
جامعہ چوک تا چنیوٹ موڑ سڑک کی ناقص تعمیر، انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالات
جامعہ چوک سے چنیوٹ موڑ کی جانب جانے والی سڑک کی مرمت کا کام شروع کر دیا گیا ہے، تاہم حیران کن امر یہ ہے کہ اس سڑک کی تعمیر کو ابھی چند ماہ ہی گزرے تھے کہ اس کی دوبارہ مرمت کی ضرورت پیش آ گئی۔
سوال یہ ہے کہ کیا سڑک کی موجودہ خستہ حالی کی وجہ حالیہ شدید بارشیں ہیں؟ اگر ایسا ہے تو پھر سڑک کی دونوں لائنیں یکساں طور پر کیوں متاثر نہیں ہوئیں؟ مشاہدے کے مطابق سڑک کی ایک لائن نسبتاً بہتر حالت میں تھی، جبکہ دوسری لائن کی حالت انتہائی خراب ہو چکی تھی اور اب اسے اکھاڑ کر دوبارہ تعمیر کرنے کا کام جاری ہے۔
مقامی شہریوں کے لیے یہ صورتحال کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ اگر ایک نئی تعمیر شدہ سڑک چند ماہ میں ہی اس حد تک خراب ہو جائے کہ اسے دوبارہ اکھاڑنے کی ضرورت پڑ جائے تو اس کے تعمیراتی معیار، استعمال ہونے والے میٹریل اور نگرانی کے نظام کا جائزہ لینا ناگزیر ہو جاتا ہے۔
اس سڑک پر سفر کرنے والوں کا کہنا ہے کہ بعض مقامات پر سڑک کی حالت اس قدر خراب تھی کہ یہ سڑک کم اور کسی ناہموار پہاڑی راستے کا منظر زیادہ پیش کرتی تھی۔ خاص طور پر سڑک پر موجود بڑے گڑھے اور ابھار تیز رفتار گاڑیوں کے لیے کسی بھی وقت سنگین حادثے کا سبب بن سکتے تھے۔
یہ صورتحال محض ایک سڑک کی خرابی کا معاملہ نہیں بلکہ عوامی پیسے، تعمیراتی معیار اور متعلقہ اداروں کی نگرانی پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھاتی ہے۔ اگر سڑک کی تعمیر کے چند ہی ماہ بعد دوبارہ مرمت کی ضرورت پیش آ رہی ہے تو متعلقہ حکام کو یہ تعین کرنا چاہیے کہ خرابی کی اصل وجہ کیا ہے اور اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔
عوامی مطالبہ ہے کہ محض سڑک کی مرمت تک معاملہ محدود نہ رکھا جائے بلکہ تعمیراتی کام کے معیار، استعمال ہونے والے میٹریل اور متعلقہ ٹھیکیدار کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا جائے۔ اگر تعمیراتی معیار میں کوتاہی ثابت ہو تو ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے۔
انتظامیہ سے اپیل ہے کہ آئندہ اس نوعیت کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے ایسے ماہر اور اہل ٹھیکیداروں کا انتخاب کیا جائے جو تعمیراتی معیار پر سمجھوتہ نہ کریں، تاکہ عوام کے لیے بننے والی سڑکیں چند ماہ بعد دوبارہ مرمت کا تقاضا کرنے کے بجائے طویل عرصے تک محفوظ اور قابلِ استعمال رہ سکیں۔
#Jhang #journalism #foryoupage







