سڑک بنانا ہی کافی نہیں، اسے بچانا بھی ضروری ہے

سڑک بنانا ہی کافی نہیں، اسے بچانا بھی ضروری ہے
تحریر: رفیع صحرائی
سڑکیں کسی بھی معاشرے کی ترقی کی وہ شاہراہ ہیں جن پر معیشت، تجارت، تعلیم، صحت اور روزمرہ زندگی کا سفر آگے بڑھتا ہے۔ ایک اچھی سڑک صرف دو مقامات کو آپس میں نہیں ملاتی بلکہ یہ کسان کی فصل کو منڈی، مریض کو اسپتال، طالب علم کو تعلیمی ادارے اور کاروباری سرگرمیوں کو بڑی منڈیوں تک پہنچانے کا ذریعہ بنتی ہے۔ اس لحاظ سے سڑکوں کی تعمیر بلاشبہ اہم ہے، لیکن اس سے کہیں زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ جو سڑک آج تعمیر کی جا رہی ہے، اسے اگلے کئی عشروں تک قابلِ استعمال کیسے رکھا جائے؟
اسی تناظر میں وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے پنجاب کے ہر ضلع میں اسپیشل روڈ مینٹیننس اسکواڈ قائم کرنے کا فیصلہ ایک نہایت خوش آئند اور دوررس اقدام ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیرصدارت اجلاس میں اضلاع میں روڈز کی روزانہ جانچ پڑتال، مینٹیننس، صفائی اور ٹوٹ پھوٹ کی فوری درستی کی ذمہ داری اس مجوزہ اسکواڈ کو دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ دیکھا جائے تو یہ فیصلہ محض سڑکوں کی مرمت کا انتظام نہیں بلکہ اگر اسے موثر نظام کے طور پر نافذ کیا جائے تو پنجاب میں انفراسٹرکچر مینجمنٹ کے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔
ہماری ایک پرانی روایت رہی ہے کہ سڑک تعمیر ہوئی، افتتاح ہوا، تصویریں بنیں، چند برس تک سڑک نے عوام کا ساتھ دیا اور پھر اس کی طرف توجہ کم ہوتی گئی۔ سڑک بننے کے بعد کسی نے اس کی مینٹیننس کی طرف دھیان ہی نہیں دیا۔ بالخصوص ضلعی ہیڈکوارٹرز سے دور دراز علاقوں میں صورتحال زیادہ افسوس ناک رہی ہے۔ ایک مرتبہ سڑک بننے کے بعد اس کی باقاعدہ مرمت اور دیکھ بھال کا مستقل نظام نہ ہونے کے باعث دس بارہ سال بعد جب سڑک انتہائی خستہ، ٹوٹی پھوٹی اور ناقابلِ استعمال ہو جاتی ہے تو اسے ازسرنو تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہر سڑک کو ختم ہونے کے قریب پہنچنے کا انتظار کرنا ضروری ہے؟
جواب یقیناً نہیں میں ملتا ہے۔ دنیا بھر میں سڑکوں کے حوالے سے بنیادی اصول یہی ہے کہ بروقت اور پیشگی دیکھ بھال، مکمل تباہی کے بعد دوبارہ تعمیر سے کہیں کم خرچ ہوتی ہے۔ معمولی دراڑ، چھوٹا گڑھا، ٹوٹی ہوئی سڑک کنارے کی پٹی یا پانی کے ناقص نکاس کو اگر ابتدا ہی میں درست کر دیا جائے تو نقصان پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔ مسلسل مرمت اور دیکھ بھال سڑک کی عمر کو نمایاں طور پر بڑھا سکتی ہے، جبکہ بروقت مداخلت نہ ہونے سے معمولی خرابی چند برسوں میں بڑے مسئلے میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اس لیے نئے قائم ہونے والے روڈ مینٹیننس اسکواڈ کا کام صرف گڑھے بھرنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے سڑکوں کا مستقل محافظ بنایا جانا چاہیے۔
ہر ضلع میں اسکواڈ کے پاس اپنے علاقے کی تمام اہم شاہراہوں، ضلعی و تحصیلی سڑکوں اور دیہی رابطہ سڑکوں کا مکمل ڈیجیٹل ریکارڈ ہونا چاہیے۔ ہر سڑک کی تعمیر کی تاریخ، چوڑائی، لمبائی، تعمیراتی معیار، متوقع عمر اور آخری مرمت کا ریکارڈ محفوظ ہو۔ اسکواڈ روزانہ یا مقررہ شیڈول کے مطابق سڑکوں کا معائنہ کرے اور خرابی کی نوعیت کے مطابق فوری کارروائی کرے۔
اس نظام کا ایک اہم حصہ بارش کے بعد ایمرجنسی مرمت و دیکھ بھال بھی ہونا چاہیے۔ بارشوں، سیلاب یا غیر معمولی موسمی حالات کے بعد سڑکوں کا خصوصی معائنہ کیا جائے، کیونکہ پانی سڑکوں کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ جہاں پانی کھڑا ہونے، نکاسی آب کے ناقص انتظام یا سڑک کے کنارے کٹائو کا مسئلہ ہو، وہاں فوری اصلاح کی جائے۔ اسی طرح سڑکوں کے ساتھ لگے نالوں، کلورٹس، پلوں اور پانی کے گزرگاہوں کی صفائی بھی اسی نگرانی کے نظام کا حصہ ہونی چاہیے۔ اکثر سڑک خود خراب نہیں ہوتی بلکہ پانی کے ناقص اخراج کے باعث اس کا بنیادی ڈھانچہ متاثر ہوتا ہے۔
اس منصوبے کا ایک اور قابلِ تحسین پہلو یہ ہے کہ حکومت پنجاب نے روڈ مارکنگ، ٹریفک سائنز، کیٹ آئیز اور روڈ سیفٹی پر بھی توجہ دی ہے۔ سڑک صرف اسفالٹ بچھانے کا نام نہیں۔ لین مارکنگ، واضح سمت نما بورڈز، پیدل چلنے والوں کے لیے مناسب انتظامات، خطرناک موڑوں پر وارننگ سائنز اور رات کے وقت مناسب روشنی بھی محفوظ سفر کے لیے ضروری ہیں۔ انہیں بھی اس منصوبے میں شامل کیا گیا ہے۔ تھرموپلاسٹک روڈ مارکنگ کا استعمال بھی پائیداری کے اعتبار سے مفید قدم ثابت ہو سکتا ہے، بشرطیکہ معیار پر سختی سے عمل کیا جائے۔
اس اسکواڈ کو ایک اور نہایت اہم ذمہ داری بھی سونپی جا سکتی ہے یعنی سڑکوں کے کنارے شجرکاری اور موجود درختوں کی حفاظت کی ذمہ داری۔ یہ ایک ایسا فیصلہ ہو سکتا ہے جس کے نتائج آنے والی نسلیں محسوس کریں گی۔ چونکہ روڈ مینٹیننس اسکواڈ مسلسل سڑکوں پر گشت کرے گا، اس لیے وہ سڑک کنارے لگائے گئے درختوں کی نگرانی بھی کر سکتا ہے۔ ضروری ہے کہ ہر سڑک کے کنارے مناسب فاصلوں پر مقامی اور ماحول دوست درخت لگائے جائیں، ان کے لیے پانی، حفاظتی جال اور ابتدائی دیکھ بھال کا انتظام کیا جائے اور اسکواڈ ان کی بقا کا ریکارڈ بھی مرتب کرے کیونکہ صرف پودے لگانا کافی نہیں، پودے کو درخت بنانا اصل کامیابی ہے۔
ہر ضلع میں سالانہ شجرکاری کا ہدف مقرر کیا جا سکتا ہے اور اسکواڈ کو یہ ذمہ داری دی جا سکتی ہے کہ وہ نہ صرف پودے لگوائے بلکہ ان کی بقا کی شرح بھی رپورٹ کرے۔ اس طرح ’’ سرسبز پنجاب‘‘ محض ایک نعرہ نہیں رہے گا بلکہ سڑکوں کے دونوں اطراف سبز پٹیوں کی شکل میں زمین پر دکھائی دے گا۔ یہی سبز پٹیاں آگے چل کر ’’ سرسبز پاکستان ‘‘ کی بنیاد مضبوط کر سکتی ہیں۔
ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ روڈ مینٹیننس اسکواڈ کو صرف ایک عارضی سرکاری ٹیم نہ سمجھا جائے بلکہ اسے مستقل، تربیت یافتہ اور جواب دہ ادارہ بنایا جائے۔ ہر اسکواڈ میں سول ورک، روڈ انجینئرنگ، سیفٹی، صفائی اور شجرکاری سے متعلق تربیت یافتہ افراد شامل ہوں۔ موبائل ایپ کے ذریعے ہر خرابی کی تصویر، مقام، تاریخ اور مرمت کی تفصیل ریکارڈ کی جائے تاکہ افسران صرف فائلوں کے ذریعے نہیں بلکہ زمینی حقائق کے ذریعے بھی کارکردگی جانچ سکیں۔
اس کے ساتھ شکایات کا ایسا نظام ہونا چاہیے جس کے ذریعے شہری گڑھے، ٹوٹی ہوئی سڑک، خراب سائن یا سڑک کنارے صفائی کے مسئلے کی اطلاع دے سکیں۔ شکایت کے ساتھ مقام کی نشاندہی ہو اور اس کے ازالے کی مقررہ مدت بھی طے کی جائے۔ سب سے بڑھ کر ضروری ہے کہ مرمت کے کام میں معیار اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ اگر چند ماہ بعد وہی گڑھا دوبارہ نمودار ہو جائے تو ذمہ داری بھی طے ہونی چاہیے۔ ناقص مرمت پر ادائیگی روکنے، متعلقہ ٹھیکیدار اور ذمہ دار افسر سے جواب طلبی اور کام کے معیار کی آزادانہ جانچ کا نظام قائم کیا جانا چاہیے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے ضلعی ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی، منظور شدہ ڈیزائن، مقررہ معیار، وقت کی پابندی، اخراجات اور عملی پیش رفت پر توجہ دینے کی ہدایات اسی سوچ کا حصہ ہیں۔ اگر روڈ مینٹیننس اسکواڈ بھی اسی نگرانی اور جواب دہی کے نظام سے منسلک کر دیا جائے تو سڑکوں پر خرچ ہونے والا قومی و صوبائی سرمایہ زیادہ دیر تک عوام کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔
ترقی کا اصل پیمانہ صرف یہ نہیں کہ کتنے کلومیٹر سڑک بنائی گئی؟ اصل کامیابی یہ ہے کہ بنائی گئی سڑک کتنے سال اچھی حالت میں رہی، اس پر سفر کتنا محفوظ ہوا، اس کے ذریعے کتنے دیہات اور بستیاں بہتر طور پر منسلک ہوئیں اور اس کی دیکھ بھال پر عوام کے کتنے پیسے بچائے گئے۔ اس لیے پنجاب
میں اسپیشل روڈ مینٹیننس اسکواڈ کا قیام ایک قابلِ تحسین فیصلہ ہے۔ اگر اس اسکواڈ کو اختیار، وسائل، جدید ٹیکنالوجی اور واضح ذمہ داریاں دے کر حقیقی معنوں میں فعال کر دیا جائے تو پنجاب میں سڑکوں کی دیکھ بھال کا کلچر تبدیل ہو سکتا ہے۔
سڑک بنانا ترقی کا آغاز ہے، اسے محفوظ، صاف، سرسبز اور قابلِ استعمال رکھنا اصل حکمرانی ہے۔اور اگر ہر ضلع کی سڑک کے ساتھ ایک شجر بھی محفوظ ہو، ہر گڑھا بروقت بھر دیا جائے، ہر خطرناک مقام پر مناسب نشان موجود ہو اور ہر سڑک کی صحت کی باقاعدہ نگرانی ہوتی رہے تو یقیناً یہ صرف بہتر سڑکوں کا منصوبہ نہیں ہوگا بلکہ محفوظ، خوبصورت، سرسبز اور ترقی یافتہ پنجاب کی طرف ایک مضبوط قدم ثابت ہوگا۔



