Column

میر کراچی کے تین سال اور اس کا عزم

پرچارک
تحریر : شکیل سلاوٹ
میر کراچی کے تین سال اور اس کا عزم
کراچی کو صرف نقشے پر موجود ایک شہر سمجھنا اس شہر کی حقیقت کو سمجھنے سے انکار کے مترادف ہے۔ کراچی پاکستان کی معیشت کا دل ہے، محنت کشوں کا شہر ہے، کاروبار اور روزگار کا مرکز ہے اور ان لاکھوں لوگوں کی امید ہے جو اپنے بہتر مستقبل کا خواب لے کر اس شہر کا رخ کرتے ہیں۔ یہی کراچی کبھی اپنی راتوں کی جگمگاہٹ، آباد سڑکوں، روشن بازاروں اور زندہ دل لوگوں کے باعث ’’ روشنیوں کا شہر‘‘ کہلاتا تھا۔
آج سوال یہ نہیں کہ کراچی میں مسائل کیوں ہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ کراچی کو ان مسائل سے نکالنے کے لیے کون کھڑا ہے؟۔ کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب نے اپنے تین سالہ دور میں اسی سوال کا جواب اپنے عملی اقدامات اور سیاسی عزم کے ذریعے دینے کی کوشش کی ہے۔ وسائل کی کمی، انتظامی پیچیدگیوں، سیاسی مخالفت اور مسلسل تنقید کے باوجود ان کا موقف واضح رہا ہے کہ کراچی کو اس کے مسائل کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ شہر کو بہتر بنانا ہوگا، سڑکوں کو سنوارنا ہوگا، شہری سہولیات کو بہتر کرنا ہوگا اور کراچی کے شہری کو یہ احساس دلانا ہوگا کہ اس کا شہر اس کے لیے بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا پاکستان کے لیے کراچی کی معاشی حیثیت اہم ہے۔
یہاں پیپلز پارٹی کا کراچی سے تعلق بھی ایک الگ معنی رکھتا ہے۔ یہ وہ شہر ہے جہاں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی سیاسی زندگی اور جدوجہد کی بے شمار یادیں وابستہ ہیں۔ یہ وہ شہر ہے جس کے ساتھ بھٹو خاندان کی کئی نسلوں کی سیاسی اور جذباتی وابستگی رہی ہے۔ اور یہ بات بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی پیدائش کراچی میں ہوئی۔ اس لیے کراچی پیپلز پارٹی کے لیے محض ایک انتخابی حلقہ نہیں بلکہ ایک ایسا شہر ہے جس کے ساتھ تاریخ، جذبات اور قربت کے رشتے جڑے ہوئے ہیں۔ اسی نسبت سے کراچی کی خدمت کا دعویٰ بھی ایک بڑی ذمہ داری کا تقاضا کرتا ہے۔
مرتضیٰ وہاب کے سامنے چیلنج صرف یہ نہیں کہ چند سڑکیں بن جائیں یا چند شاہراہیں روشن ہوجائیں۔ اصل چیلنج اس کراچی کو واپس لانا ہے جس کا خواب اس شہر کے شہری آج بھی اپنی آنکھوں میں سجائے ہوئے ہیں۔ ایک ایسا کراچی جہاں رات خوف کی علامت نہ ہو بلکہ روشنی اور رونق کی علامت ہو۔ ایک ایسا کراچی جہاں سڑک پر نکلنے والا شہری خود کو محفوظ محسوس کرے۔ جہاں صفائی صرف مہم کے دنوں میں نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کا حصہ ہو۔ جہاں پارکس ویران نہ ہوں بلکہ خاندانوں اور بچوں سے آباد ہوں۔ جہاں شہری بنیادی سہولیات کے لیے دروازے نہ کھٹکھٹاتے پھریں بلکہ ایک بہتر بلدیاتی نظام انہیں سہولیات فراہم کرے۔
یہی وجہ ہے کہ ’’ روشنیوں کا شہر‘‘ بنانے کا نعرہ محض بجلی کے قمقمے لگانے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ حقیقی روشنی اس وقت ہوگی جب کراچی کے عام شہری کی زندگی آسان ہوگی، جب نوجوان کو روزگار کے مواقع ملیں گے، جب کاروبار کے لیے ماحول بہتر ہوگا، جب سڑکیں اور راستے محفوظ ہوں گے اور جب شہری اپنے شہر کے مستقبل پر اعتماد کر سکے گا۔
کراچی کے مسائل دہائیوں پر محیط ہیں۔ انہیں ایک حکومت، ایک میئر یا ایک سیاسی جماعت کے چند برسوں میں مکمل طور پر ختم کرنا حقیقت پسندانہ توقع نہیں۔ لیکن کسی بھی قیادت کی کامیابی کا آغاز اسی بات سے ہوتا ہے کہ وہ مسائل سے آنکھیں نہ چرائے بلکہ ان کا سامنا کرے۔
مرتضیٰ وہاب کے لیے بھی یہی اصل امتحان ہے۔ تنقید ہوتی رہے گی، سیاسی اختلاف بھی اپنی جگہ موجود رہے گا، مگر کراچی کی ترقی کا سفر نہیں رکنا چاہیے۔ یہ شہر سندھ کا دارالخلافہ ہے جس میں سندھی بولنے والے بستے ہیں وہاں اردو بولنے والے کا بھی یہ ہے؛ پنجابی، بلوچی، پشتون، سرائیکی، گلگتی، کشمیری اور ملک کے ہر حصے سے آنے والے شہری کا بھی۔ کراچی ان سب کو روزگار، کاروبار اور آگے بڑھنے کا موقع دیتا ہے۔ اس لیے کراچی کی روشنی دراصل پورے پاکستان کی روشنی ہے۔
اگر مرتضیٰ وہاب اپنے عزم کو مستقل مزاجی، شفافیت، بہتر انتظام اور ٹھوس منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھاتے ہیں تو کراچی کی تصویر بدلنے کی یہ کوشش ایک بڑے شہری سفر میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ اور پھر وہ دن بھی آسکتا ہے جب کراچی کا شہری صرف ماضی کو یاد کرتے ہوئے یہ نہ کہے کہ ’’ کراچی کبھی روشنیوں کا شہر تھا‘‘ بلکہ پورے اعتماد سے کہے: کراچی کو آج سب سے زیادہ روشنی کی ضرورت ہے۔ مرتضیٰ وہاب کا عزم اگر عمل، تسلسل اور خدمت سے جڑ جائے تو کراچی پھر روشن ہوسکتا ہے۔ یہ صرف ایک سیاسی نعرہ نہیں ہونا چاہیے۔ یہ کراچی کے مستقبل کا وعدہ ہونا چاہیے۔

جواب دیں

Back to top button