Column

ادارہ سازی کی میراث: ملک محمد احمد خان کا پارلیمانی اسلوب اور مستقبل کا سوال ( باب چہارم )

ادارہ سازی کی میراث: ملک محمد احمد خان کا پارلیمانی اسلوب اور مستقبل کا سوال ( باب چہارم )
کالم نگار: گوہر ہاشمی
تاریخ کا ایک مسلمہ اصول ہے کہ سیاست دانوں کا فیصلہ ان کے نعروں سے نہیں بلکہ ان کے چھوڑے ہوئے اداروں سے کیا جاتا ہے۔ خطابت وقتی تاثر پیدا کر سکتی ہے، سیاسی کامیابیاں ایک مدت تک زیرِ بحث رہ سکتی ہیں، مگر ادارہ سازی وہ سرمایہ ہے جو نسلوں تک ریاست کے کام آتا ہے۔ اسی لیے دنیا کی بالغ جمہوریتوں میں کسی اسپیکر کی کامیابی کا معیار یہ نہیں ہوتا کہ اس نے کتنی تقاریر کیں، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ اس نے پارلیمان کو کتنا مضبوط، منظم اور موثر بنایا۔سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کے تین سالہ دور کا جائزہ اسی پیمانے پر لیا جائے تو ایک نمایاں رجحان سامنے آتا ہے کہ ان کی توجہ پارلیمان کو ایک فعال ادارے کے طور پر مستحکم کرنے پر مرکوز رہی۔ ان کے دور میں اسٹینڈنگ کمیٹیوں کی فعالیت، قواعدِ کار کی اہمیت، بین الاقوامی پارلیمانی روابط، پنجاب اسمبلی کو پیپر لیس نظام کی طرف لے جانے کی کوشش اور بجٹ اجلاسوں میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال جیسے اقدامات کو ادارہ جاتی اصلاحات کے سلسلے میں قابلِ ذکر پیش رفت کے طور پر دیکھا گیا۔
ملک محمد احمد خان کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو ان کی مطالعہ پسندی ہے۔ ان کی تقاریر میں تاریخ، آئین، قانون اور پارلیمانی روایات کے حوالے نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے وہ محض سیاسی موقف پیش کرنے تک محدود نہیں رہتے بلکہ اکثر اپنے استدلال کو تاریخی واقعات، آئینی اصولوں اور قانونی نکات سے تقویت دیتے ہیں۔ یہی انداز انہیں عام سیاسی مقرر سے الگ شناخت دیتا ہے۔
پارلیمانی روایت میں سپیکر کا منصب غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ سپیکر بیک وقت ایوان کی آزادی، قواعدِ کار کی پاسداری، اراکین کے حقوق اور پارلیمانی وقار کا محافظ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی کامیاب پارلیمانوں میں سپیکر کی غیر جانب دارانہ اور ادارہ جاتی سوچ کو جمہوریت کی مضبوطی کا بنیادی جزو سمجھا جاتا ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو پنجاب اسمبلی کے حالیہ دور میں قواعد اور ادارہ جاتی نظم کو نمایاں حیثیت دینا ایک قابلِ توجہ پہلو رہا۔پارلیمانی ماہرین کا کہنا ہے کہ جمہوریت کی اصل طاقت اکثریت کی عددی برتری میں نہیں بلکہ اختلافِ رائے کو برداشت کرنے، قانون کی بالادستی برقرار رکھنے اور اداروں کو شخصیات پر فوقیت دینے میں ہوتی ہے۔ اگر پارلیمان اپنے نگرانی کے کردار کو موثر انداز میں ادا کرے، کمیٹیاں فعال رہیں، قانون سازی تحقیق کی بنیاد پر ہو اور جدید ٹیکنالوجی انتظامی عمل کا حصہ بن جائے تو ریاستی نظام زیادہ شفاف اور جواب دہ بننے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔
اسی پس منظر میں پنجاب اسمبلی کے حالیہ دور کو دیکھا جائے تو ادارہ جاتی اصلاحات کی سمت میں متعدد اقدامات سامنے آتے ہیں۔ اگرچہ ان اقدامات کی طویل المدت کامیابی کا حتمی فیصلہ وقت کرے گا، تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ اہم ہے کہ پارلیمانی اصلاحات، ڈیجیٹلائزیشن اور بین الاقوامی پارلیمانی روابط جیسے موضوعات کو زیادہ نمایاں حیثیت ملی۔ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں ہر دور اپنے کچھ نقوش چھوڑتا ہے۔ کچھ ادوار سیاسی کشمکش کے حوالے سے یاد رکھے جاتے ہیں، کچھ قانون سازی کے باعث اور کچھ ادارہ جاتی اصلاحات کی وجہ سے۔ اگر آنے والے برسوں میں پنجاب اسمبلی کے کمیٹی نظام، ڈیجیٹل پارلیمانی ڈھانچے اور عالمی پارلیمانی روابط مزید مستحکم ہوتے ہیں تو ان اقدامات کو اس دور کے اہم حوالوں میں شمار کیا جا سکتا ہے۔
علامہ اقبالؒ نے فرمایا تھا: ’’ جمہوریت اک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے‘‘ ۔
اس شعر کی مختلف تشریحات کی گئی ہیں، مگر ایک حقیقت ہمیشہ برقرار رہتی ہے کہ جمہوریت کی اصل قوت صرف انتخابی عمل نہیں بلکہ ایسے مضبوط ادارے ہیں جو عوامی نمائندگی کو موثر بنائیں، حکومت کو جواب دہ رکھیں اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائیں۔
قائداعظم محمد علی جناحؒ نے دستور ساز اسمبلی سے اپنی خطاب میں قانون کی بالادستی، آئینی ذمہ داری اور ریاستی اداروں کی مضبوطی کو پاکستان کے مستقبل کی بنیاد قرار دیا تھا۔ انہی اصولوں کی روشنی میں پارلیمان کی ذمہ داری صرف قانون بنانا نہیں بلکہ ریاستی نظم کو آئینی حدود میں رکھنا بھی ہے۔
ملک محمد احمد خان کے تین سالہ دور کا مطالعہ اسی وسیع تناظر میں کیا جا سکتا ہے۔ ان کے دور کے حامی اسے ادارہ جاتی فعالیت، کمیٹی نظام کی مضبوطی، پارلیمانی روابط کے فروغ اور جدید انتظامی اصلاحات کی سمت میں ایک اہم مرحلہ قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین بعض معاملات پر مختلف آراء رکھتے ہیں۔ یہی اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن بھی ہے۔ تاہم اس امر سے انکار مشکل ہے کہ پارلیمانی اداروں کی فعالیت اور ان کی جدید خطوط پر تنظیم کا موضوع اس عرصے میں زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آیا۔
تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ وقت کرتا ہے، مگر وقت صرف ان لوگوں کو یاد رکھتا ہے جو اپنی پیچھے محض سیاسی یادیں نہیں بلکہ مضبوط ادارے چھوڑ کر جاتے ہیں۔ اگر کسی دور کی شناخت فعال اسٹینڈنگ کمیٹیوں، جدید پارلیمانی انتظام، بین الاقوامی روابط، قواعدِ کار کی پاسداری اور قانون سازی کے بہتر معیار سے وابستہ ہو جائے تو وہ دور پارلیمانی ارتقا کی تاریخ میں اپنی جگہ بنا لیتا ہے۔
جمہوریت کی عمارت افراد کے کندھوں پر ضرور کھڑی ہوتی ہے، لیکن اس کی مضبوطی اداروں سے قائم رہتی ہے۔ اگر ادارے مضبوط ہوں تو اختلاف بھی طاقت بن جاتا ہے، احتساب بھی اصلاح کا ذریعہ بنتا ہے اور قانون بھی عوام کے اعتماد کی علامت بن جاتا ہے۔ یہی وہ اصول ہیں جن پر ہر مضبوط پارلیمان کی بنیاد رکھی جاتی ہے، اور یہی وہ پیمانہ ہے جس پر ہر پارلیمانی قیادت کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔
شخصیات وقت کے ساتھ تاریخ کا حصہ بن جاتی ہیں، مگر ادارے اگر مضبوط ہو جائیں تو وہ تاریخ بھی بناتے ہیں اور مستقبل بھی۔ شاید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ اصل سیاست اقتدار حاصل کرنے کا نام نہیں، بلکہ ایسے ادارے قائم کرنے کا نام ہے جو اقتدار سے بھی زیادہ دیر بعد ثابت ہو۔

جواب دیں

Back to top button