تازہ ترینخبریںدنیاسیاسیات

ٹرمپ حوثیوں پر حملے کے لیے تیار تھے، آخری وقت میں فیصلہ بدلا: امریکی اخبار

سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے یمن کے حوثی گروپ کے خلاف امریکی فضائی کارروائی کی درخواست کی، جس کے بعد امریکی فوج کو حملے کی تیاری کا حکم بھی دیا گیا تاھ، تاہم چند روز بعد صدر ٹرمپ نے اپنا فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے کارروائی روک دی۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ تقریباً دو ہفتوں سے سعودی عرب کی جانب سے حوثیوں کے خلاف امریکی فوجی مدد کی درخواست پر غور کر رہی تھی۔ اس دوران حوثی جنگجو بحیرۂ احمر کے قریب اہم علاقوں پر اپنا کنٹرول بڑھا رہے تھے اور سعودی عرب کے خلاف بھی کارروائیاں تیز کر رہے تھے۔

رپورٹ کے مطابق معاملہ اس وقت اہم مرحلے میں پہنچا جب گزشتہ جمعرات کو محمد بن سلمان نے صدر ٹرمپ سے براہ راست بات کی اور ایک بار پھر امریکا پر زور دیا کہ وہ حوثیوں کے خلاف کارروائی کرے۔

محمد بن سلمان کی کال سے ایک روز قبل صدر ٹرمپ نے اپنے مشیروں سے کہا تھا کہ وہ حوثیوں کے خلاف امریکی فضائی حملوں کے حق میں نہیں ہیں۔ تاہم سعودی ولی عہد سے گفتگو کے بعد ان کا مؤقف تبدیل ہوگیا اور انہوں نے امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کو ممکنہ فضائی حملوں کی تیاری کا حکم دے دیا۔

امریکی فوج نے حملے کی تیاری بھی شروع کردی تھی۔ رپورٹ کے مطابق امریکی کمانڈروں نے حوثیوں کے ممکنہ اہداف کی فہرست تیار کرلی تھی جبکہ امریکی طیاروں پر بم بھی لادے جا رہے تھے۔ حملہ شروع ہونے کے قریب تھا کہ صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنا فیصلہ تبدیل کردیا اور کارروائی روک دی

وائٹ ہاؤس کے پریس دفتر نے صدر ٹرمپ کی اندرونی مشاورت کے بارے میں تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔ تاہم ایک سینئر امریکی انتظامی عہدیدار نے کہا کہ امریکا کا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ ہے اور امریکا اپنے اتحادیوں کا دفاع کرے گا۔

رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کے قریبی حلقے کے بیشتر افراد سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان لڑائی میں امریکا کی براہ راست شمولیت کے بارے میں شدید تحفظات رکھتے ہیں یا اس کی مخالفت کرتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اتوار کی صبح فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ایران سے متعلق وسیع تر جنگ کے بارے میں کہا تھا کہ وہ ابھی فیصلہ کرنے کے مرحلے میں ہیں۔

حوثیوں سے متعلق سوال پر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا اور حوثی گروپ کے درمیان مسلسل رابطہ ہے۔ انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ حوثیوں نے اب تک امریکی اہداف پر حملہ نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے امریکی بحری جہازوں پر حملوں سے گریز کیا ہے، تاہم سعودی عرب کے خلاف ان کی کارروائیاں بڑھ گئی ہیں۔ سعودی عرب امریکا کا اہم اتحادی ہے اور کئی برس سے یمن کی جنگ میں بھی شامل رہا ہے۔

حوثیوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ صرف یمن تک محدود نہیں بلکہ اس کے وسیع تر علاقائی اثرات بھی ہوسکتے ہیں۔ امریکا کو ایران کے ساتھ جاری وسیع تر تنازع میں سعودی عرب کے تعاون کی ضرورت ہے۔

امریکی فوج کے بعض عہدیداروں کے مطابق ایران کے خلاف امریکی کارروائی میں سعودی عرب کی مدد اہم ہے۔ دوسری جانب ریاض یہ بھی دکھا چکا ہے کہ وہ خطے میں امریکی فوجی کارروائیوں پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس سے قبل سعودی عرب نے امریکا کو آبنائے ہرمز میں تجارتی تیل بردار جہازوں کو امریکی فوجی تحفظ فراہم کرنے کے منصوبے میں بھی مشکلات کا سامنا کرایا تھا۔ سعودی عرب نے امریکی فوج کو اپنی فضائی حدود اور ملک میں موجود امریکی فوجی اڈوں تک رسائی دینے سے انکار کردیا تھا، جس کے باعث واشنگٹن کے منصوبے پر اثر پڑا۔

جواب دیں

Back to top button