Column

غزہ کا امن اور مسلم دنیا کی مشترکہ آواز

غزہ کا امن اور مسلم دنیا کی مشترکہ آواز
غزہ آج بھی دنیا کے ضمیر کے سامنے ایک ایسا سوال بن کر کھڑا ہے، جس سے نظریں چرانا ممکن نہیں۔ یہ سوال صرف ایک خطے میں جاری جنگ کا نہیں، انسانی جان، آزادی، انصاف اور عالمی وعدوں کی پاسداری کا ہے۔ ایسے وقت میں پاکستان سمیت آٹھ اسلامی ممالک کی جانب سے غزہ امن منصوبے پر عمل درآمد میں رکاوٹ اور فلسطینی ریاست کے قیام کو مسترد کرنے پر اسرائیل کی مذمت ایک اہم اور بروقت سفارتی پیش رفت ہے۔ اس مشترکہ موقف نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ فلسطین کا مسئلہ کسی ایک ملک یا خطے کا معاملہ نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا اور عالمی برادری کے لیے انسانی اور اخلاقی ذمے داری کا تقاضا کرتا ہے۔ پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا مشترکہ بیان اس اعتبار سے اہم ہے کہ اس میں غزہ میں جنگ کے خاتمے، جامع امن منصوبے پر عمل درآمد، انسانی بحران سے نمٹنے، تعمیر نو اور فلسطینیوں کے حق خودارادیت کو ایک ہی مربوط تناظر میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ محض ایک سفارتی بیان نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے عملی سفارت کاری کے ایک نئے مرحلے کی بنیاد بننا چاہیے۔ غزہ کے عوام نے طویل عرصے سے جس تباہی، بے یقینی اور انسانی مشکلات کا سامنا کیا ہے، اس کے بعد امن کے کسی بھی منصوبے کو محض کاغذی کارروائی بنانا ایک المیہ ہوگا۔ جنگ کا خاتمہ صرف فائر بندی کے اعلان سے نہیں ہوتا۔ حقیقی امن اس وقت وجود میں آتا ہے جب شہری محفوظ ہوں، بنیادی سہولتیں بحال ہوں، گھروں اور اسپتالوں کی تعمیر نو ہو، بچوں کو تعلیم ملے، خاندان اپنے مستقبل کے بارے میں سوچ سکیں اور سب سے بڑھ کر انہیں یہ یقین ہو کہ دوبارہ ان کی زندگی جنگ کے شعلوں میں نہیں جھونکی جائے گی۔یہی وجہ ہے کہ اسلامی ممالک کے مشترکہ بیان میں غزہ کی تعمیر نو اور بحالی کی لیے جامع منصوبے پر فوری عمل درآمد کا مطالبہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ تباہ شدہ عمارتیں تعمیر کی جاسکتی ہیں، سڑکیں دوبارہ بنائی جاسکتی ہیں، اسکول اور اسپتال دوبارہ آباد کیے جاسکتے ہیں، لیکن ہزاروں جانوں کا نقصان واپس نہیں لایا جاسکتا۔ اس لیے اب دنیا کو محض تباہی گننے کے بجائے تعمیر اور بحالی کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ اس معاملے میں پاکستان کا کردار خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان نے ابتدا ہی سے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں فلسطین کا مسئلہ محض سفارتی ترجیح نہیں بلکہ ایک دیرینہ اصولی موقف کی حیثیت رکھتا ہے۔ موجودہ مشترکہ بیان میں پاکستان کی شرکت اس بات کا اظہار ہے کہ اسلام آباد غزہ کے معاملے پر مسلم دنیا کے اجتماعی موقف کو مضبوط بنانے کے لیے سفارتی کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ پاکستان کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ اپنی سفارتی کوششوں کو مزید متحرک کرے۔ اسلامی ممالک کے درمیان مشاورت کو محض بیانات تک محدود رکھنے کے بجائے ایک مشترکہ سفارتی حکمت عملی تشکیل دی جانی چاہیے۔ دنیا کے بڑے دارالحکومتوں میں یہ واضح کیا جانا چاہیے کہ فلسطینی عوام کے حقوق کو نظرانداز کرکے مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کا خواب پورا نہیں ہوسکتا۔ اسرائیل کی جانب سے فلسطینی ریاست کے قیام کو مسترد کرنے کا معاملہ بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر دو ریاستی حل کو عالمی برادری ایک منصفانہ اور پائیدار امن کی بنیاد سمجھتی ہے تو پھر فلسطینی ریاست کے حق کو مسلسل متنازع بنانا امن کی بنیاد ہی کو کمزور کرتا ہے۔ 1967ء کی سرحدوں پر ایک آزاد، خودمختار فلسطینی ریاست اور مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانے کی حمایت اسی تناظر میں اہم ہے۔ یہاں عالمی برادری کے لیے بھی ایک واضح پیغام موجود ہے۔ امن صرف اس وقت معتبر ہوتا ہے جب اس کے اصول سب کے لیے یکساں ہوں۔ اگر طاقتور ریاستوں کے لیے بین الاقوامی قوانین کی تشریح ایک انداز میں اور کمزور اقوام کے لیے دوسرے انداز میں کی جائے تو عالمی نظام پر اعتماد کیسے قائم رہے گا؟ فلسطین کا مسئلہ اسی دہرے معیار کا امتحان بن چکا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ میں جنگ کے خاتمے اور امن کے لیے پیش کی جانے والی کوششوں کا حوالہ بھی مشترکہ بیان میں دیا گیا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ امن کے لیے پیش کیے جانے والے کسی بھی جامع منصوبے کو عملی شکل دینے میں تمام فریق سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔ اگر کسی منصوبے کا مقصد جنگ ختم کرنا، انسانی بحران کم کرنا اور خطے میں دیرپا امن قائم کرنا ہے تو اس پر عمل درآمد میں غیر ضروری رکاوٹیں پیدا کرنا خود امن کے مقصد سے انحراف ہوگا۔ غزہ کا مسئلہ صرف سیاسی مذاکرات سے حل نہیں ہوگا۔ وہاں انسانی زندگی کی بحالی بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ خوراک، پانی، طبی سہولتوں، رہائش، تعلیم اور بنیادی انفرا اسٹرکچر کی فراہمی فوری ترجیح ہونی چاہیے۔ جنگ سے متاثرہ بچوں کا مستقبل کسی بھی امن منصوبے کا مرکزی حصہ ہونا چاہیے، کیونکہ ایک ایسی نسل جو تباہی اور خوف میں پروان چڑھے، اس کے لیے معمول کی زندگی کا تصور بھی ایک خواب بن جاتا ہے۔ مسلم ممالک کو غزہ کی تعمیر نو کے لیے عملی مالی اور تکنیکی تعاون کا مضبوط نظام بھی تشکیل دینا چاہیے۔ خلیجی ممالک کے مالی وسائل، پاکستان، ترکیہ اور دیگر ممالک کی تکنیکی و انسانی صلاحیتیں اور مصر و اردن جیسے ممالک کا علاقائی تجربہ مل کر ایک مثر بحالی کا فریم ورک تشکیل دے سکتے ہیں۔ اگر مسلم دنیا سیاسی طور پر ایک آواز اور عملی طور پر ایک دوسرے کے ساتھ کھڑی ہوجائے تو غزہ کی تعمیر نو میں اہم کردار ادا کیا جاسکتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ فلسطینی عوام کو صرف امداد نہیں، مستقبل چاہیے۔ امداد ایک زخمی معاشرے کو کچھ وقت کے لیے سہارا دے سکتی ہے، لیکن مستقل امن اسے خودمختاری، سیاسی حقوق، معاشی مواقع اور محفوظ زندگی فراہم کرتا ہے۔ اسی لیے آزاد فلسطینی ریاست کا قیام محض سیاسی مطالبہ نہیں بلکہ خطے میں دیرپا امن کی بنیادی ضرورت ہے۔ غزہ کے حوالے سے موجودہ صورت حال نے مسلم دنیا کے سامنے ایک بڑا امتحان بھی رکھا ہے۔ کیا ہم صرف مذمتی بیانات تک محدود رہیں گے یا اپنی سفارتی، معاشی اور انسانی قوت کو ایک منظم حکمت عملی میں تبدیل کریں گے؟ پاکستان سمیت آٹھ اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان ایک اہم قدم ہے، مگر اصل اہمیت اس بات کی ہوگی کہ اس کے بعد کیا عملی اقدامات کیے جاتے ہیں۔ فلسطین کے مسئلے پر مسلم دنیا کا اتحاد انصاف کے حق میں اجتماعی آواز ہونا چاہیے۔ دنیا کو یہ پیغام دینا ضروری ہے کہ فلسطینی بھی اسی طرح امن، آزادی، عزت اور خودمختاری کے حق دار ہیں جیسے دنیا کی دوسری اقوام ہیں۔ آج غزہ کی گلیاں عالمی سیاست سے ایک سادہ سا سوال پوچھ رہی ہیں: اگر امن واقعی سب کا حق ہے تو فلسطینیوں کا حق کب تسلیم کیا جائے گا؟ اس سوال کا جواب محض قراردادوں، بیانات اور کانفرنسوں سے نہیں بلکہ عملی فیصلوں سے دینا ہوگا۔ پاکستان نے ایک بار پھر فلسطین کے حق میں اپنی آواز بلند کی ہے اور دیگر اسلامی ممالک کے ساتھ مل کر غزہ میں امن، تعمیر نو اور فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ یہ مقف اس وقت مزید مثر ہوسکتا ہے جب مسلم دنیا اسے مشترکہ سفارتی قوت میں تبدیل کرے۔ غزہ کو مزید جنگ نہیں، زندگی چاہیے۔ فلسطینی بچوں کو مزید ملبہ نہیں، اسکول چاہیے۔ خاندانوں کو مزید خوف نہیں، تحفظ چاہیے اور فلسطینی قوم کو محض وعدے نہیں، اپنے حقِ خودارادیت اور آزاد ریاست کا عملی حق چاہیے۔

شذرہ۔۔
آپریشن ردالفتنہ میں اہم کامیابی
بلوچستان کے ضلع خاران کے علاقے لجے میں آپریشن ردالفتنہ 3کے تحت سیکیورٹی فورسز کی بروقت اور مثر کارروائی ایک بار پھر اس عزم کی تجدید کرتی ہے کہ پاکستان کی سرزمین کو دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں بننے دیا جائے گا۔ خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کیے گئے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں 7دہشت گردوں کی ہلاکت اور متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاع اس بات کا ثبوت ہے کہ سیکیورٹی ادارے دہشت گردی کے نیٹ ورک کے خلاف مسلسل متحرک ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کے مطابق دہشت گردوں کے ٹھکانوں سے جدید اسلحہ، بڑی مقدار میں گولا بارود، جنگی سامان، دو گاڑیاں اور ایک موٹرسائیکل برآمد ہوئی جب کہ ان کے ٹھکانے بھی مکمل طور پر تباہ کردیے گئے۔ یہ کارروائی اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ مارے جانے والے دہشت گرد خاران اور گردونواح میں لوٹ مار، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ اور خودکش حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث تھے۔ بلوچستان پاکستان کا وہ خطہ ہے جس کی ترقی، خوش حالی اور امن ملک کے وسیع تر مفاد سے جڑا ہوا ہے۔ دشمن قوتیں اگر دہشت گردی کے ذریعے یہاں خوف پیدا کرنا اور عوام کو ریاست سے دور کرنا چاہتی ہیں تو انہیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ پاکستان کے عوام اور سیکیورٹی ادارے ان عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ دہشت گردی کا مقابلہ صرف بندوق سے نہیں بلکہ عوام کے اعتماد، موثر انٹیلی جنس، مضبوط انتظامی نظام اور ترقی کے عمل سے بھی کیا جاتا ہے۔ جہاں دہشت گرد خوف پھیلانا چاہتے ہیں، وہاں ریاست کو تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولتوں کے ذریعے امید پیدا کرنا ہوگی۔ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی کو سراہنا قومی سطح پر اس عزم کا اظہار ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاست کسی کمزوری کا مظاہرہ نہیں کرے گی۔ پاکستان نے دہشت گردی کی بھاری قیمت ادا کی ہے۔ اب وقت ہے کہ اس قربانی کو فیصلہ کن کامیابی میں بدلا جائے۔ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہنے والا عزم ہی پائیدار امن کی ضمانت بن سکتا ہے۔ بلوچستان میں امن ہوگا تو ترقی کا سفر بھی تیزی سے آگے بڑھے گا اور یہی پاکستان کے دشمنوں کے عزائم کا سب سے موثر جواب ہے۔

جواب دیں

Back to top button