پٹرول بجلی، عوام پر نیا بوجھ

پٹرول بجلی، عوام پر نیا بوجھ
مہنگائی ایک ایسا عذاب بن چکی ہے جس نے عام آدمی کی زندگی کا سکون چھین لیا ہے۔ گھر کا بجٹ بنانے والا شخص آج آمدن اور اخراجات کے درمیان ایسا پھنس چکا کہ بنیادی ضروریات پوری کرنا بھی مشکل امتحان بن گیا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ اور بجلی کے نرخوں میں مزید 52پیسے فی یونٹ اضافے کا فیصلہ اسی تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ عوام کے لیے مشکلات کم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ بنیاد پر ہونے والا اضافہ عوام کے لیے عذاب بن گیا ہے۔ پٹرول کی قیمت میں 12روپے 90پیسے فی لٹر اضافے کے بعد اس کی قیمت 358روپے 77پیسے ہوگئی ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل بھی 3روپے 72پیسے اضافے کے بعد 381روپے 77پیسے فی لٹر تک پہنچ گیا ہے۔ دوسری طرف بجلی کی قیمت میں 52 پیسے فی یونٹ اضافے سے صارفین پر 12ارب 66کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ یہ بوجھ ستمبر، اکتوبر اور نومبر کے بجلی کے بلوں میں منتقل ہوگا۔ اعداد و شمار بظاہر محض اعداد ہوتے ہیں، مگر عام آدمی کے لیے ہر اضافہ اس کے گھر کے بجٹ سے ایک ضرورت چھین لیتا ہے۔ پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو سفر مہنگا ہوتا ہے، ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھتے ہیں، اشیائے خورونوش کی ترسیل کی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے اور بالآخر اس کا اثر بازار میں موجود قریباً ہر چیز کی قیمت پر پڑتا ہے۔ بجلی مہنگی ہوتی ہے تو صرف بجلی کا بل نہیں بڑھتا، بلکہ دکان دار، صنعت کار اور کاروباری ادارے اپنی بڑھتی ہوئی لاگت کا بوجھ بھی صارفین پر منتقل کرتے ہیں۔ یوں مہنگائی کا ایک فیصلہ کئی راستوں سے عام آدمی کے گھر تک پہنچتا ہے۔ گزشتہ سات، آٹھ برس پاکستانی عوام کے لیے آسان نہیں رہے۔ کبھی معاشی بحران، کبھی مہنگائی، کبھی توانائی کے بڑھتے ہوئے نرخ اور کبھی روزگار کے مسائل نے عام شہری کو مسلسل دبائو میں رکھا ہے۔ ایک متوسط یا کم آمدن والا خاندان آج بھی اپنے اخراجات کو محدود سے محدود تر کرنے پر مجبور ہے۔ بچوں کی تعلیم، علاج، کرایہ، بجلی، گیس، پٹرول، خوراک اور دیگر ضروریات پوری کرنے کے بعد آمدن میں کچھ بچتا ہی نہیں۔ ایسے حالات میں حکومت کی اصل ذمے داری صرف محصولات جمع کرنا یا قیمتوں میں اضافے کا انتظام کرنا نہیں، بلکہ عوام کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہے۔ وہ حکمران جو عوام کا درد اپنے دل میں محسوس کرتے ہیں، وہ ایسے فیصلے کرتے ہیں جن سے مشکلات کم ہوں، نہ کہ ایسے فیصلے جو پہلے سے پریشان شہری کے لیے مزید بوجھ پیدا کر دیں۔ یہ بات درست ہے کہ عالمی منڈی، درآمدی لاگت، زرمبادلہ، مالی خسارہ اور دیگر معاشی عوامل پٹرولیم اور بجلی کی قیمتوں پر اثرانداز ہوتے ہیں، لیکن حکومت کے پاس پالیسی کے ذریعے عوامی بوجھ کم کرنے کے راستے بھی موجود ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان راستوں کو کتنی سنجیدگی سے استعمال کیا جارہا ہے؟ حکومت کو اب محض یہ بتانے پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے کہ قیمت کیوں بڑھی۔ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ قیمت کب کم ہوگی اور انہیں حقیقی ریلیف کب ملے گا؟ بجلی کے شعبے میں بھی بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ مہنگی بجلی نے گھریلو صارفین کے ساتھ ساتھ صنعت، تجارت اور زراعت کو بھی متاثر کیا ہے۔ اگر بجلی کا نرخ مسلسل بڑھتا رہے گا تو پیداواری لاگت کم کرنے، روزگار بڑھانے اور معیشت کو مستحکم کرنے کے اہداف حاصل کرنا مشکل ہوگا۔ حکومت کو بجلی کی پیداوار، ترسیل، تقسیم، لائن لاسز، چوری اور ادارہ جاتی inefficiencyجیسے مسائل پر فیصلہ کُن اقدامات کرنا ہوں گے۔ اسی طرح گیس اور پٹرولیم مصنوعات کے نرخ بھی ایسی سطح پر لانے کی ضرورت ہے جو ملکی معیشت اور عوام دونوں کے لیے قابل برداشت ہو۔ توانائی کسی بھی ملک کی معاشی سرگرمی کا بنیادی ستون ہے۔ اگر یہی شعبہ عام آدمی کی قوت خرید کو مسلسل کھاتا رہے تو معاشی ترقی کے ثمرات عوام تک کیسے پہنچیں گے؟ یہ وقت عوام کو مزید قربانی دینے کا مطالبہ کرنے سے زیادہ حکومتی اداروں، اشرافیہ اور فیصلہ ساز طبقات سے قربانی مانگنے کا ہے۔ اخراجات میں کمی، غیر ضروری مراعات کا خاتمہ، ٹیکس نظام میں انصاف، بجلی و گیس کے شعبوں میں اصلاحات اور وسائل کے مثر استعمال سے وہ گنجائش پیدا کی جاسکتی ہے جس کے ذریعے عام آدمی کو ریلیف دیا جائے۔ حکومت کو یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ مہنگائی کے اثرات کم آمدن والے طبقات پر کم سے کم پڑیں۔ صرف سبسڈی کے عارضی اعلانات کافی نہیں، مستقل اور پائیدار معاشی پالیسی درکار ہے۔ عوام نے مشکل وقت میں ریاست کا ساتھ دیا ہے۔ اب ریاست کی باری ہے کہ وہ عوام کا ساتھ دے۔ پٹرول، بجلی اور گیس کی قیمتیں صرف معاشی فیصلے نہیں، یہ براہِ راست عوام کی زندگی کے فیصلے ہیں۔ ہر اضافے کے پیچھے ایک گھر کا بجٹ، ایک ماں کی فکر، ایک باپ کی پریشانی اور ایک بچے کی ضرورت کھڑی ہوتی ہے۔ اس لیے وقت آگیا ہے کہ فیصلوں کا مرکز صرف خزانہ نہ ہو، عوام بھی ہوں۔ حکومت ایسے فیصلے کرے جن سے اعداد و شمار نہیں، لوگوں کی زندگیاں بہتر ہوں۔ کیونکہ حقیقی معاشی کامیابی یہ نہیں کہ ریاست کا حساب کتاب درست ہوگیا، حقیقی کامیابی یہ ہے کہ عام آدمی کا گھر بھی سکون سے چلنے لگے۔
بچوں کی اموات، بڑا المیہ
تھرپارکر کے سول اسپتال مٹھی میں آٹھ ماہ کے دوران 480نوزائیدہ بچوں کی اموات صرف ایک ضلعی مسئلہ نہیں، بلکہ پورے پاکستان کے لیے سنگین لمحہ فکریہ ہے۔ جنوری سے اگست تک 2732بچوں کا داخل ہونا اور ان میں سے 480کا زندگی کی جنگ ہار جانا ہمارے صحت کے نظام اور سماجی ترجیحات پر سوالات اٹھاتا ہے۔ یہ اعداد و شمار یاد دہانی ہیں کہ پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کی شرح اموات دنیا کی بلند ترین شرحوں میں شامل ہے۔ بچے معاشرے کا مستقبل ہوتے ہیں، لیکن پاکستان میں ہزاروں خاندان اپنے بچوں کو بنیادی صحت، مناسب غذا، صاف پانی اور بروقت علاج فراہم کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ تھرپارکر میں غذائی قلت، کم وزن، مائوں کی غذائی کمی، کم عمری کی شادیاں اور وبائی امراض بچوں کی زندگیوں کو خطرات سے دوچار کرتے ہیں۔ مسئلہ صرف تھر تک محدود نہیں۔ ملک کی غریب آبادیوں میں نومولود بچوں کو بھی یہی مسائل درپیش ہیں۔ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ بچوں کی اموات کی کئی وجوہ قابل تدارک ہیں۔ حمل کے دوران ماں کو مناسب غذا، طبی نگہداشت، ضروری ادویہ اور باقاعدہ معائنہ میسر ہو تو خطرات کم کیے جاسکتے ہیں۔ پیدائش کے بعد ماں اور بچے کی نگہداشت، ویکسی نیشن، صاف پانی، مناسب خوراک اور بروقت امداد زندگیاں بچا سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ریاست ان بنیادی ضرورتوں کو کب ترجیح بنائے گی؟ مٹھی کے اعداد و شمار کے ساتھ یہ امر بھی تشویش ناک ہے کہ متعلقہ حکام نے معلومات دینے سے گریز کیا اور ذمے داری ایک دوسرے پر ڈالنے کی کوشش کی۔ ایسی صورت حال میں شفاف تحقیقات اور جواب دہی ناگزیر ہے۔ ہر بچے کی موت کے پیچھے ایک خاندان کا دکھ اور ایک مستقبل کا خاتمہ ہوتا ہے۔ وفاق اور صوبوں کو مل کر بچوں کی اموات کم کرنے کی جامع حکمت عملی بنانا ہوگی۔ غذائی پروگرام، بنیادی مراکز صحت، زچہ و بچہ کی سہولتیں، تربیت یافتہ عملہ، ایمرجنسی ٹرانسپورٹ اور دیہی علاقوں میں بروقت علاج یقینی بنانا ہوگا۔ بجٹ میں صحت اور غذائیت کو انسانی سرمایہ کاری سمجھنا ہوگا۔ پاکستان کی ترقی کا اصل پیمانہ بلند عمارتیں یا بڑے منصوبے نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کتنے بچے محفوظ، صحت مند اور زندہ رہتے ہیں۔ اگر ہم پانچ سال سے کم عمر بچوں کو تحفظ نہیں دے سکتے تو ترقی کے دعوے ادھورے رہیں گے۔ تھر کی یہ گھنٹی پورے پاکستان کے لیے ہے، اب اسے سننا اور عملی اقدام کرنا ہوگا۔





