تازہ ترینخبریںسیاسیاتپاکستان

سیرت النبی صلّى الله عليه وسلم کو عملی زندگی کا حصہ بنانا ہی حقیقی محبت کا تقاضا ہے، علامہ طاہر اشرفی

لاہور ٟ کامرس رپورٹر ٞچیئرمین پاکستان علمائ کونسل علامہ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ رسول اکرم ۖ کی سیرت طیبہ صرف بیان کرنے تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ ہمیں آپ ۖ کے اسوہ حسنہ کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آج معاشرے میں بڑھتے ہوئے عدم برداشت، شدت پسندانہ رویوں اور ایک دوسرے کو قبول نہ کرنے کے رجحان کا علاج سیرت النبی ۖ کی تعلیمات پر حقیقی معنوں میں عمل کرنے میں ہے۔

وہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں سیرت النبی ۖ کے موضوع پر کتب کی نمائش کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ علامہ طاہر اشرفی اور صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل نے نمائش کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر اسٹینڈنگ کمیٹی برائے بین المذاہب و بین المسالک تعلقات کے کنوینئر حافظ عاصم مخدوم، سابق ایگزیکٹو کمیٹی ممبر میاں محمد نواز، ممبر اسلامی نظریاتی کونسل رانا محمد شفیق پسروری، پروفیسر ڈاکٹر علامہ امجد جعفری، مفتی محمد احمد انیس، سید محمود غزنوی، قاسم علی قاسمی، علامہ قاری خالد محمود، علامہ ارشد علی عابدی، صلاح الدین رانا، سید راشد حسین بخاری، سید ممتاز بخاری اور دیگر بھی موجود تھے۔

اس موقع پر صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ ربیع الاول ایک بابرکت مہینہ ہے اور حضور اکرم ۖ کی ولادت باسعادت کی نسبت سے اس مہینے کی خصوصی اہمیت ہے۔ لاہور چیمبر نے بھی اس موقع پر اپنا کردار ادا کرتے ہوئے سیرت النبی ۖ کے موضوع پر کتب کی نمائش کا اہتمام کیا ہے تاکہ سیرت طیبہ کا پیغام زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچایا جاسکے۔

فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ سیرت رسول ۖ کے بارے میں صرف بات کرنا یا کتب کا مطالعہ کرنا کافی نہیں، بلکہ اصل مقصد یہ ہے کہ ہم حضور اکرم ۖ کے اسوہ حسنہ کو اپنی عملی زندگی میں اختیار کریں۔ جب تک زندگی کے ہر شعبے میں نبی کریم ۖ کی تعلیمات کو عملی طور پر نافذ نہیں کیا جائے گا، ہم حقیقی معنوں میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری سیاست، معاشرت، معیشت، تجارت اور روزمرہ معاملات سمیت زندگی کے ہر شعبے میں حضور اکرم ۖ کے اسوہ حسنہ کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ آج کے دور میں سیرت طیبہ کو عام کرنا اور اس کا پیغام گھر گھر پہنچانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ حضور اکرمۖ سے محبت ہر مسلمان کے ایمان کا لازمی حصہ ہے، تاہم اس محبت کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ ہم آپ ۖ کی تعلیمات کو اپنی زندگیوں میں نافذ کریں اور اپنے معاملات، کردار اور رویوں کو اسوہ حسنہ کے مطابق ڈھالیں۔

علامہ طاہر اشرفی نے مزید کہا کہ ربیع الاول وہ بابرکت مہینہ ہے جس کی نسبت رسول اکرم ۖ کی ولادت باسعادت سے بھی ہے، جبکہ آپۖ نے اسی مہینے میں اس دنیا سے پردہ فرمایا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا امت محمدیہ میں شامل کرنا ہمارے لیے سب سے بڑا کرم ہے اور اگر انسان پوری زندگی بھی رسول اکرم ۖ پر درود و سلام پڑھتا رہے تو اس عظیم نعمت کا حق ادا نہیں کرسکتا۔

 

انہوں نے کہا کہ رسول اکرم ۖ کی آمد کی خوشی منانا ہر مسلمان کے ایمان اور عقیدے کا حصہ ہے، تاہم اصل ضرورت یہ ہے کہ ہم آپ ۖ کی سیرت کو اپنی زندگیوں میں نافذ کریں۔ انہوں نے لاہور چیمبر میں سیرت النبی ۖ کے حوالے سے مستند کتب کی نمائش کو ایک قابل تحسین اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں سیرت طیبہ پر لکھی گئی اہم اور مستند کتب کی موجودگی خوش آئند ہے۔

علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ آج معاشرے میں متشدد رویے اور عدم برداشت عام ہو رہے ہیں۔ پہلے یہ تاثر دیا جاتا تھا کہ علمائ ایک دوسرے کو قبول نہیں کرتے، لیکن علمائ نے باہمی بیٹھک اور اتحاد کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کو قبول کرتے ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ یہی برداشت، رواداری اور محبت معاشرے کے ہر طبقے میں فروغ پائے۔

جواب دیں

Back to top button