہ ’جنگ اب علاقائی شکل اختیار کر چکی ہے، لیکن چونکہ خطہ بہت وسیع ہے، اس لیے اب بھی اس جنگ کے جغرافیائی طور پر پھیلنے کی گنجائش موجود ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ فوج ’طویل مدتی جنگ‘ کی تیاری کر رہی ہے۔
آئی آر جی سی کے ترجمان کی یہ وارننگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’امریکہ بعض علاقائی ممالک کی جانب سے ’گرین سگنل‘ ملنے کے بعد اپنی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔







