Column

فتنہ، آزمائش سے نجات تک

فتنہ، آزمائش سے نجات تک
شہر خواب ۔۔۔
صفدر علی حیدری ۔۔۔
لفظ فتنہ عربی زبان کے مادہ ف، ت، ن سے نکلا ہے۔ عربی میں فَتَنَ کے بنیادی معنی کسی چیز کو آگ میں ڈال کر آزمانا، پرکھنا اور اس کی حقیقت ظاہر کرنا ہیں۔
سونے کو آگ میں ڈالا جائے تو اس کا کھوٹ ظاہر ہوجاتا ہے؛ اسی طرح فتنہ انسان کو حالات، خواہشات، نعمتوں اور محرومیوں کی آگ میں ڈال کر اس کے ایمان، کردار اور ترجیحات کی حقیقت ظاہر کر دیتا ہے۔
اس لیے فتنہ صرف فساد، انتشار یا ہنگامے کا نام نہیں۔ فتنہ آزمائش بھی ہے، امتحان بھی، بہکائو بھی اور وہ کیفیت بھی جس میں انسان حق سے ہٹنے لگے۔
کبھی مصیبت فتنہ ہوتی ہے اور کبھی نعمت؛ کبھی غربت آزمائش بنتی ہے اور کبھی دولت؛ کبھی اولاد کی محرومی امتحان ہے اور کبھی اولاد کی محبت۔
قرآن مجید نے مال اور اولاد کے بارے میں فرمایا: ’’ جان لو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد آزمائش ہیں اور اللہ کے پاس بڑا اجر ہے ‘‘۔
یہاں ایک بنیادی حقیقت سامنے آتی ہے، قرآن نے مال اور اولاد کو برا نہیں کہا، بلکہ فتنہ کہا۔ مال نعمت ہے، اولاد نعمت ہے، مگر یہی نعمتیں انسان کے ایمان کا امتحان بھی بن سکتی ہیں۔ مال ہاتھ میں رہے تو نعمت ہے، دل میں اتر جائے تو فتنہ؛ اولاد محبت رہے تو رحمت ہے، حق سے بڑی ہوجائے تو فتنہ۔
رسولؐ اللہ نے فرمایا: ’’ ہر امت کا ایک فتنہ ہے اور میری امت کا فتنہ مال ہے ‘‘۔
مال کا فتنہ اس لیے خطرناک ہے کہ انسان کو اس کی ضرورت بھی ہے اور کشش بھی۔ ضرورت خواہش بنتی ہے، خواہش حرص بن سکتی ہے اور حرص انسان کو حلال و حرام کی حدود سے بے نیاز کر سکتی ہے۔
ابتدا میں انسان مال کماتا ہے، پھر کبھی ایسا وقت آتا ہے کہ مال انسان کو چلانے لگتا ہے۔ لیکن فتنہ صرف مال نہیں۔دولت، عورت، اولاد، عہدہ، شہرت، حسن، محبت، طاقت، بلکہ ہر پسندیدہ چیز فتنہ بن سکتی ہے۔
پسندیدہ چیز بذاتِ خود بری نہیں، فتنہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اس کی محبت انسان کو اللہ کی اطاعت، حق اور آخرت سے دور کرنے لگے۔
عورت اور مرد کے درمیان کشش فطرت ہے، مگر حدود سے نکل جائے تو فتنہ بن جاتی ہے۔
اولاد محبت کا مرکز ہے، مگر اس کی خاطر حرام کمانا، اس کی غلطی پر خاموش رہنا یا کسی دوسرے کا حق مارنا محبت کو فتنہ بنا دیتا ہے۔ عہدہ امانت ہے، مگر جب اختیار انسان کو تکبر، ظلم اور ناانصافی کی طرف لے جائے تو وہ فتنہ بن جاتا ہے۔ شہرت خدمت کا ذریعہ ہوسکتی ہے، مگر جب انسان اللہ کی رضا سے زیادہ لوگوں کی تعریف کا محتاج ہو جائے تو یہی شہرت فتنہ ہے۔
اس لیے فتنہ کا ایک بنیادی اصول ہے: ’’ فتنہ چیز میں نہیں، چیز سے ہمارے تعلق میں پیدا ہوتا ہے ‘‘۔
چیزوں سے ہمارا عشق ممنوع فتنہ بن جایا کرتا ہے ۔
ایک ہی دولت کسی کے لیے صدقہ بن جاتی ہے اور کسی کے لیے تکبر۔
ایک ہی عہدہ کسی کے لیے خدمت بن جاتا ہے اور کسی کے لیے ظلم۔
ایک ہی اولاد کسی کے لیے نیکی کا ذریعہ بنتی ہے اور کسی کے لیے حق سے غفلت کا سبب۔
ہر انسان کا فتنہ مختلف ہو سکتا ہے۔ کسی کا مال، کسی کی اولاد، کسی کی خواہش، کسی کی انا، کسی کی محبت اور کسی کی شہرت۔ اس لیے دوسروں کے فتنے گننی سے پہلے انسان کو اپنے فتنہ کو پہچاننا چاہیے۔
میں کس چیز کے سامنے کمزور ہو جاتا ہوں؟
وہ کیا ہے جس کے لیے میں اپنے اصول بدل سکتا ہوں؟
وہ کیا ہے جس کے ملنے پر میں اللہ کو بھول سکتا ہوں؟
وہ کیا ہے جس کے چھن جانے پر میں بے قرار ہو جاتا ہوں؟
فتنہ انسان کو اچانک نہیں گراتا ۔ پہلے منظر دکھاتا ہے، پھر رغبت پیدا کرتا ہے، رغبت خواہش بنتی ہے، خواہش ضرورت کا روپ دھارتی ہے اور پھر انسان اپنے اصول بدلنے لگتا ہے۔ فتنہ اکثر گناہ کو گناہ کی صورت میں پیش نہیں کرتا؛ حرص کو ضرورت، خودنمائی کو کامیابی اور شہوت کو محبت کا نام دی دیتا ہے۔
اسی لیے فتنے کے زمانے میں انسان کے لیے صرف یہ جاننا کافی نہیں کہ فتنہ کیا ہے، بلکہ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ اس سے بچا کیسے جائے۔
حضرت مولا علیؓ فرماتے ہیں: ’’ فتنہ کے زمانے میں ایسے ہو جائو جیسے کم عمر اونٹ، جس پر نہ سواری کی جاسکے اور نہ اسے ذبح کیا جا سکے‘‘۔
اس قول کا مفہوم یہ ہے کہ فتنہ جب بھڑک اٹھے تو انسان خود کو کسی فریق کے لیے استعمال ہونے سے بچائے۔ ہر ہنگامے میں کود پڑنا بہادری نہیں؛ بعض اوقات فتنہ سے الگ رہنا ہی دانائی اور نجات ہے۔
حضرت علیؓ سے منقول ایک اور روایت میں فتنے کے بارے میں رسولؐ اللہ سے نجات کا راستہ دریافت کرنے کا مفہوم آتا ہے اور جواب میں کتاب اللہ کی طرف رہنمائی کا ذکر ہے ۔
یہی اصل میزان ہے۔ فتنوں کے ہجوم میں انسان اپنی خواہش کو حق سمجھنے لگتا ہے، مگر قرآن خواہش اور حق کے درمیان فرق واضح کرتا ہے۔
میری نظر میں سب سے بڑا فتنہ آنکھیں ہیں، آنکھ صرف دیکھتی نہیں، وہ منظر کو دل تک پہنچاتی ہے۔ تصویر دیکھتی ہے، محفوظ کرتی ہے، دوبارہ دیکھتی ہے، متاثر ہوتی ہے اور پھر وہی منظر خواہش پیدا کر سکتا ہے۔ موبائل کی اسکرین نے دنیا کے مناظر ہماری آنکھ کے سامنے رکھ دئیے ہیں۔ دولت، گھر، گاڑیاں، لباس، سفر، حسن، شہرت اور دوسروں کی خوشیاں، سب کچھ چند لمحوں میں ہمارے سامنے آجاتا ہے۔ آنکھ دیکھتی ہے اور دل کہتا ہے، یہ مجھے بھی چاہیے۔ یہ بھی چاہیے اور یہ بھی۔ کسی کا گھر دیکھا، اپنا گھر چھوٹا لگنے لگا۔ کسی کی گاڑی دیکھی، اپنی معمولی محسوس ہونے لگی۔ کسی کی خوش حالی دیکھی، اپنی نعمتیں کم لگنے لگیں۔ کسی کا حسن دیکھا، خواہش جاگ اٹھی۔یوں آنکھ منظر سے خواہش تک کا راستہ بناتی ہے۔ وہی آنکھ تصویریں دیکھتی ہے، وہی بہکانے والے مناظر دیکھتی ہے، وہی متاثر ہوتی ہے اور وہی انسان کو ایسی سوچ کی طرف مائل کر سکتی ہے جس طرف وہ خود جانا نہیں چاہتا۔ اس لیے آج آنکھ کی حفاظت دل کی حفاظت بھی ہے۔
اور فتنہ کی پوری حقیقت قرآن کے اس فرمان میں سمٹ آتی ہے: ’’ تم ہرگز نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک اپنی محبوب چیزوں میں سے خرچ نہ کرو ‘‘۔
غور کیجیے، قرآن نے نیکی کی منزل کے لیے محبوب چیز کا ذکر کیا ہے۔ جو چیز ہمیں پسند ہی نہیں، اسے چھوڑ دینا بڑی قربانی نہیں۔ اصل امتحان وہاں ہے جہاں دل کہتا ہے: یہ مجھے بہت عزیز ہے، اور ایمان کہتا ہے: اللہ کی رضا اس سے زیادہ عزیز ہے۔
یہی فتنہ کا آخری امتحان ہے۔ فتنہ ہمیں ہماری پسند کی طرف بلاتا ہے، قرآن ہمیں اللہ کی پسند کی طرف بلاتا ہے۔فتنہ کہتا ہے: جو دل چاہے لے لو۔ قرآن کہتا ہے: دیکھو، اللہ کیا چاہتا ہے۔ آخرکار سوال یہ نہیں کہ دنیا میں فتنے کتنے ہیں؛ سوال یہ ہے: میرا فتنہ کیا ہے؟، وہ کون سی چیز ہے جسے میں سب سے زیادہ پسند کرتا ہوں؟، وہ کیا ہے جس کے لیے میں اپنے اصول بدل سکتا ہوں؟، اور اگر ایک طرف میری پسند ہو اور دوسری طرف اللہ کی رضا، تو میں کس کو چنوں گا؟ ۔ کیوں کہ سب سے بڑا فتنہ ہمیشہ ناپسندیدہ چیز نہیں ہوتا، کبھی انسان کی سب سے محبوب چیز ہی اس کی سب سے بڑی آزمائش بن جاتی ہے۔
اور آج شاید اس محبوب چیز تک پہنچنے کا سب سے آسان راستہ ہماری آنکھ ہے۔ وہ دیکھتی ہے، دل میں اتارتی ہے، خواہش جگاتی ہے، بے چینی پیدا کرتی ہے اور کبھی انسان کی سوچ کا رخ بدل دیتی ہے۔ اس لیے فتنوں سے نجات کا راستہ یہی ہے: کتاب اللہ سے وابستگی، اپنے نفس کی نگرانی، اپنی نگاہ کی حفاظت، اور اپنی محبوب چیزوں پر اللہ کی رضا کو مقدم رکھنا۔
فتنہ ہمیں ہماری پسند کی طرف کھینچتا ہے، نجات ہمیں اللہ کی پسند کی طرف لے جاتی ہے۔

جواب دیں

Back to top button