
پٹرول پرائس کی آگ اور لاحاصل سیاسی راگ
تحریر : سی ایم رضوان
غریب مزدوروں، عام پاکستانیوں کی مہنگائی سے زندگی اجیرن ہو جانے کے خوفناک ترین معاملے سے آج کا حکمران اور بڑا سیاست دان اگر پہلو تہی کرتے ہوئے بے حس ہو کر لاحاصل اور فضول ترین سیاسی بحث میں الجھا رہے تو یہ اس کی اپنی چوائس تو ہو سکتی ہے حقائق کی عکاسی یا وقت کی ضرورت نہیں۔ اس رویے کی ان سیاست دانوں کو کیا سزا بھگتنا پڑے گی یہ تو آئندہ کے انتخابات کے نتائج ہی بتائیں گے۔ تاہم آج صورتحال یہ ہے کہ صنعتی حوالوں سے پاکستان کا مانچسٹر کہلوانے والے شہر فیصل آباد میں پاور لومز اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کے بحران کے باعث اکثر مزدوروں کو ملازمتوں سے نکالے جانے پر شدید احتجاجی لہر جاری ہے۔ فیکٹریوں خاص طور پر پاور لومز کی بندش اور وہاں کام کرنے والے مزدوروں کی جبری برطرفیوں کے خلاف مزدور تنظیمیں اور رہنما سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور سیاسی جماعتوں سے اسمبلی فلور پر آواز اٹھانے کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ اسمبلیوں میں بیٹھے ہمارے نمائندے خواہ وہ حکومتی ہوں یا اپوزیشن وہ سب نئے صوبوں کی ڈگڈگی اور بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی بے سری بانسری منہ سے لگائے صرف اپنی اپنی سیاست نغمہ سرائی کے لئے سیاسی راگ الاپ رہے ہیں۔ یہ سب سیاسی موسیقار اس امر سے یکسر بے نیاز ہیں کہ فیصل آباد میں ان مزدوروں کے احتجاج کی بنیادی وجہ ان غریب مزدوروں کی جبری برطرفیاں ہیں جن کے گھروں کے چولہے ایک دن کی مزودری نہ ملنے کی وجہ سے ہی بجھ جاتے ہیں۔ ان سیاست دانوں کو علم ہی نہیں کہ فیصل آباد میں ابراہیم ٹیکسٹائل سمیت مختلف ملوں سے سالہا سال سے کام کرنے والے مزدوروں کو بغیر کسی پیشگی نوٹس یا تحریری حکم نامے کے اچانک ڈیوٹیوں سے روک کر فارغ کر دیا گیا ہے، جس پر پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن نے شدید تشویش کے ساتھ احتجاج کا آغاز کر دیا ہے۔ دوسری طرف صنعت کار اور ملز مالکان بجلی کے بھاری بلوں، خام مال کی بڑھتی قیمتوں اور شدید معاشی بدحالی کی وجہ سے اپنے صنعتی یونٹ بند کرنے یا مزدوروں کی تعداد کم کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں اور فیصل آباد ( خاص طور پر غلام محمد آباد جیسے صنعتی علاقوں) میں پاور لومز اور ٹیکسٹائل کے کارخانے تیزی سے بند ہو رہے ہیں۔ اکثر کارخانوں کو تالے لگنے کی وجہ سے ہزاروں مزدور بے روزگار ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں مزدور طبقہ شدید فاقہ کشی اور کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ احتجاج کے دوران مزدور رہنماں نے خاص طور پر پی ٹی آئی اور دیگر اپوزیشن سیاسی نمائندوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسمبلی کے اندر ان کے حقوق اور روزگار کے تحفظ کے لئے آواز اٹھائیں۔ اس سلسلے میں پی ٹی آئی کی قیادت نے فیصل آباد میں مزدور رہنمائوں سے ملاقاتیں بھی کی ہیں اور ان کے ساتھ کھڑے ہونے کا یقین بھی دلایا ہے لیکن اسمبلی میں ان رہنماں کی جانب سے ابھی تک ایک لفظ بھی سامنے نہیں آیا۔ یہ تو ہے آٹھ ستمبر سے پہلے کی صورت حال اب گزشتہ روز حکومت کی جانب سے 8 ستمبر کے لئے پٹرول کی قیمت میں 12روپے 90پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3روپے 72پیسے فی لٹر کے بڑے اضافے سے ملک میں مہنگائی کی ایک نئی لہر آنے کا شدید ترین خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 358روپے 77پیسے اور ڈیزل کی قیمت 381روپے 77پیسے فی لٹر تک پہنچ گئی ہے۔ چونکہ ایندھن ملکی معیشت کا بنیادی انجن ہے، اس لئے اس فیصلے کے عام آدمی اور کاروباری شعبے پر براہِ راست اور بالواسطہ بدترین اثرات مرتب ہوں گے۔ ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں فوری اضافہ ہو جائے گا چونکہ سپلائی چین اور گڈز ٹرانسپورٹ کا زیادہ تر دارومدار ہائی اسپیڈ ڈیزل پر ہے۔ ڈیزل مہنگا ہونے سے اشیاء کو ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل کرنے کے اخراجات مزید بڑھ جائیں گے۔ ساتھ ہی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھتے ہی انٹر سٹی بسوں، لوکل ویگنوں، اور آن لائن رائڈ ہائلنگ سروسز ( جیسے بائیکیا، ان ڈرائیو اور اوبر) کے کرایوں میں فوری اضافہ ہو جائے گا جس کا براہِ راست بوجھ متوسط طبقے پر پڑے گا۔ خوردنی اور روزمرہ چیزوں کی قیمتوں میں بھی اضافے کا امکان ہے۔ سبزیوں، پھلوں، دالوں اور دیگر ضروری اشیائے خورونوش کی قیمتیں یک دم بڑھ گئی ہیں۔ ڈیزل کا استعمال ٹیوب ویل چلانے اور ٹریکٹرز کے ذریعے کاشتکاری میں ہوتا ہے۔ اس اضافے سے فصلوں کی کاشت کی لاگت بڑھے گی، جس کا اثر مستقبل میں گندم، چاول اور دیگر اجناس کی قیمتوں پر آئے گا۔ فیکٹریوں اور کارخانوں میں جہاں بجلی کے متبادل کے طور پر جنریٹرز استعمال ہوتے ہیں، وہاں ڈیزل کی مہنگائی کی وجہ سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہو گا، جس سے مقامی طور پر تیار ہونے والی اشیاء مزید مہنگی ہو جائیں گی۔ ان حالات میں پہلے سے ہی بجلی کے بھاری بلوں اور معاشی بدحالی کے شکار عوام کی حقیقی آمدنی اور قوتِ خرید مزید کم ہو جائے گی۔ اس اضافے سے ملک میں جاری ہفتہ وار مہنگائی کی شرح پر دبا مزید بڑھنے کا شدید خدشہ ہے۔ وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق سالانہ مہنگائی کی رفتار 8.32فیصد ریکارڈ کی گئی ہے اور ایک ہفتے میں 17اشیاء مہنگی ہوئی ہیں۔ آٹے کی قیمتوں میں پہلے ہی مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے ( جیسے کوئٹہ میں 20کلو آٹے کا تھیلا 2920روپے تک پہنچ گیا ہے)۔ ترسیل مہنگی ہونے سی آٹا، دالیں اور چینی مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ چکن، پیاز، آلو اور ٹماٹر جیسی بنیادی ضرورت کی اشیاء کی قیمتوں پر براہِ راست اثر پڑے گا۔
دوسری جانب مہنگائی کی سنگین صورتحال اور حکمرانوں و سیاستدانوں کی باہمی سیاسی چپقلش اور نئے صوبوں کی لا حاصل بحث کے ملکی معیشت اور عام آدمی پر انتہائی گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ بنیادی ضروریاتِ زندگی ( بجلی، گیس، آٹا، چینی، ادویات) عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں، جس سے خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ معاشی تنگی کی وجہ سے معاشرے میں بے چینی، ڈپریشن، چوری ڈکیتی اور خودکشیوں جیسے سنگین رجحانات بڑھ رہے ہیں۔ سیاسی عدم استحکام اور واضح معاشی پالیسیوں کے فقدان کی وجہ سے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کار اپنا پیسہ لگانے سے کتراتے ہیں، جس سے روزگار کے نئے مواقع ختم ہو گئے ہیں۔ جب سیاستدان عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے صرف اقتدار کی جنگ میں الجھے نظر آتے ہیں، تو عوام کا ریاستی اور سیاسی نظام پر سے اعتماد اٹھ جاتا ہے۔ موجودہ بحران سے نکلنے کے لئے تمام طبقات کو معیشت پر فوکس کرنا ہو گا۔ فوری طور پر تمام سیاسی جماعتوں کو ذاتی اختلافات پسِ پشت ڈال کر معیشت کی بہتری کے لئے ایک طویل المیعاد، متفقہ پلان بنانا چاہیے جو حکومت بدلنے سے بھی تبدیل نہ ہو۔ سیاسی بیانیوں پر سارا زور لگانے کی بجائے اشیائے خورونوش کی قیمتوں کو قابو میں لانے اور ٹیکس نیٹ کو اشرافیہ تک پھیلانے پر توجہ دی جائے۔ حکومتی سطح پر اخراجات میں نمایاں کمی کی جائے تاکہ عوام کو یہ احساس ہو کہ حکمران بھی ان کی تکلیف میں برابر کے شریک ہیں۔ عوام کو چاہئے کہ وہ ہنرمندی پر توجہ دیں۔ روایتی ملازمتوں پر انحصار کرنے کے بجائے نئے دور کے تقاضوں کے مطابق ڈیجیٹل اور تکنیکی مہارتیں سیکھی جائیں تاکہ آمدنی کی متبادل ذرائع پیدا ہوں۔ باہمی مدد اور یکجہتی کو فروغ دیا جائے۔ مشکل کی اس گھڑی میں صاحبِ ثروت لوگ اپنے اردگرد موجود سفید پوش اور غریب خاندانوں کی خاموشی سے مدد کریں۔ سنجیدہ سیاسی شعور کی بھی اشد ضرورت ہے۔ آئندہ کے لئے جذباتی نعروں کے بجائے کارکردگی اور عوامی مسائل کے حل کی بنیاد پر قیادت کا انتخاب کیا جائے۔
افسوس کہ ان مناسب اقدامات پر غور کرنے کی بجائے حکمرانوں کی تمام تر ترجیحات میں صرف ایک ترجیح یہ صوبوں کی بحث رہ گئی ہے۔ دوسری جانب ایک وزیر محسن نقوی ان سیاست دانوں کا مزا لینے کے لئے چند دنوں کے وقفے کی بعد پھر نئے صوبوں کے ایشو پر ایک دو جملے بول دیتے ہیں اور یہ سیاست دان پورا پورا ہفتہ ہلکان ہوتے رہتے ہیں اور اس نان ایشو کو لے کر مرنے مارنے اور قبریں بنوانے تک چلے جاتے ہیں۔ تاہم اب ن لیگ نے تھوڑی واضح پوزیشن لے کر انقلاب کا سارا میدان گویا پیپلز پارٹی کے سپرد کر دیا ہے وہ اس طرح کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما وزیر مملکت برائے داخلہ امور اور سینیٹر طلال چودھری نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا دفاع کرتے ہوئے کہہ دیا ہے کہ بہت سے لوگ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی پر بلا وجہ تنقید کرتے ہیں کیونکہ شاید ان کی توقعات وزیر داخلہ سے پوری نہیں ہوتیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک میں نئے صوبوں کی بات کافی عرصے سے ہو رہی تھی، لیکن جب اب محسن نقوی نے اس معاملے پر بات کی تو ایک طوفان کھڑا کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ محسن نقوی ایک بڑے جمہوری آدمی ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ملکی بقا سسٹم، سیاست اور جمہوریت کی مضبوطی میں ہے۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے نئے صوبوں کے معاملے پر تحفظات کے حوالے سے طلال چودھری نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو نہ جانے کیا خوف ہے، وہ اس معاملے پر کھل کر بات کیوں نہیں کرتی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ صوبوں کے معاملے پر کوئی بھی جماعت اکیلے فیصلہ نہیں کر سکتی جبکہ پیپلز پارٹی کے رہنما اس معاملے پر آخری نکتے پر پہنچ گئے ہیں اور معاملے کے حق میں بات کرنے والے ن لیگی وزراء کو فارم 47والے جعلی اور مصنوعی مینڈیٹ کے حامل سیاست دان قرار دے رہے ہیں۔ لیکن اس توتکرار سے بیزار عام آدمی کی پہلی ترجیح، خواہش، مطالبہ اور ضرورت محض روزمرہ کی مہنگائی سے بچائو اور فوری معاشی ریلیف ہی رہے گی جبکہ سیاست دانوں کی ترجیحات اگر مختلف ہوں گی تو عوام اور سیاست دانوں کے مابین خلیج اس قدر بڑھ جائے گی کہ خودرو ملک گیر عوامی تحریک کی راہ ہموار ہو گی۔ جس کو روکنا پھر ان سیاست دانوں اور پالیسی سازوں کے بس میں نہیں ہو گا۔





