Column

ان دیکھی دنیا

ان دیکھی دنیا
تحریر : صفدر علی حیدری
انسان کو دیکھنا بہت آسان ہے، اس کو جاننا مشکل اور سمجھنا اس سے زیادہ مشکل۔۔۔
ہم کسی شخص کا چہرہ، لباس، گفتگو، انداز، معاملات اور اعمال دیکھتے ہیں اور پھر اس کے بارے میں رائے قائم کر لیتے ہیں۔ ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے اسے جان لیا، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اس کا صرف ظاہر دیکھا ہوتا ہے۔
اس کے اندر ایک اور دنیا آباد ہوتی ہے۔ ایک ایسی دنیا جہاں خیالات جنم لیتے ہیں، خواہشیں پلتی ہیں، خواب بنتے ہیں، خوف چھپتے ہیں، ارادے تشکیل پاتے ہیں، محبتیں سانس لیتی ہیں، نفرتیں جگہ بناتی ہیں اور ضمیر سوال کرتا ہے۔ انسان کبھی کبھی اپنے آپ سے وہ باتیں بھی کرتا ہے جو دنیا کے سامنے کہنے کی ہمت نہیں رکھتا۔ انسان جتنا باہر دکھائی دیتا ہے، اس سے کہیں زیادہ اندر ہوتا ہے۔ اور جو اندر ہے، وہی اس کا اصل ہے، وہی اس کی حقیقت ہے، وہی سب کچھ۔
باہر اس کے اندر کی دنیا کا صرف اتنا حصہ آتا ہے جتنا وہ ظاہر کرنا چاہتا ہے یا حالات ظاہر کر دیتے ہیں۔
ایک شخص بظاہر شائستہ ہو سکتا ہے مگر اندر طوفان برپا ہو۔ مسکرا سکتا ہے مگر اندر سے ٹوٹا ہوا ہو۔ خاموش ہو سکتا ہے مگر اس کے اندر ہزاروں مکالمے جاری ہوں۔
لوگوں کے درمیان خوش دکھائی دے سکتا ہے مگر تنہائی میں کسی ایسے سوال سے لڑ رہا ہو جس کا جواب اسے خود بھی معلوم نہ ہو۔
اور اس کے ذہن میں ایسے خیالات بھی آ سکتے ہیں جنہیں وہ کسی کے سامنے بیان نہیں کر سکتا۔ کچھ خیالات سے انسان خود گھبرا جاتا ہے، کچھ خواہشوں کو زبان دینا ممکن نہیں ہوتا اور کچھ سوال وہ صرف اپنے آپ سے پوچھتا ہے۔ لیکن ہر خیال انسان کا کردار نہیں ہوتا۔ خیال کا آ جانا ایک بات ہے، اسے قبول کر لینا دوسری۔ ذہن میں کسی خیال کا ابھرنا اور اسے نیت بنا لینا ایک جیسی چیزیں نہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ خیال بنتا کیسے ہے؟
انسان کا ذہن ایک خالی کمرہ نہیں۔ وہ جو کچھ دیکھتا، سنتا، پڑھتا، محسوس کرتا، جھیلتا اور جن لوگوں کے ساتھ رہتا ہے، وہ سب اس کے اندر کہیں نہ کہیں محفوظ ہوتا رہتا ہے۔
مطالعہ سوچ کو لفظ دیتا ہے، مشاہدہ منظر، گفتگو سمت، تعلیم و تربیت بنیاد، صحبت مزاج اور تجربات سوچ کو گہرائی دیتے ہیں۔ یہ سب مل کر ذہن میں وہ خام مال جمع کرتے ہیں جس سے خیالات جنم لیتے ہیں۔ بچپن میں سنی ہوئی کوئی بات برسوں بعد یاد آ سکتی ہے۔ کسی استاد کا ایک جملہ زندگی کا رخ بدل سکتا ہے۔ کسی کتاب کا ایک خیال سوال پیدا کر سکتا ہے۔ کسی صدمے سے خوف، محبت سے امید، دھوکے سے بدگمانی اور نیک صحبت سے خیر کی خواہش پیدا ہو سکتی ہے۔ یوں خیالات اچانک پیدا ہوتے ہوئے بھی اچانک پیدا نہیں ہوتے، ان کے پیچھے اکثر ماضی کی کوئی نہ کوئی زمین ہوتی ہے۔
خیال ایک بیج ہے، مگر اس کے پیچھے پوری ایک زمین ہوتی ہے۔
ہر خیال کو جگہ دینا ضروری نہیں۔ خیال آنا ہمیشہ ہمارے اختیار میں نہیں، مگر خیال کو جگہ دینا بڑی حد تک ہمارے اختیار میں ہے۔ ایک برا خیال آیا۔ اسے پہچانو، پرکھو اور اگر غلط ہے تو وہیں روک دو۔ کیونکہ خیال اگر بار بار دہرایا جائے تو سوچ بنتا ہے، سوچ نیت، نیت ارادہ، ارادہ عمل، عمل عادت اور عادت بالآخر کردار بن جاتی ہے۔
حسد، تکبر، انتقام، لالچ، نفرت اور بدگمانی پہلے عمل نہیں بنتے، وہ پہلے خیال بنتے ہیں۔ اسی لیے انسان کی اصل جنگ باہر نہیں، اندر ہے۔
سوچ پر قابو کیسے پایا جائے؟
سوچ پر قابو پانے کا مطلب ذہن کو خالی کرنا نہیں۔ اصل کمال یہ ہے کہ انسان اپنے ذہن میں آنے والی چیزوں کو پرکھنا سیکھ لے۔ ہر خیال سے پوچھے، کیا یہ درست ہے؟، کیا یہ میرے لیے بہتر ہے؟، کیا یہ کسی دوسرے کے لیے نقصان دہ تو نہیں؟، کیا یہ میرے ضمیر کے سامنے ٹھہر سکتا ہے؟۔ یہ سوال انسان کے اندر ایک نگہبان پیدا کرتے ہیں۔ پھر اپنی خوراکِ فکر بھی بدلنی پڑتی ہے۔ آپ کیا پڑھتے ہیں، کیا دیکھتے ہیں، کیا سنتے ہیں، کس سے گفتگو کرتے ہیں اور کس کی صحبت میں بیٹھتے ہیں۔ یہ معمولی سوال نہیں، یہ آپ کے آنے والے کردار کے سوال ہیں۔ نشانہ درست ہونا چاہیے انسان کی اخلاقی زندگی کو نشانے کی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ ایک شخص بندوق اٹھاتا ہے اور گولی چلاتا ہے۔ اگر نشانہ ہی درست نہ ہو تو گولی کتنی ہی تیزی سے کیوں نہ چلے، ٹارگٹ تک نہیں پہنچے گی۔ مسئلہ گولی میں نہیں، نشانے میں ہو گا۔ انسان کا عمل بھی ایسی ہی گولی ہے۔ اس کی نیت نشانہ ہے، ارادہ اس کا ہاتھ اور عمل وہ گولی ہے جو نشانے کی طرف روانہ ہوتی ہے۔ اگر نیت درست ہے تو عمل درست سمت اختیار کر سکتا ہے، لیکن اگر اندر نشانہ ٹیڑھا ہے، نیت میں کھوٹ ہے، مقصد میں فساد ہے اور سوچ میں کجی ہے تو بظاہر خوب صورت عمل بھی اپنی منزل کھو سکتا ہے۔ اس لیے عمل سے پہلے نشانہ درست کرو۔ اور نشانہ درست کرنے کے لیے سوچ درست کرنا ہوگی۔ یہیں مجھے ایک عالم دین کی بات یاد آتی ہے۔ میں نے ان سے پوچھا: ’’ انسان اپنی سوچ کو پاکیزہ کیسے کرے؟ خیالات پر کیسے قابو پائے؟ ایسا کیسے ہو کہ برا خیال آئے بھی تو نیت نہ بنے، ارادہ نہ بنے اور عمل تک نہ پہنچے؟‘‘ انہوں نے مسکرا کر کہا’’ اہلِ اللہ کی صحبت اختیار کرو۔ اللہ والوں کے پاس بیٹھا کرو ‘‘، میں نے پوچھا’’ صرف بیٹھنے سے؟‘‘، وہ مسکرائے اور بولے’’ ہاں، کبھی کبھی انسان کو بدلنے کے لیے وعظ سے زیادہ صحبت کی ضرورت ہوتی ہے۔ کچھ لوگ تمہیں صرف باتیں نہیں دیتے، اپنی کیفیت دیتے ہیں۔ ان کے پاس بیٹھ کر اندر کا شور کم ہونے لگتا ہے، انسان اپنے خیالات کو دیکھنے لگتا ہے اور اسے معلوم ہونے لگتا ہے کہ کون سا خیال اسے اوپر اٹھا رہا ہے اور کون سا اندر سے گرا رہا ہے‘‘۔ یہ بات میرے دل میں اتر گئی۔ شاید اسی لیے بزرگوں کی صحبت محض مجلس نہیں۔ نیک لوگوں کے پاس بیٹھنے سے صرف الفاظ نہیں ملتے، معیار ملتا ہے؛ صرف علم نہیں، شعور ملتا ہے؛ صرف نصیحت نہیں، اپنے آپ کو دیکھنے کی نظر ملتی ہے۔ اور جب نظر بدلتی ہے تو سوچ بدلتی ہے۔ سوچ بدلتی ہے تو نیت بدلتی ہے۔ نیت بدلتی ہے تو ارادہ بدلتا ہے۔ ارادہ بدلتا ہے تو عمل بدلتا ہے۔ اور عمل بدل جائے تو آہستہ آہستہ انسان بدل جاتا ہے۔
دنیا انسان کو اس کے لباس، الفاظ، عہدے اور اعمال سے پہچانتی ہے، مگر انسان کی اصل دنیا وہاں ہے جہاں کوئی دوسرا نہیں پہنچ سکتا: اس کے خیال میں۔ وہاں جہاں وہ خود سے ملتا ہے، جہاں ضمیر سوال کرتا ہے، جہاں خواہش اور اصول آمنے سامنے ہوتے ہیں اور جہاں انسان فیصلہ کرتا ہے کہ اسے کس طرف جانا ہے۔ اس لیے اپنے اندر کی دنیا کو معمولی نہ سمجھو۔ خیال بیج ہے، نیت اس کی جڑ، ارادہ تنا، عمل شاخ، عادت پتے اور کردار اس کا پھل ہے۔ اگر بیج ہی زہریلا ہو تو پھل کیسے اچھا ہوگا؟، اگر نشانہ ہی غلط ہو تو گولی ٹارگٹ پر کیسے لگے گی؟، اور اگر سوچ ہی پاکیزہ نہ ہو تو عمل میں پاکیزگی کہاں سے آئے گی؟۔
اسی لیے زندگی کی سب سے بڑی اصلاح شاید یہ نہیں کہ ہم دنیا کو بدلنے نکلیں۔ سب سے پہلے اپنے اندر کی دنیا کو بدلیں۔ اپنے خیالات کی حفاظت کریں، اپنی سوچ کی نگرانی کریں، اپنی صحبت کا انتخاب کریں اور اپنے ذہن کے دروازوں پر پہرہ دیں۔ کیوں کہ جب اندر کی دنیا پاکیزہ ہونے لگتی ہے تو عمل بھی پاکیزگی کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔پاکیزہ سوچ، پاکیزہ نیت کو جنم دیتی ہے؛ پاکیزہ نیت پاکیزہ ارادے کو؛ اور پاکیزہ ارادہ پاکیزہ عمل بن کر دنیا کے سامنے آتا ہے۔ پھر انسان کو دیکھ کر صرف یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کیا کرتا ہے، بلکہ اس کے کردار سے یہ بھی محسوس ہونے لگتا ہے کہ وہ اندر سے کیسا ہے۔ اور شاید یہی انسان کی اصل پہچان ہے: وہ نہیں جو دنیا اسے دیکھ کر سمجھتی ہے، بلکہ وہ ہے جو وہ تنہائی میں سوچتا ہے، اپنے ضمیر کے سامنے چاہتا ہے، اور پھر انہی خیالات میں سے جو کچھ عمل بن کر دنیا کے سامنے آتا ہے۔ دیکھی ہوئی دنیا میں انسان رہتا ہے، مگر ان دیکھی دنیا میں انسان بنتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button