ColumnTajamul Hussain Hashmi

سراج الدولہ، میر جعفر جیسوں کا دور ختم

سراج الدولہ، میر جعفر جیسوں کا دور ختم
تحریر : تجمل حسین ہاشمی
نواب سراج الدولہ ہندوستان کی تاریخ کا ایک شاندار کردار تھا، بنگال کا حکمران تھا، پلاسی کے میدان میں انگریز فوجوں کے ساتھ بہت بڑی جنگ لڑی، لیکن جب شہر قاسم بازار اور کلکتہ پر قبضہ کیا تو انگریز نے قبضہ چھڑوانے کے لیے اپنا مشہور جنرل لارڈ رابرٹ لائیو مدراس کو کلکتہ بھیجا۔ سراج الدولہ اور رابرٹ کے درمیان 1956ء میں خوفناک جنگ ہوئی، انگریزوں کو پہلی بار ہندوستان میں سخت مقابلے کا سامنا ہوا۔ انگریزوں نے شکست کا بدلہ لینے کے لیے نواب سراج الدولہ کے وزیر اعظم میر جعفر کو خرید لیا۔ اس خریداری کے بعد 13جون 1757ء کو انگریز نے بنگال پر حملہ کر دیا۔ پلاسی کے مقام پر جنگ شروع ہوئی۔ سراج الدولہ کو اس مقام پر انگریزوں سے شکست ہوئی۔ جنرل لارڈ کلائیو شدید دشمنی کے بعد بھی سراج الدولہ کی بڑی عزت کرتا تھا، جب اس نے بنگال فتح کیا تو اس نے سراج الدولہ کی ناکامی کے بارے ریسرچ کرائی۔ ریسرچ کے دوران سراج الدولہ کی دو بڑی خامیاں سامنے آئیں۔ انگریز رابرٹ نے اپنی یادداشت میں لکھا ’’ دنیا کے جس حکمران، بادشاہ یا سپہ سالار میں یہ دو خامیاں ہوں ، اسے جان لینا چاہے کہ اس کا انجام سراج الدولہ سے مختلف نہیں ہو گا‘‘۔ نواب کی پہلی خامی بہت خطرناک تھی۔ سراج الدولہ کو دولت جمع کرنے کا بڑا شوق تھا۔ اس نے اپنا ذاتی خزانہ بنا رکھا تھا۔ لارڈ کلائیو نے جب نواب کے گھر کا دروازہ توڑا جہاں خزانہ پڑا تھا تو وہ سونے، چاندی اور ہیروں کا انبار دیکھ کر حیران رہ گیا۔ خزانہ کمرے کی چھت تک بھر ہوا تھا۔ ساری دولت نواب کی اپنی تھی۔ لارڈ کلائیو نے دروازے کے رکھوالے سے پوچھا:’’ جب نواب کے پاس اتنی دولت تھی تو اس نے یہ دولت عوام کی فلاح و بہبود، تعلیم اور صحت پر کیوں خرچ نہیں کی، اس نے اپنی فوج میں اضافے اور گولوں بنانے پر خرچ کیوں نہیں کی ‘‘ ۔ اس پر محافظ نے جواب دیا: یہ نواب کی خاندانی دولت تھی، وہ اسے ذاتی ملکیت سمجھتے تھے۔ چنانچہ وہ اسے عوام پر خرچ کرنا نہیں چاہتے تھے۔ لارڈ کلائیو نے یہ سن کر قہقہہ لگایا اور کہا: ’’ اگر نواب نے اس دولت کو ذاتی نہ سمجھا ہوتا تو آج میں یہاں کھڑا نا ہوتا اور وہ یوں نہ مرتا‘‘۔ کلائیو نے اپنی یادداشتوں میں لکھا:’’ حکمران کی ذاتی دولت بھی ذاتی نہیں ہوتی، وہ بھی عوام کی امانت ہوتی ہے‘‘۔ جو حکمران اپنی دولت کو نواب کی طرح دو حصوں میں تقسیم رکھتے ہیں وہ آخر کار سراج الدولہ کی طرح کے شکست کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان جیسوں لیڈروں، بادشاہوں کی دولت دوسرے ملکوں کے بادشاہ یا ملک استعمال کرتے ہیں، ان کے پلے کچھ نہیں رہتا۔ سراج الدولہ کی دوسری غلطی ان کی نرم طبیعت تھی۔ وہ اپنے بڑے سے بڑے دشمن کو معاف کر دیتے تھے، مثلا میر جعفر نے انہیں پانچ مرتبہ دھوکہ دیا اور پانچ مرتبہ نواب نے میر جعفر کی مکاری و غداریوں زیادتیوں کا علم ہونے کے بعد بھی نرم دلی کا مظاہر کیا۔ جعفر نے ہر بار معافی مانگی، اور سراج الدولہ نے اسے ہر دفعہ معاف کر دیا، ان معافیوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ سراج الدولہ اور ہندوستان کی سب سے بڑی ریاست کو پلاسی کے میدان میں انگریزوں نے زندہ دفن کر دیا۔ لارڈ کلائیو نے نواب کی معافیوں سے یہ نتیجہ نکالا کہ حکمرانوں کو قانون اور احتساب کے معاملے میں کبھی نرم دل نہیں ہونا چاہئے۔ حکمران جب اپنی کلاس کے لوگوں کا احتساب نہیں کرتا پھر قدرت، ریاست کے حکمرانوں کا احتساب کرتی ہے۔ پاکستان کے قریبا 50000ہزار افراد، جن میں سیاستدان ، بیوروکریٹ اور کئی طاقتور شخصیات شامل ہیں، کی دولت دنیا کے مختلف ممالک میں پڑی ہے۔ دبئی لیکس، پانامہ سکینڈل سب کے سامنے ہیں، سپریم کورٹ کے پاس والیم ٹین کے صندوق بھرے پڑے ہیں، انہیں کھولیں، اربوں ڈالرز کی کئی کہانیاں نکل آئیں گی۔ سابق وزیر خزانہ شبر زیدی کے مطابق 150ارب ڈالر پاکستانیوں کے باہر پڑے ہیں، سوال انتہائی سادہ ہے، ان میں کوئی ایک بھی سیاستدان ذاتی دولت کو قومی دولت قرار دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ سوچیں پاکستانی سیاستدانوں نے ذاتی دولت سے کتنے فلاحی منصوبے بنائے ہیں، کتنا ملکی دفاع کو مضبوط کیا۔ سیاستدانوں میں ماسوائے عمران خان کے دوسرا کوئی نام نہیں، ہمارے ہاں سیاست کا محور خدمت نہیں، بلکہ مال لوٹنے کی دوڑ اور اقتدار پر قابض رہنا ہے، اقتدار کے لیے سب کچھ کر لیں گے جس کی غیرت بھی اجازت نہیں دیتی۔ بھلے پلے کچھ نہ بچے، عزت آنے جانے کی چیز ہے۔ یوسف رضا گیلانی صاحب نے خط نہ لکھ کر وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھو لیے لیکن خط لکھنے کا نہیں سوچا۔ ملک سے زیادہ اہم ان کی پارٹی پالیسی رہی، اربوں کی لوٹ مار کو ہر بار قومی مصلحت کے نام پر معاف کیا گیا، ایسا عمل ایک بار نہیں ہزاروں بار جمہوریت اور آمریت کے دور میں ہوا۔ میر جعفر، سراج الدولہ اور لارڈ کلائیو جیسے چہرے موجود ہیں۔ ہمارے ہاں سب ایک تھالی کے بینگن ہیں، حیرانگی کی بات ہے کہ اس وقت قوم کے فیصلہ سازوں کی عمریں 70پلس ہیں، لیکن ان میں کسی کو کوئی خدا خوفی نہیں، سب کا ایک ہی مشن ہے، اقتدار سے جوڑے رہو اور مال بنائوں اور باہر بھیجو۔ بچے، پراپرٹی سب کچھ باہر لے جائو اور ملکی اڑان کے جھوٹے دعوے کرتے رہو۔ جھوٹے نعروں سے قوم کی دل پشاوری کرتے رہو، اب تو نئی روایت چل نکلی ہے، سچ بولنے والوں کو خرید لو، نہیں تو انہیں تھانہ میں بند کروا دو، ووٹ چھوڑو، سسٹم کی خریداری کی دوڑ چل نکلی ہے، ویسے ہمارے سیاستدانوں سے لے کر عام فرد تک ہر کوئی سراج الدولہ اور میر جعفر کے نقش قدم پر ہے، لیکن پچھلے 70سال سے ہم بھی اندرونی، بیرونی معافیوں پر چلے رہے تھے۔ لیکن اس بار سپہ سالار نے ہارڈ اسٹیٹ کا اعلان کر کے ماضی کی تمام روایات کو زمین میں دفن کر دیا ہے ، آپ کو اگر یقین نہیں تو انڈیا کی حالت دیکھ لیں اور انٹرنیشنل سیاست میں پاکستان کا مقام دیکھ لیں، مکہ معاہدہ آپ کے سامنے ہے۔ آج انڈیا اور اسرائیل تنہا نظر آتے ہیں، اب ملک کے اندرونی حالات بہتر ہونے جا رہے ہیں، جہاں ہارڈ اسٹیٹ ہو گی، عوام کے حقوق کی بات ہو گی اور خوشحالی ہمارا مقدر ہو گی۔ انتظار کریں۔ گلی محلوں میں زہریلے مچھروں کی بہت بہتات ہے، ان پر بھی سپرے ریاست کی طرف سے کیا جائے گا۔

جواب دیں

Back to top button