ٹیکس اصلاحات، اعتماد کا نیا سفر

ٹیکس اصلاحات، اعتماد کا نیا سفر
ٹیکس نظام میں اصلاحات محض قوانین کی شقیں بدلنے کا نام نہیں، یہ ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کا وہ معاہدہ ہے جس پر معیشت کی مضبوط عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ حکومت نے فنانس ایکٹ 2026اور انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 میں ترامیم کے ذریعے ٹیکس نظام میں جو وسیع پیمانے پر تبدیلیاں متعارف کرائی ہیں، ان میں بظاہر کئی ایسے اقدامات شامل ہیں جو طویل عرصے سے پیچیدہ، فرسودہ اور غیر شفاف نظام کے خاتمے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ تاہم اصل کامیابی قانون سازی میں نہیں بلکہ اس کے منصفانہ، شفاف اور بلاامتیاز نفاذ میں پوشیدہ ہے۔ نئے نظام میں تنخواہ دار طبقے اور انفرادی ٹیکس دہندگان کے لیے ٹیکس شرحوں میں کمی یقیناً ایک خوش آئند قدم ہے۔ سالانہ 6لاکھ روپے تک قابلِ ٹیکس آمدن پر ٹیکس کا خاتمہ اور مختلف آمدن کی سطحوں پر شرحوں میں نسبتاً نرمی اس طبقے کے لیے کچھ سانس لینے کی گنجائش پیدا کر سکتی ہے جو ہر ماہ اپنی آمدن میں سے پہلے ہی براہ راست ٹیکس ادا کرتا ہے۔ خصوصاً دس ملین روپے سے زائد قابلِ ٹیکس آمدن رکھنے والے تنخواہ دار افراد پر 9فیصد سرچارج کا خاتمہ اس امر کا اعتراف ہے کہ دستاویزی معیشت کا بوجھ ہمیشہ چند محدود طبقات کے کندھوں پر نہیں ڈالا جاسکتا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ٹیکس ریلیف کے ساتھ ٹیکس نیٹ بھی وسیع ہوگا؟ پاکستان کا بنیادی مسئلہ صرف ٹیکس کی شرحیں نہیں بلکہ ٹیکس دینے والوں کی محدود تعداد، غیر دستاویزی معیشت اور ٹیکس چوری کا وسیع دائرہ ہے۔ اگر اصلاحات کا مقصد واقعی قومی خزانے کو مضبوط بنانا ہے تو ضروری ہے کہ نئے نظام کے ذریعے ان طبقات تک بھی رسائی حاصل کی جائے جو برسوں سے اپنی حقیقی آمدن کو نظام سے پوشیدہ رکھتے آئے ہیں۔ فیس لیس آڈٹ اور اسیسمنٹ کا نظام اس حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہوسکتا ہے۔ ٹیکس افسر اور ٹیکس دہندہ کے براہِ راست رابطے کو کم کرکے الیکٹرانک نظام کے ذریعے کارروائی کرنا بدعنوانی کے خدشات کم کر سکتا ہے۔ کیس دیکھنے والے افسر کی شناخت مخفی رکھنے کا تصور بھی دبا، سفارش اور ذاتی تعلقات کے امکانات کو محدود کر سکتا ہے۔ مگر ٹیکنالوجی بذاتِ خود انصاف کی ضمانت نہیں۔ اگر الگورتھم ناقص ڈیٹا پر کام کرے یا اس کے فیصلوں کے خلاف موثر دادرسی موجود نہ ہو تو فیس لیس نظام بھی ایک نئی پیچیدگی بن سکتا ہے۔ ٹیکس تنازعات کے لیے الگورتھم پر مبنی سیٹلمنٹ میکانزم بھی قابلِ غور اصلاح ہے۔ سابقہ ٹیکس ریکارڈ، کارروائی کے مرحلے اور سامنے آنے والے تضادات کی بنیاد پر تصفیے کی پیشکش ایک طویل قانونی جنگ سے بچنے کا راستہ فراہم کرسکتی ہے۔ تاہم ٹیکس دہندہ کو دس روز کے اندر پیشکش قبول کرنے اور رقم جمع کرانے کی شرط میں مناسب لچک اور شفاف اپیل کا راستہ بھی ہونا چاہیے، تاکہ جلد بازی کسی شہری کے بنیادی حقِ سماعت کو متاثر نہ کرے۔ بینکنگ اور الیکٹرانک مالیاتی اداروں سے بڑے لین دین کا ڈیٹا مرکزی نظام میں منتقل کرنے کا فیصلہ بھی معیشت کو دستاویزی بنانے میں مددگار ہوسکتا ہے۔ دس کروڑ روپے سے زائد ڈپازٹس یا رقوم نکلوانے والوں کے ڈیٹا کو ٹیکس ریکارڈ سے ملانے کے نتیجے میں غیر معمولی مالی سرگرمیوں کی نشان دہی ممکن ہوگی۔ تاہم ریاست کو یہ اصول پیش نظر رکھنا ہوگا کہ نگرانی اور نجی مالی معلومات کے تحفظ کے درمیان توازن برقرار رہے۔ شہری کا مالی ڈیٹا ریاست کی ذمے داری ہے، اختیار نہیں۔ سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی آمدن پر پانچ فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس، لائف انشورنس اور تکافل کی بعض ادائیگیوں پر فائنل ٹیکس، ای کامرس اور ڈیجیٹل معیشت کے لیے نئے قواعد اس حقیقت کا اعتراف ہیں کہ معیشت اب روایتی دکان، دفتر اور فیکٹری تک محدود نہیں رہی۔ نئی نسل کی آمدن کے نئے ذرائع پیدا ہوچکے ہیں، لہٰذا ٹیکس نظام کو بھی نئے معاشی حقائق کے ساتھ قدم ملانا ہوگا۔ البتہ ڈیجیٹل کاروبار کو ٹیکس کے نام پر غیر ضروری بوجھ سے بچانا بھی ضروری ہے، ورنہ نوجوانوں کی ابھرتی ہوئی کاروباری صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے۔جائیداد، بیرونِ ملک کارڈ ادائیگیوں، خدمات، برآمدات اور سپر ٹیکس سے متعلق تبدیلیاں بھی معیشت کے مختلف شعبوں پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہیں۔ خصوصاً پانچ سو ملین روپے تک آمدن رکھنے والے بیشتر ٹیکس دہندگان کے لیے سپر ٹیکس کا خاتمہ کاروباری سرگرمیوں کے لیے حوصلہ افزا ہوسکتا ہے۔ اسی طرح آئی ٹی اور آئی ٹی سے متعلق خدمات کی برآمدات پر کم شرح برقرار رکھنا ڈیجیٹل برآمدات کے فروغ کے لیے مناسب سمت ہے۔ تاہم ہر اصلاح کا ایک دوسرا رخ بھی ہوتا ہے۔ بعض خدمات پر ود ہولڈنگ ٹیکس میں اضافہ، آزاد پیشہ ورانہ خدمات پر زیادہ شرح اور مختلف کاروباری شعبوں پر نئے مالی تقاضے اس وقت مسئلہ بن سکتے ہیں جب کاروباری لاگت پہلے ہی بلند ہو۔ حکومت کو یہ دیکھنا ہوگا کہ ٹیکس وصولی میں اضافے کی خواہش کہیں صنعت، تجارت اور روزگار کی توسیع کے راستے میں رکاوٹ نہ بن جائے۔ سب سے بڑھ کر ضرورت اعتماد کی ہے۔ پاکستانی شہری ٹیکس دینے سے اس وقت تک مکمل طور پر نہیں گھبرائے گا جب اسے یقین ہو کہ اس کا دیا ہوا ٹیکس ضائع نہیں ہوگا، سرکاری ادارے جواب دہ ہوں گے، خدمات بہتر ہوں گی اور قانون سب کے لیے برابر ہوگا۔ ایک ایسا نظام جس میں تنخواہ دار شخص کی آمدن کا ہر روپیہ دیکھا جائے مگر بڑی غیر دستاویزی دولت نظروں سے اوجھل رہے، دیرپا نہیں ہوسکتا۔ حکومت کی موجودہ ٹیکس اصلاحات میں جدید ٹیکنالوجی، فیس لیس نظام، ڈیجیٹل نگرانی اور ٹیکس شرحوں میں بعض اہم تبدیلیوں کے ذریعے ایک نئے دور کی بنیاد رکھنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اب امتحان حکومت اور ایف بی آر دونوں کا ہے کہ وہ اس قانون کو خوف کی دستاویز بنانے کے بجائے اعتماد کا وسیلہ بنائیں۔ ٹیکس ریاست کی طاقت کا نہیں، شہری کی شراکت کا نشان ہونا چاہیے۔ جب قانون انصاف دے، نظام آسان ہو اور ریاست دیانت داری سے عوام کے وسائل واپس عوام پر خرچ کرے تو ٹیکس بوجھ نہیں رہتا، قومی تعمیر میں شہری کا باوقار حصہ بن جاتا ہے۔
وطن دشمنوں کے خلاف کاری ضرب
بلوچستان ایک بار پھر اس حقیقت کا گواہ بنا ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نہ صرف چوکس ہیں بلکہ دشمن کے عزائم کو بروقت ناکام بنانے کی بھرپور صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔ خاران اور واشک میں انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں کے دوران 11بھارتی سپانسرڈ دہشت گردوں کا خاتمہ اور بھاری مقدار میں دھماکا خیز مواد کی برآمدگی اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ ملک دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں درست سمت میں جاری ہیں۔ خاران میں دہشت گردوں کی جانب سے سڑک بلاک کرکے ٹریفک معطل کرنے کی کوشش ناکام بنانا بھی سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی کا مظہر ہے۔ واشک میں دہشت گردوں کا ٹھکانہ تباہ کرکے 3دہشت گردوں کو ہلاک کرنا اور 2.9ٹن دھماکہ خیز مواد برآمد کرنا اس خطرے کی سنگینی کو بھی ظاہر کرتا ہے جس کا مقصد معصوم شہریوں کی جان و مال کو نشانہ بنانا اور بلوچستان میں بدامنی کو ہوا دینا تھا۔ پاکستان گزشتہ کئی برس سے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور مشکل جنگ لڑرہا ہے۔ اس جنگ میں سیکیورٹی فورسز کے جوانوں نے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف کامیابی صرف اسلحے سے نہیں بلکہ اطلاعات، نگرانی، پیشہ ورانہ تربیت اور عوام کے تعاون سے حاصل ہوتی ہے۔ خاران اور واشک کی کارروائیاں اسی مربوط حکمت عملی کی عکاس ہیں۔ یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ دہشت گردی کی آگ کو ہوا دینے کے لیے بیرونی سرپرستی اور مالی و تنظیمی معاونت کے امکانات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان کو اپنی داخلی سلامتی کے ساتھ سفارتی محاذ پر بھی ان عناصر اور قوتوں کو بے نقاب کرنا ہوگا جو خطے میں بدامنی کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ کامیاب کارروائیوں کو مستقل امن میں تبدیل کرنے کے لیے بلوچستان میں ترقی، تعلیم، روزگار اور بنیادی سہولتوں کے دائرے کو وسیع کیا جائے۔ دہشت گردی کا مکمل خاتمہ صرف دہشت گردوں کے خلاف کارروائی سے نہیں، بلکہ ان محرومیوں کے خاتمے سے بھی وابستہ ہے، جنہیں دشمن اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ قوم اپنے محافظوں کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ عزمِ استحکام کے تحت دہشت گردی کے خلاف مسلسل اور بلاامتیاز کارروائیاں ہی پاکستان کے محفوظ اور مستحکم مستقبل کی ضمانت بن سکتی ہیں۔ دشمن کو واضح پیغام ملنا چاہیے کہ پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور امن سے کھیلنے والوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔




