ColumnTajamul Hussain Hashmi

یہ گرہیں انہیں کھولنی پڑیں گی

یہ گرہیں انہیں کھولنی پڑیں گی
تحریر: تجمّل حسین ہاشمی
ہمارے ہاں ملکی حالات بدلنے کے ہزاروں دعوے کیے جاتے رہے، احتساب، کرپشن اور کڑے احتساب کے لیے نیب جیسے ادارے اور نڈر افسروں کو بااختیار کیا گیا تاکہ ملک و قوم کی حالت بدلی جا سکے، غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ملکی اصولوں کے سودے ہوئے، لیکن ان 79سال میں قائم کئے گئے قومی منصوبوں کی تباہ حالی کے بعد اب وہ برائے فروخت ہیں۔ بیرونی سرمایہ کاری کے لیے ماضی اور حال کی حکومتوں کی کوششیں رہی ہیں، بیرونی امداد کے لیے کیا کیا جتن کیے جاتے رہے ہیں، سب کچھ عیاں ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو خصوصی مراعات کے پیکیج دئیے گئے۔ بیرونی امداد کے لیے اپنی عزت نفس کو کم کیا گیا۔ تاجروں کو اسمبلوں میں بٹھایا گیا تاکہ کھل کر تجارت کریں۔ مجھے یاد ہے جنرل مشرف مرحوم کا دور معاشی طور پر کامیاب سمجھا جاتا رہا ہے۔ ہمارے ہاں آمریت اور جمہوریت کے بیچ میں بہت کچھ چلتا رہا، لیکن آمر اور جمہوری لیڈر عوامی مشکلات کو کم کرنے میں ناکام رہے۔ معاشی ناکامی ابھی تک ان سامنے کھڑی ہے۔ ان ناکامیوں کی کئی وجوہات ہیں، کسی نے ان کو سیریس نہیں لیا۔ چھ، چھ بار باری لینے والے ناکام رہے، ملک کو پائوں پر کھڑا کرنے کے دعوے کرنے والوں نے اپنے پائوں مضبوط کیے۔ عوام آج بھی اسی جگہ کھڑے ہیں جہاں گندم، چینی اور آٹے کا بحران ہے، پینے کے لیے میٹھا پانی نہیں، لاقانونیت اپنے عروج پر ہے۔ طاقتوروں کا قبضہ ہے۔ جنرل پرویز مشرف مرحوم نے سنہ 2000ء میں جاپانی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ اس دعوت پر کوئی تیس سے چالیس جاپانی سرمایہ کار تشریف لے کر کراچی پہنچ گئے۔ اس وقت کے وزیر خزانہ نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے فوائد پر تاجروں کو بریفنگ دی۔ وزیر خزانہ نے انہیں بتایا کہ ہمارے پاس لیبر پوری دنیا سے سستی ہے۔ ہمارے پاس زمین کا ایک تہائی حصہ خالی پڑا ہوا ہے۔ ہمارے ہاں 14گھنٹے سورج نکلتا ہے، سمندر ہمارے پاس ہے۔ زرخیز میدان ہیں۔ ہم مشرق وسطیٰ، چین اور سینٹرل ایشیا کا دروازہ ہیں، کئی اور خوبیاں بیان کی گئیں۔ وہ سب کے سب خاموشی سے سنتے رہے۔ ان سرمایہ کاروں میں ایک سرمایہ کار اٹھا اور اس نے وزیر خزانہ سے پوچھا کہ آپ ہمیں بتائیں کہ غیر ممالک میں موجود پاکستانیوں نے اپنے ملک میں کتنی فیصد سرمایہ کاری کی ہے؟۔ وزیر خزانہ کے لیے یہ سوال غیر متوقع تھا۔ جناب نے ٹھنڈا سانس لیا اور کہا، نہ ہونے کے برابر۔ جاپانی سرمایہ کار مسکرایا اور بولا، جس ملک کے اپنے تارکینِ وطن اپنے ملک میں پیسہ نہ لگائیں تو وہاں ہم کیسے پیسہ لگا سکتے ہیں۔ ہال میں سناٹا چھا گیا۔ اس کے بعد وہ پھر بولا کہ مجھے ایک اور سوال کا جواب دیں۔ کیا آپ کے ملک کے سرمایہ کار دنیا کے دوسرے ملکوں میں سرمایہ کاری نہیں کرتے؟، ہمارے وزیر خزانہ نے جواب دیا، جی ہاں، سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ جاپانی بولا، جس ملک کے اپنے لوگ اپنا سرمایہ دوسرے ملکوں میں شفٹ کر رہے ہوں، اس ملک میں ہم کیسے سرمایہ کاری کر سکتے ہیں؟۔ جاپانی سرمایہ کار کے اس جواب کے بعد محفل برخاست ہو گئی۔
اب آتے ہیں اپنے پاکستان کے جمہوری لیڈروں اور محب وطن تاجروں کی محب وطنی پر۔ عمران خان کی حکومت تھی، وزیر ہوا بازی غلام سرور نے جہازوں کے کپتانوں اور ان کی ڈگریوں کے جعلی ہونے سے متعلق بیان دے کر قومی ایئر لائن کا بھٹہ بٹھا دیا، پوری دنیا نے آپ کی ایئر لائن پر پابندی لگا دی۔ خان حکومت تحریکِ پر نا اہل ٹیم کا الزام تھا، اس لیے حکومت کو عدم اعتماد پر ختم کیا، شہباز شریف حکومت نے وہی کام کیا جو غلام سرور نے کیا، شہباز شریف حکومت نے آتے ہی ملک کے دیوالیہ ہونے کا بیان دے کر ملک کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا۔ اللّہ اللّہ کر کے کوئی الیکشن ہوئے، حکومت ملک کو ڈیفالٹ سے نکالنے کے لیے اپنی کوششوں میں مصروف رہی، غیر ملکی سرمایہ کاروں کو دعوت دینے لگی، قریباً اڑھائی سال بعد مسلم لیگ ن کے اہم اتحادی مولانا فضل الرحمان نے تقریر کر کے حکومت کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا۔ فارم 47کے الزامات کو کافی حد تک پذیرائی ملی۔ اس کے بعد بھی کچھ نہیں بدلا، ملکی معاشی صورتحال میں کوئی بہتری نہیں ہے۔ پڑوس میں کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج نے حالات کو نئی سمت دی۔ ایک بار پھر عوام میں ایک نئی کشمکش نے جنم لیا۔ ابھی یہ معاملہ سیدھا نہیں ہوا تھا تو ملک کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے نظام کی ناکامی کا بیان دے کر حکومت کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ کیا۔ بڑے کھلے الفاظ میں سب کہہ دیا، بلکہ اس سے پہلے کراچی میں دو بندے اٹھانے کی باتیں ، 100ارب واپس لانے کی باتیں ہوئیں۔ حکمران جماعت کی لیپ ٹاپ اسکیم کو تنقید کا نشانہ بنایا، اب تو عوام کا سوال حق بجانب ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف سے پوچھا جائے کہ ان چالیس تاجروں کو نیلے، سرخ پاسپورٹ دے کر کتنی بیرونی انویسٹمنٹ حاصل کی گئی؟ ایس آئی ایف سی کتنا بیرونی سرمایہ لے کر آئی ہے؟ جناب، ایسی بیان بازی، جھوٹے وعدوں اور بیانیے سے قوم کا اعتماد حاصل کرنا بہت مشکل ہے۔ ایسے بیانات کے بعد کون سا سرمایہ کار ہمارے ہاں سرمایہ کاری کے لیے رضا مند ہو گا ۔ بیرونی جنگی حالات کے پیش نظر دفاعی ایگریمنٹ سے بہتری کی امید ضرور ہے۔ بھلے رانا ثنا اللہ نوجوانوں کے حوالے سے جتنے مرضی دعوے کر لیں، صورتحال بہتر نہیں ہے۔ ان سیاسی خیر خواہوں سے التماس ہے کہ وہ اپنا سرمایہ پاکستان واپس لائیں، جناب نواز شریف، جناب آصف علی زرداری، مولانا فضل الرحمان، چودھری برادران اور ملک کے تمام بیورو کریٹ، جنرل اور تاجر حضرات اپنے ملک میں بیٹھ کر کاروبار کریں اور قوم کے لیے مثال قائم کریں۔ ویسے تو یہ ایک ادھورا خواب ہے، اس لیے تو ملکی معیشت ان سیاسی لیڈروں سے ٹھیک نہیں ہو رہی۔ حکمران جماعت مسلم لیگ ن کا سارا فوکس پنجاب ہے، دیگر صوبوں سے ان کو کوئی سروکار نہیں۔ حقیقت سے منہ موڑ کر کہاں جائیں گے۔ جب سول ایوارڈ سب سی زیادہ پنجاب پولیس کو دئیے جائیں گے اور بلوچستان اور کے پی کے میں فرنٹ لائن کے سپاہیوں کو محروم رکھا جائے گا ، اس سے بری بددلی اور کیا ہو سکتی ہے؟۔ ایسے فیصلوں ملکی سلامتی کے لیے خطرات کو بڑھاوا دیتے ہیں ، نفرت، تقسیم کی آبیاری حکومت اور ان کے اتحادی پیدا کر رہے ہیں۔ یہ سفر ایسے نہیں چلے گا ۔

جواب دیں

Back to top button