Column

امریکی صدر کی سیاسی چالیں

سیدہ عنبرین
امریکی صدر کی سیاسی چالیں
امریکہ میں مڈ ٹرم انتخابات کی تیاریاں شروع ہو چکی ہیں، سیاسی حوالے سے حکمران جماعت پر جان کنی کا عالم ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ انتخابات جیت کر آئے تو ان کی مقبولیت قریباً ستر فیصد تھی، جو اب گرتے گرتے پینتیس فیصد تک آ چکی ہے۔ اس کی پہلی اور آخری وجہ امریکی صدر خود ہیں، وہ دل فریب نعروں کے زور پر کامیاب ہوئے تھے، اور اپنے وعدے پورے نہ کرنے کے سبب آج انتہائی غیر مقبول نظر آتے ہیں۔ کہتے ہیں یہ مڈٹرم الیکشن بہت مہنگے ہونگے، اسکی ایک وجہ اسرائیل، امریکہ کی ایران کے خلاف چھیڑی گئی جنگ ہے، جس نے تیل کے علاوہ تجارت کو بری طرح متاثر کیا ہے ۔ تیل کے ساتھ ستاتھ اشیائے صرف کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر ر ہی ہیں۔ اس مہنگائی کا اثر انتخابی اخراجات پر بھی پڑے گا۔ یہ تو آپ نے سن رکھا ہو گا کہ خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے، لیکن یہ واضح نہیں کہ پاکستانی خربوزے کو دیکھ کر امریکی خربوزہ رنگ پکڑتا ہے یا امریکی خربوزے کو دیکھ کر پاکستانی خربوزے نے رنگ پکڑنا شروع کیا۔ پاکستان میں 1985ء میں ہونیوالے انتخابات ماضی کے انتخابات کی نسبت بہت مہنگے تھے، پہلے تو بلیک اینڈ وائٹ پوسٹر اور بینرز سے کام چل جاتا تھا، لیکن مذکورہ انتخابات میں پہلی مرتبہ چار رنگوں کی پرنٹنگ والے پوسٹر، بینرز اور فلیکس سائنز کے علاوہ ایم ایم ٹیرز دیکھنے میں آئے، قیمے والے نان اور بریانی کلچر کا جنم بھی انہی انتخابات میں ہوا، ان انتخابات سے قبل میدان سیاست میں صرف سیاسی گھرانے اور ان کے چشم و چراغ نظر آتے تھے، لیکن ان انتخابات میں پہلی مرتبہ کاروباری خاندان میدان میں اترے۔ انہوں نے اپنی جیت کو یقینی بنانے کیلئے دل کھول کر پیسہ بہایا، پہلی مرتبہ سننے میں آیا کہ فلاں امیدوار نے نوٹوں سے بھری بوریوں کے منہ کھول دیئے ہیں، کاروباری شخصیات نے انتخاب جیتنے کے بعد اہم عہدے سنبھالے، پھر اپنی کاروباری صنعت کیلئے پالیسیاں بنائیں۔ یہ سلسلہ اس کے بعد رکا نہیں، اس طرز سیاست نے کیا کیا گل کھلائے یہ ایک کتاب کا موضوع ہے، کاروباری افراد سیاست میں آئے تو اپنے ساتھ سپانسر بھی لائے، جس کے سبب الیکشن مہنگا ترین ہوگیا۔ آئندہ الیکشن جب بھی ہوا ان اخراجات میں سو فیصد اضافہ ہوگا، کچھ ایسا ہی معاملہ امریکہ میں دیکھنے کو آ رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی الیکشن مہم شروع کر چکے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اس الیکشن کیلئے فنڈز اکٹھے کرنے کی مہم بھی شروع کر دی ہے۔ امریکی صدر کے دو انتخابات پر کئی ملین ڈالر خرچ کرنے کے بعد وائٹ ہائوس میں اپنے دفتر کیلئے جگہ حاصل کرنے کے بعد ٹرمپ کے بڑے قریبی دوست اور بڑے ڈونر کو چند ماہ بعد ہی مکھن میں سے بال کی طرح نکال باہر کیا گیا تھا، جس کے بعد دونوں میں فاصلے بڑھتے چلے گئے۔ ان فاصلوں کی بڑی وجہ یہ تھی کہ ٹرمپ کو کامیابی حاصل کرنے کے بعد اس جیسے خرچیلے دوست کی ضرورت نہ تھی، اب تو ٹرمپ کے گرد اس جیسے سیکڑوں سرمایہ دار جمع ہو چکے تھے، جنہوں نے ملکر کٹھن وقت میں اپنی دولت ٹرمپ پر لٹانے والے دوست ایلون مسک کو صرف بے آبرو ہی نہیں کیا بلکہ اسی وائٹ ہائوس سے اٹھا کر باہر پھنکوایا۔ ٹرمپ نے روایتی سرمایہ دار سیاست دان کی طرح ایلون مسک سے اسی طرح آنکھیں پھیر لیں جس طرح طوطا آنکھیں پھیرتا ہے۔ آج ٹرمپ کو ایک مرتبہ پھر ایلون مسک کی یاد آئی ہے، یہ یاد کم اور ضرورت زیادہ ہے۔ امریکی صدر کو آج ایسے درجن بھر بلینرز کی ضرورت ہے جو اس کے الیکشن میں ڈالر پانی کی طرح بہا سکیں، اور ان کی تیوری پر بل نہ آئے۔ ایلون مسک نے بھی ٹرمپ کی طرف سے بھیجے گئے پیغام محبت کو آگے بڑھ کر قبول کیا ہے۔ سرمایہ دار اور کاروباری افراد کی اپنی ضرورتیں انہیں بے چین کئے رکھتی ہیں، وہ توانا گھوڑے پر دائو لگانے کیلئے ہر وقت تیار رہتے ہیں، لیکن اس مرتبہ ایلون مسک کے گھوڑے میں ماضی جیسی توانائی نظر نہیں آ رہی، امریکی صدر کی پالیسیوں کے سبب عام امریکی شہری جس نے ماضی میں انہیں ووٹ دیا تھا آج ان سے ناخوش ہے، اور ضروری نہیں وہ اس مرتبہ بھی انہیں ووٹ دیں۔ امریکی صدر کو جن طبقات سے مخالفت کا سامنا ہے، ان میں بڑی تعداد امیگرنٹس کی ہے۔ ماضی میں ٹرمپ کو ووٹ دے کر کامیابی سے ہمکنار کرنے والے لاکھوں امیگرنٹس کی بڑی تعداد اس مرتبہ انہیں ووٹ نہیں دے گی ۔ ان میں پاکستان اور بھارت سے تعلق رکھنے والوں کی تعداد قابل ذکر ہے۔ ٹرمپ نے گزشتہ ایک برس سے بھارت اور بھارتیوں کے خلاف جو رویہ اختیار کیا بھارتی اسے نہیں بھولے۔ بھارتیوں کو ہتھکڑیاں لگا کر جہازوں میں بھر بھر کر بھارت دھکیلا گیا، پھر اس کے بعد ٹیرف کے ذریعے بھارت کو بلیک میل کیا گیا، اور بھارت کے ساتھ بھارتی قیادت کی تذلیل کا سلسلہ شروع کر دیا گیا جو اب تک جاری ہے۔ امریکی صدر نے پاکستان اور اس کی سیاسی قیادت کو سرپر اٹھائے رکھا، لیکن پاکستانیوں سے کیا گیا ایک بڑا وعدہ پورا نہ کیا، جس پر پاکستانی امیگرنٹس ان سے ناراض ہیں، اس کے علاوہ مختلف اسلامی ممالک سے تعلق رکھنے والے اور دہری شہریت رکھنے والے ووٹرز کی ایک بڑی تعداد ہے، جو ٹرمپ کی طرف سے اسرائیل کی حد سے گزرتی سول حمایت اور ایران پر اس کے بلا جواز حملے کے بعد سے ٹرمپ کیلئے کوئی نرم گوشہ نہیں رکھتی۔ یہ تمام فیکٹرز ٹرمپ کی ناکامی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، لیکن دیکھنا ہوگا کہ سی آئی اے اور پینٹاگون کا کھیل کیا ہے۔ وہاں یہودی لابی ٹرمپ کو بچانے کیلئے کس حد تک کامیاب رہتی ہے یا اس کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوتی۔ امریکی صدر نے چند روز قبل ایک سیاسی چال چل کر مسلمان ووٹرز کو رام کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن امکان ہے ان کی یہ سیاسی چال بری طرح پٹ جائے گی۔ اس چال کے تحت ٹرمپ نیتن یاہو سے فاصلہ اختیار کرتے اور ان کی پالیسیوں پر تنقید کرتے نظر آتے ہیں۔ وہ آج ایران پر حملے کی تمام ذمہ داری اسرائیل اور نیتن یاہو پر ڈال کر خود بری الذمہ ہونا چاہتے ہیں، لیکن مسلمان ووٹر ان کے جھانسے میں نہیں آئیں گے، ایسا ہی طرز عمل بھارتی ووٹرز کا ہوگا۔ نئی چال کے مطابق امریکی صدر بھارت کا دورہ کر سکتے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button