پمز سانحہ: اصلاح کی نئی بنیاد

اداریہ۔۔
پمز سانحہ: اصلاح کی نئی بنیاد
وفاقی دارالحکومت کے پمز اسپتال کے نیونیٹل وارڈ میں پیش آنے والا آتشزدگی کا الم ناک سانحہ محض ایک عمارت میں لگنے والی آگ نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا قومی المیہ ہے جس نے پورے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ معصوم بچوں کا اپنی مائوں کی گود سے ہمیشہ کے لیے جدا ہوجانا وہ دکھ ہے، جس کا مداوا دنیا کی کوئی مالی امداد نہیں کر سکتی۔ ان ننھی جانوں کے والدین کے لیے یہ صدمہ شاید عمر بھر ایک ایسا زخم رہے گا، جس کی کسک وقت گزرنے کے باوجود کم نہیں ہوگی۔ تاہم اس اندوہ ناک واقعے کے بعد حکومت کی جانب سے جس تیزی، سنجیدگی اور ذمے داری کا مظاہرہ کیا گیا ہے، وہ اس امر کی علامت ہے کہ ریاست نے اس سانحے کو محض ایک حادثہ سمجھ کر نظرانداز کرنے کے بجائے اس کے اسباب اور ذمے داروں تک پہنچنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ پیش ہونا اور واقعے کی سی سی ٹی وی ویڈیو کا جائزہ لیا جانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حکومت حقائق کو پردے میں رکھنے کے بجائے انہیں سامنے لانے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے ذمے دار افسران کے خلاف فوری کارروائی کی منظوری اور یہ ہدایت کہ معاملہ صرف محکمانہ کارروائی تک محدود نہ رہے، بلکہ فوجداری قوانین کے تحت بھی بلاامتیاز کارروائی کی جائے، اس عزم کی عکاسی ہے کہ انسانی جانوں سے متعلق غفلت کو کسی منصب، عہدے یا اثرورسوخ کی آڑ میں تحفظ نہیں دیا جائے گا۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مندرجات دل دہلا دینے والے ہیں۔ ایک ایسے بڑے سرکاری اسپتال میں، جہاں روزانہ سیکڑوں مریض اور ان کے اہل خانہ علاج اور تحفظ کی امید لے کر آتے ہیں، آتشزدگی جیسی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے جامع ایس او پیز اور مناسب تربیت کا فقدان ایک سنگین انتظامی خامی ہے۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک امر یہ ہے کہ نیونیٹل وارڈ میں فائر الارم اور اسپرنکلر سسٹم تک موجود نہیں تھا۔ آگ کے پھیلائو کی رفتار، ہنگامی خدمات کو کال میں ہونے والی تاخیر اور امدادی ٹیم کے پہنچنے میں لگنے والا وقت اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ پورے نظام کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔ یہاں حکومت کا فوری ردعمل نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ وزارتِ قومی صحت کی جانب سے پمز سمیت وفاقی وزارتِ صحت کے زیر انتظام تمام اسپتالوں میں جامع فائر سیفٹی آڈٹ شروع کرنے کا فیصلہ محض ایک انتظامی حکم نہیں، بلکہ مستقبل کے سانحات کی روک تھام کی جانب ایک بنیادی قدم ہے۔ فائر ڈیٹیکشن سسٹم، الارم، فائر فائٹنگ آلات، ایمرجنسی راستوں، بجلی کے نظام اور دیگر ممکنہ خطرات کی جانچ کا فیصلہ اس بات کی علامت ہے کہ حکومت موجودہ سانحے سے سبق حاصل کرتے ہوئے پورے نظام میں اصلاح لانا چاہتی ہے۔ اس فیصلے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ رپورٹ کے مطابق پمز کے نرسنگ ہاسٹل میں صرف ایک ماہ قبل بھی آتشزدگی کا واقعہ پیش آچکا تھا، مگر اس کے بعد حفاظتی اقدامات میں مطلوبہ سنجیدگی نظر نہیں آئی۔ ماضی کی غلطیوں سے سبق نہ سیکھنا دراصل مستقبل کے سانحے کو دعوت دینا ہے۔ اب حکومت نے جس جامع آڈٹ اور خامیوں کو فوری دُور کرنے کی ہدایت کی ہے، اسے محض کاغذی کارروائی نہیں بننا چاہیے۔ ہر اسپتال میں عملی طور پر یہ دیکھا جانا چاہیے کہ ہنگامی حالت میں عملہ کیا کرے گا، مریضوں کو کیسے منتقل کیا جائے گا اور فائر سسٹم کس لمحے فعال ہوگا۔ اس سانحے میں ایک نرس کا کردار بھی پوری قوم کے لیے امید کی روشن کرن ہے۔ آگ کے تیزی سے پھیلتے ہوئے شعلوں کے درمیان اپنی جان کی پروا کیے بغیر ایک بچے کو بچانا اس پیشے کی حقیقی روح کی ترجمانی ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے اس نرس کے جذبہ ایثار کو سراہتے ہوئے ستارۂ خدمت دینے کی منظوری اس امر کا اعتراف ہے کہ ریاست اپنے فرائض کی ادائیگی میں جان جوکھوں میں ڈالنے والوں کی قربانی کو فراموش نہیں کرتی۔ ایسے کردار معاشرے میں فرض شناسی، انسان دوستی اور خدمت کا چراغ روشن رکھتے ہیں۔ اسی طرح متاثرہ خاندانوں کے لیے مالی معاونت بھی حکومت کی جانب سے ذمے داری میں شریک ہونے کا ایک اظہار ہے۔ دونوں خاندانوں کو پچاس، پچاس لاکھ روپے کے امدادی چیک دینا یقیناً ان کے ناقابلِ تلافی نقصان کا نعم البدل نہیں، کیونکہ اولاد کا بچھڑ جانا کسی رقم سے واپس نہیں آسکتا۔ لیکن مشکل کی گھڑی میں ریاست کا متاثرہ خاندانوں کے دروازے تک پہنچنا اور ان کے دکھ میں شریک ہونا انسانی اور حکومتی ذمے داری کا تقاضا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سانحے کو سیاسی الزام تراشی کا ذریعہ بنانے کے بجائے قومی اصلاح کا نقطہ آغاز بنایا جائے۔ حکومت نے تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ عوام کے سامنے لانے اور مزید تفصیلی تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت کرکے شفافیت کی سمت ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ اب اگلا مرحلہ اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ رپورٹ میں سامنے آنے والی خامیاں ہمیشہ کے لیے دُور ہوں اور ذمے دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی اپنے منطقی انجام تک پہنچے۔ پمز جیسے بڑے اسپتال صرف اینٹوں اور دیواروں کا مجموعہ نہیں ہوتے، یہ عام آدمی کی امید کا آخری سہارا ہوتے ہیں۔ یہاں آنے والا ہر مریض ریاست پر اعتماد کرتا ہے۔ اس اعتماد کی حفاظت حکومت، انتظامیہ اور طبی اداروں کی مشترکہ ذمے داری ہے۔ وزیراعظم کا یہ عزم کہ مجرمانہ غفلت کے مرتکب افراد کو رعایت نہیں دی جائے گی اور انہیں قانون کے مطابق سزا دلائی جائے گی، اسی اعتماد کی بحالی کے لیے ضروری ہے۔ پمز کا سانحہ ہمیں ایک تلخ مگر قیمتی سبق دے گیا ہے۔ حفاظتی انتظامات میں معمولی سی غفلت بھی ناقابلِ تلافی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ حکومت نے فوری تحقیقات، احتساب، فائر سیفٹی آڈٹ، انتظامی تبدیلیوں اور متاثرہ خاندانوں کی معاونت کے ذریعے جو اقدامات کیے ہیں، انہیں مستقل پالیسی میں تبدیل کرنا ہوگا۔ اگر اس سانحے کے بعد ملک کے تمام سرکاری و نجی ہسپتال محفوظ تر بنا دیے گئے، ہنگامی نظام مضبوط کر دیا گیا اور غفلت کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند کر دئیے گئے تو ان معصوم جانوں کی قربانی ایک بڑے قومی سبق میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ قوم ان ننھے پھولوں کو کبھی نہیں بھولے گی۔ اب ریاست کی ذمے داری ہے کہ ان کے خون کی پکار کو انصاف، اصلاح اور احتساب کی صورت میں جواب دے۔ یہی ان خاندانوں کے زخموں پر حقیقی مرہم رکھنے کی پہلی منزل ہے اور یہی ایک ذمے دار ریاست کی پہچان بھی۔
شذرہ۔
معصوموں کو دہشتگردوں سے بچایا جائے
بلوچستان میں کم عمر بچیوں کو خودکُش حملوں کے لیے ورغلانے کی کوشش ایک نہایت سنگین اور تشویش ناک واقعہ ہے۔ وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے 16سالہ زینب اور 12سالہ فاطمہ کو دہشت گردوں کے چُنگل سے نکال کر ایک بڑے سانحے کو روک دیا۔ یہ واقعہ اس تلخ حقیقت کی نشان دہی کرتا ہے کہ دہشت گرد عناصر اپنے مذموم مقاصد کے لیے اب معصوم بچوں اور بچیوں کو بھی استعمال کرنے سے گریز نہیں کر رہے۔ دہشت گردی کسی قوم، صوبے، زبان یا ثقافت کی نمائندگی نہیں کرتی۔ اس کا واحد مقصد خوف و ہراس پیدا کرنا، ریاستی اداروں کو کمزور کرنا اور معاشرے میں انتشار پیدا کرنا ہے۔ بلوچستان کے عوام نے بھی دہائیوں سے دہشت گردی کی اس لعنت کا سامنا کیا ہے اور اس کے نتیجے میں بے شمار قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔ ایسے حالات میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف مسلسل کارروائیاں قابلِ تحسین ہیں۔ حالیہ واقعے کا ایک انتہائی افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ دہشت گردی کے لیے کم عمر ذہنوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ بچوں اور نوجوانوں کو جذباتی، نظریاتی یا ذاتی محرومیوں کا فائدہ اٹھاکر اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا دُشمنوں کی انتہائی خطرناک حکمت عملی ہے۔ اس رجحان کا مقابلہ صرف بندوق سے نہیں بلکہ تعلیم، آگاہی، روزگار، سماجی تحفظ اور موثر انسدادِ انتہاپسندی کے ذریعے بھی کرنا ہوگا۔ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک طویل اور مشکل جنگ لڑرہا ہے۔ اس جنگ میں سیکیورٹی فورسز، پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عام شہریوں نے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں کامیابیاں بھی حاصل ہوئی ہیں اور متعدد حملوں کو وقوع پذیر ہونے سے پہلے ناکام بنایا گیا ہے۔ یہ امر اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاستی ادارے دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے چوکس اور سرگرم ہیں۔ تاہم دہشت گردی کے خلاف کامیابی کو پائیدار بنانے کے لیے قومی سطح پر اتحاد اور ذمے دارانہ رویے کی ضرورت ہے۔ ملک دشمن دہشت گرد گروہوں کا مقابلہ کرتے ہوئے بلوچستان کے عوام کے بنیادی مسائل، بالخصوص تعلیم، صحت، روزگار اور ترقی کے مواقع پر بھی بھرپور توجہ دینا ضروری ہے۔ محرومیوں کے خاتمے سے دہشت گردوں کے پراپیگنڈے اور بھرتی کے امکانات محدود کیے جاسکتے ہیں۔ میڈیا اور سیاسی قیادت پر بھی بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ دہشت گردی کے واقعات کو سنسنی خیزی کے بجائے قومی سلامتی اور عوامی آگاہی کے تناظر میں پیش کریں۔ دہشت گردوں کے بیانیے کو تقویت دینے والی غیر مصدقہ معلومات سے گریز اور متاثرہ خاندانوں کی عزت و وقار کا تحفظ ناگزیر ہے۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہا ہے۔ دشمن چاہے کسی بھی نام یا تنظیم کے پردے میں کام کرے، ریاست کا عزم واضح ہے کہ ملک میں دہشت گردی، انتہاپسندی اور تشدد کے لیے کوئی جگہ نہیں چھوڑی جائے گی۔ اس جنگ میں کامیابی صرف سیکیورٹی فورسز کی نہیں بلکہ پوری قوم کی کامیابی ہوگی۔ قومی یکجہتی، موثر ریاستی کارروائی اور عوامی تعاون کے ذریعے پاکستان ایک زیادہ محفوظ، مستحکم اور پُرامن مستقبل کی جانب بڑھ سکتا ہے۔







