مالیاتی شریان

مالیاتی شریان
محمد مبشر انوار
مشرق وسطیٰ کی صورتحال اس وقت میدان جنگ کی بجائے پس پردہ ملاقاتوں پر انحصار کر رہی ہے کہ کسی طرح ان ملاقاتوں میں کوئی نہ کوئی ایسی پیش رفت ہو جائے کہ فریقین کا اتفاق ہو اور امن کی راہ ہموار ہو سکے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ فریقین کسی ایک معاہدے پر متفق ہو جائیں۔ بظاہر ایسی کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی کہ فریقین کسی ایسے معاہدے پر متفق ہو جائیں کہ جون میں پاکستان نے ثالثی کرواتے ہوئے ایک ایسی مفاہمتی یادداشت پر فریقین کو رضامند تو کر لیا تھا لیکن اس وقت وہ یادداشت کس کونے کھدرے میں ہے، یقین سے نہیں کہا جا سکتا اور نہ ہی یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ فریقین اس یادداشت پر عمل پیرا ہیں۔ اعتماد کا فقدان انتہائی شدید ہے اور ایران بہرحال مجروح فریق کے، اس وقت تک امریکہ پر اعتبار نہیں کرنا چاہتا، جب تک امریکہ اپنے عمل سے اپنی نیک نیتی ثابت نہیں کرتا تو دوسری طرف امریکہ اپنے عالمی طاقت کے زعم میں یہ تصور کئے بیٹھا ہے کہ ایران کو وہ تمام شرائط من و عن تسلیم کرنی چاہئے، جن کا مطالبہ امریکہ ایران سے کر رہا ہے۔ ایرانی تحفظات اپنی جگہ بجا اس لئے ہیں کہ امریکہ نے دو مرتبہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوران ہی ،جارحیت کا ارتکاب کیا ہے جبکہ ایران نے دونوں مرتبہ اپنے حق دفاع استعمال کیا ہے البتہ اس دفاعی حق کے دوران ایران نے امریکہ کو میدان جنگ میں دھول چٹائی ہے اور اس کے نتیجہ میں ایرانی اعتماد حد سے بڑھ چکا ہے لہذا ایران یہ تصور کر رہا ہے کہ میدان جنگ میں جیتی ہوئی بازی مذاکرات کی میز پر ہارنا مناسب نہیں اور دوسری اہم چیز ایران کا وہ اعتماد ہے کہ ایران نے اتنے سخت حالات اور معاسی پابندیوں کے باوجود امریکہ جیسی عالمی طاقت کا بھرپور اور کامیاب مقابلہ کیا ہے۔ اگر امریکہ میدان جنگ میں ایران کو شکست دے پاتا تو یقینی طور پر ایران کی حالت بھی عراق جیسی ہوتی اور امریکہ یہاں اپنے پنجے گاڑ چکا ہوتا، ایران کے نظام کو اپنی مرضی کے مطابق ترتیب دے چکا ہوتا، ایران کے معدنی وسائل پر قبضہ کر چکا ہوتا اور ایران کی معیشت کو براہ راست اپنے کنٹرول میں کر چکا ہوتا لیکن تاحال ایسی کوئی کامیابی امریکہ کو نصیب نہیں ہوئی۔ اصولا ہونا تو یہی چاہئے تھا کہ امریکہ اپنی زمینی پوزیشن کا صحیح ا دراک کرتا اور معاملے کو ختم کرتے ہوئے، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد یقینی بناتے ہوئے، خطے سے نکل جاتا لیکن امریکہ کو یہ شکست ہضم نہیں ہورہی حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت نو شتہ دیوار واضح ہے۔ مشرق وسطیٰ میں امریکہ اپنے فوجی اڈوں کی حفاظت کرنے میں بھی بری طرح ناکام ہو چکا ہے اور بالواسطہ طور ہی سہی ایران کی یہ خواہش کہ امریکہ خطے سے نکل جائے، یوں پوری ہوتی دکھائی دے رہی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی میزبانوں نے یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ امریکہ جب اپنے فوجی اڈوں کی حفاظت نہیں کر سکا تو ان کی حفاظت کیسے کر سکے گا؟ علاوہ ازیں! جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی، کئی ایک خلیجی ریاستوں کی جانب سے امریکہ اپنی زمینی و فضائی حدود کے استعمال سے منع کر دیا گیا تھا البتہ جن ریاستوں کی سرزمین ایران پر حملے کے لئے استعمال ہوئی، ایران نے ان ریاستوں کے صرف ان حصوں پر حملہ کیا کہ جہاں امریکی اڈے یا فوجی موجود تھے۔ اس ضمن میں صرف متحدہ امارات کی ریاست ایسی تھی کہ جہاں ایران نے امریکی فوجیوں کے عام ہوٹلز میں سکونت اختیار کرنے پر، مجوزہ ہو ٹلز میں محدود پیمانے پر کارروائی کر کے، امریکی فوجیوں کو نشانہ بنایا تھا اور یہ پیغام بھی دیا تھا کہ امریکی جہاں بھی ہوں گے، ایران کے نشانے پر موجود ہیں۔
قارئین! آپ کے علم میں ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے بعد، امریکہ نے مسلسل کوششیں جاری رکھی کہ کسی طرح چند بحری جہازوں کو اپنے حفاظتی حصار میں ،یا ایران کی اجازت یا اس کے طے کردہ راستے سے ہٹ کر آبنائے ہرمز عبور کروا کر دنیا پر یہ ثابت کیا جا سکے کہ آبنائے ہرمز پر امریکہ کا کنٹرول ہے اور وہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت یقینی بنانے میں موثر کردار ادا کر سکتا ہے لیکن بدقسمتی سے امریکہ کی ہر ایسی کوشش کو ایران نے ناکام بنایا۔ دوسری طرف امریکہ کی بحری ناکہ بندی کے باعث آبنائے ہرمز سے نکلنے والے ہر بحری جہاز کا راستہ امریکہ روکتا رہا اور یوں جہازوں کی آمدورفت متاثر رہی لیکن یہ صرف دکھاوے کی طور پر ہی رہا کہ نیویارک پوسٹ نے اس حقیقت کا پردہ چاک کرتے ہوئے لکھا کہ آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمد و رفت میں مسلسل اضافہ ہوا ہے ۔ یعنی اس سے مراد یہ لی جا سکتی ہے کہ امریکہ کی جانب سے دکھاوے کے طور پر بحری ناکہ بندی جاری ہے جبکہ وہ جہاز جنہیں ایران کی اجازت سے آبنائے ہرمز سے گزرنے دیا گیا، ان کی اکثریت کھلے پانیوں میں اور اپنی منزل پر پہنچتی رہی ہے۔ بہرحال اس وقت صورتحال یہ ہے کہ امریکی خواہش ہے کہ آبنائے ہرمز ،28فروری سے پہلے کی صورتحال میں بحال ہو جائے اور یہاں بحری جہازوں کی آمد ورفت بغیر کسی کے کنٹرول کے جاری رہے لیکن دوسری طرف ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز کے انتظامات کے حوالے سے ملاقاتیں اور مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی وقت ،آبنائے ہرمز سے جہاز رانی کے متعلق باقاعدہ ضابطہ اور معاہدہ طے پا جائیگا، جس کے بعد آبنائے ہرمز ان دونوں ریاستوں کے باہمی اشتراک و انتظام سے کھل جائیگی۔ ایرانی پارلیمنٹ بہرحال اس حوالے سے ایک قانون منظور کر چکی ہے جس کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے، انتظام و انصرام کے علاوہ سیکورٹی کی مد میں ان جہازوں سے فیس وصول کی جائے گی جو ممکنہ طور پر ایران اور عمان کے درمیان تقسیم ہو گی۔ یوں ایران کے لئے ایک نیا ذریعہ آمدن بنے گا جو ایران کے مالی استحکام میں مزید معاون ہو گا البتہ امریکہ کو یہ انتظام کسی بھی صورت قبول دکھائی نہیں دیتا اور امریکہ اس کے خلاف مسلسل اقدامات کر رہا ہے۔ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے مطابق، امریکہ کو ایران کے منجمد اثاثے بحال کرنا تھے لیکن امریکہ ہوس و لالچ یا دھونس و دھاندلی کے باعث ایران کے منجمد اثاثے بحال کرنے پر تیار نہیں بلکہ اس کے عوض ایران کو، ایران کی مرضی کے بغیر اپنی مصنوعات فروخت کرنا چاہتا ہے کہ جو رقم امریکہ دبائے بیٹھا ہے، اسے واپس کرنے کا نہ حوصلہ ہے اور نہ سکت ہے۔ مزید برآں! ایران کو نیچا دکھانے کے لئے، بازو مروڑنے کے لئے امریکہ کی جانب سے نئی معاشی پابندیوں کی پہلے دھمکیاں دی جاتی رہی ہیں کہ کسی طرح ایران ان دھمکیوں سے دبائو میں آجائے اور امریکی خواہشات کے سامنے سرنگوں ہو جائے لیکن ایران کی جانب سے ایسی دھمکیوں کو درخور اعتنا نہیں سمجھا گیا اور اب ان نئی پابندیوں کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ایران کے ڈیجیٹل اثاثوں، ٹیکنالوجی، سونے کے علاوہ ایران کو ترسیل زر کے لئے جو لائسنس دئیے گئے تھے وہ بھی معطل کر دئیے گئے ہیں۔ ایران کے ساتھ معاونت کرنے والے ممالک کو بھی گرفت میں لانے کا اعلان کیا گیا ہے، اس ضمن میں متحدہ عرب امارت پہلے ہی ایران کے ساتھ اپنے مالی معاملات کے حوالے سے تعلقات معطل کر چکا ہے، یوں ایران کے لئے مالی مشکلات پیدا کر کے، بازو مروڑنے کی ایک اور کوشش کی گئی ہے۔ دوسری طرف چین کی جانب سے واضح کہا گیا ہے کہ پابندیاں مسائل کا حل نہیں ہیں اور مسائل کے حل کے لئے سفارتی کوششیں جاری رہنی چاہئے تاہم چین کسی بھی صورت ایران کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔ سوال تو یہ ہے کہ اگر ایران ان معاشی پابندیوں کا شکار ہوتا ہے اور چین اس کی مدد کرتا ہے، تب چین کے ساتھ امریکی سلوک کیا ہوگا؟ گو کہ چین نے امریکی معاشی پابندیوں کو کبھی قبول نہیں کیا لیکن ایران کے ساتھ ایسے سلوک کے بعد، چین کا اگلا لائحہ عمل کیا ہو گا؟ اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل نے ایران کا دورہ کیا ہے اور ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کی ہیں جن میں کہا جارہا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام اور عدم استحکام کے مستقل خاتمے پر گفتگو ہوئی ہے اور پاکستانی وزیر داخلہ کے مطابق یہ گفتگو انتہائی مثبت رہی ہے اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے لئے طریقوں پر بھی غور ہوا ہے۔ ایرانی قیادت نے پاکستانی امن کوششوں کو سراہتے ہوئے پاکستان کے مخلصانہ کردار کی ستائش تو کی ہے لیکن اس کے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ ایران امریکی پابندیوں کو قبول نہیں کرتا البتہ ان پابندیوں سے جھکنے والا نہیں، نہ ہی ایران کا مالیاتی نظام کسی مشکل کا شکار ہو گا گو کہ امریکہ کے مطابق ان پابندیوں سے ایران کی مالیاتی شریان کو دبائو کا شکار بنایا جائیگا جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں ایران کی مالیاتی شریان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ ممکنہ طور پر ایران نے اس کا کوئی نہ کوئی متبادل سوچ رکھا ہے یا ایران کا مالیاتی نظام برقرار رکھنے، اس کی سانسیں بحال رکھنے کے لئے، ایران کا انحصار اپنے دوستوں پر ہو گا!!







