Column

امن، ترقی اور مضبوط پاکستان

امن، ترقی اور مضبوط پاکستان

پاکستان نے اپنا 79واں یومِ آزادی ایسے وقت میں منایا ہے جب ملک کو بیک وقت کئی داخلی، خارجی، معاشی اور سلامتی کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایسے ماحول میں وزیراعظم شہباز شریف کا یہ پیغام خاص اہمیت رکھتا ہے کہ پاکستان اپنے دفاع، آبی وسائل اور دیگر قومی مفادات کے تحفظ کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گا۔ دوسری جانب صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم کے درمیان ملاقات میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے، علاقائی امن، معاشی مشکلات میں عوام کو ریلیف اور پاکستان کے عالمی مقام کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ ان دونوں پیغامات کو یکجا کیا جائے تو پاکستان کی موجودہ قومی ترجیحات کی ایک واضح تصویر سامنے آتی ہے۔ یومِ آزادی محض جشن منانے کا دن نہیں بلکہ قومی سمت کا تعین کرنے کا موقع بھی ہے۔ 14اگست ہمیں ان قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جن کے نتیجے میں پاکستان ایک آزاد مملکت کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت، تحریک آزادی کے کارکنوں کی جدوجہد اور لاکھوں مہاجرین کی قربانیوں نے اس ملک کی بنیاد رکھی۔ آج 79برس بعد ہمارے سامنے بنیادی سوال یہ ہے کہ ہم اس آزادی کو کس طرح مضبوط، محفوظ اور خوشحال بنا سکتے ہیں۔ وزیراعظم کا یہ کہنا درست ہے کہ آج پاکستان دنیا میں ایک مضبوط، پُرعزم، باوقار اور امن کی توانا آواز کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ دفاعی میدان میں پاکستان کی مسلح افواج نے ملک کے تحفظ کے لیے ہمیشہ نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی فوج، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ صدر مملکت اور وزیراعظم کی جانب سے ان اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو خراج تحسین اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ اس بات کا اظہار ہے کہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔تاہم مضبوط دفاع صرف اسلحے، فوجی صلاحیت اور سرحدوں کی حفاظت کا نام نہیں۔ ایک مضبوط ملک وہ ہوتا ہے جس کی معیشت مستحکم، ادارے موثر، عوام مطمئن اور نوجوان بااختیار ہوں۔ اگر معاشی بنیاد کمزور ہو تو دفاعی اور سفارتی کامیابیوں کو بھی دیرپا طاقت میں تبدیل کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اسی لیے پاکستان کو اب قومی سلامتی کے ساتھ معاشی سلامتی کو بھی اولین ترجیح بنانا ہوگا۔ پاکستان کی موجودہ علاقائی حیثیت اس کے لیے بڑے مواقع پیدا کر رہی ہے۔ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان مکہ مکرمہ میں طے پانے والے معاہدے کو وزیراعظم نے پاکستان کے بڑھتے ہوئے تزویراتی کردار کا مظہر قرار دیا ہے۔ برادر اسلامی ممالک کے ساتھ مضبوط تعلقات یقیناً پاکستان کے سفارتی اثر و رسوخ میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ تاہم سفارتی تعلقات کی اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب ان کے نتیجے میں تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، روزگار اور معاشی تعاون کے نئے دروازے کھلیں۔ پاکستان کو اپنی سفارتی طاقت کو معاشی قوت میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ دنیا میں کسی ملک کا اثر و رسوخ صرف سیاسی بیانات سے نہیں بڑھتا بلکہ مضبوط معیشت، برآمدات، سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت اسے حقیقی وزن فراہم کرتی ہے۔ سعودی عرب اور ترکیہ سمیت دوست ممالک کے ساتھ تعلقات کو اسی وسیع تر معاشی تناظر میں آگے بڑھانا چاہیے۔ وزیراعظم نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں 11.3ارب ڈالر کے اضافے کو حکومتی پالیسیوں پر اعتماد قرار دیا ہے۔ یہ امر حوصلہ افزا ہے، مگر پاکستان کو صرف ترسیلات زر پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی برآمدی صلاحیت بڑھانے، صنعتی پیداوار میں اضافہ کرنے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ ملک کی سب سے بڑی طاقت اس کے نوجوان ہیں۔ باصلاحیت نوجوان، ہنرمند افرادی قوت، ماہر پیشہ ور افراد، کسان اور محنت کش پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوانوں کو جدید تعلیم، فنی تربیت، ٹیکنالوجی اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ مصنوعی ذہانت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، جدید زراعت، انجینئرنگ اور صنعتی شعبوں میں نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر پاکستان اپنی معاشی سمت تبدیل کر سکتا ہے۔ صدر مملکت کی جانب سے عوام کو درپیش معاشی مشکلات کے تناظر میں اشیائے ضروریہ کی بلاتعطل فراہمی اور مناسب نرخوں پر دستیابی کے لیے موثر اقدامات پر زور دینا بھی نہایت اہم ہے۔ قومی ترقی کا اصل فائدہ اسی وقت ہے جب اس کے اثرات عام آدمی کی زندگی میں دکھائی دیں۔ معاشی استحکام کے اعداد و شمار اپنی جگہ اہم ہیں، مگر ایک غریب خاندان کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ آٹا، دال، بجلی، گیس، علاج اور تعلیم اس کی دسترس میں ہیں یا نہیں۔ حکومت کو معاشی استحکام کے ساتھ مہنگائی پر قابو پانے اور عوام کی قوتِ خرید بہتر بنانے کے لیے مستقل اقدامات کرنا ہوں گے۔ عوام کو ریلیف وقتی اقدامات سے نہیں بلکہ روزگار، پیداوار اور آمدنی میں اضافے سے ملے گا۔ پاکستان نے ہمیشہ مشکل حالات میں اپنی صلاحیت ثابت کی ہے۔ آج بھی ضرورت مایوسی کی نہیں بلکہ قومی اتحاد، سیاسی مفاہمت اور عملی حکمتِ عملی کی ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے تمام طبقات اور سیاسی جماعتوں کو ملکی سالمیت اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کی دعوت قابلِ توجہ ہے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حُسن ہے، لیکن قومی مفادات پر اتفاقِ رائے ریاست کی طاقت بن جاتا ہے۔ آج پاکستان کو ایک ایسے قومی بیانیے کی ضرورت ہے جس میں دفاع مضبوط ہو، معیشت مستحکم ہو، سفارت کاری موثر ہو، دہشت گردی کا خاتمہ ہو اور عوام کو بنیادی سہولتیں میسر ہوں۔ پاکستان کو دنیا میں امن کی آواز بھی بننا ہے اور اپنے قومی مفادات کا موثر محافظ بھی۔ 79ویں یومِ آزادی کا اصل تقاضا یہی ہے کہ ہم ماضی کی قربانیوں پر فخر کرنے کے ساتھ مستقبل کی ذمے داری بھی قبول کریں۔ شہداء نے ملک کی آزادی اور سلامتی کے لیے جانیں دیں، اب زندہ قوم پر لازم ہے کہ وہ اپنی محنت، دیانت، اتحاد اور بصیرت سے پاکستان کو مضبوط بنائے۔ پاکستان کے پاس وسائل بھی ہیں، نوجوان بھی، جغرافیائی اہمیت بھی اور عالمی سطح پر دوست ممالک بھی۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ان تمام قوتوں کو ایک واضح قومی حکمتِ عملی میں تبدیل کیا جائے۔ آزادی کی حفاظت صرف سرحدوں پر نہیں ہوتی، مضبوط معیشت، متحد قوم، موثر ادارے اور خوشحال عوام بھی آزادی کے محافظ ہوتے ہیں۔

پٹرولیم لیوی، حکومت کی ریکارڈ آمدن

مالی سال 2025۔26کے دوران حکومت نے پٹرولیم لیوی کی مد میں ریکارڈ 1567ارب 45کروڑ روپے وصول کیے، جو مقررہ حکومتی ہدف سے قریباً 100ارب روپے اور آئی ایم ایف کے تخمینے سے بھی زیادہ ہے۔ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں بھی اس وصولی میں 347ارب 24کروڑ روپے کا نمایاں اضافہ ہوا۔ یہ اعداد و شمار بلاشبہ حکومت کی مالیاتی ضروریات پوری کرنے کے لیے اہم ہیں، لیکن اس کے ساتھ ایک بنیادی سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اس آمدن کا اصل بوجھ کون اٹھا رہا ہے؟ پٹرول اور ڈیزل محض ایندھن نہیں بلکہ معیشت کے پہیے کو حرکت دینے والی بنیادی ضرورت ہیں۔ ٹرانسپورٹ سے لے کر زراعت، صنعت، تجارت اور روزمرہ اشیائے ضروریہ تک قریباً ہر شعبہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متاثر ہوتا ہے۔ جب ان پر مختلف نوعیت کی لیویز عائد ہوتی ہیں تو اس کا اثر بالآخر عام صارف کی جیب پر پڑتا ہے۔ موجودہ نظام میں پٹرول پر 80روپے فی لٹر اور ہائی سپیڈ ڈیزل پر 77روپے 28پیسے فی لٹر پٹرولیم لیوی عائد ہے، جبکہ ذرائع کے مطابق دونوں مصنوعات پر 5،5روپے فی لیٹر کلائمیٹ سپورٹ لیوی بھی وصول کی جارہی ہے۔ ماحولیاتی تحفظ کے لیے محصولات کا تصور اپنی جگہ قابلِ فہم ہے، مگر عوام کو یہ بھی بتایا جانا چاہیے کہ اس مد میں جمع ہونے والی رقم کہاں خرچ ہورہی ہے اور اس کے نتیجے میں ماحول کو کیا فائدہ پہنچا۔ حکومت کے لیے پٹرولیم لیوی یقیناً ایک آسان ذریعہ آمدن بن چکی ہے، لیکن مستقل بنیادوں پر بالواسطہ محصولات بڑھانا معاشی حل نہیں۔ اگر قومی آمدن بڑھانی ہے تو ٹیکس نیٹ وسیع کیا جائے، ٹیکس چوری روکی جائے، برآمدات میں اضافہ کیا جائے اور پیداواری شعبوں کو مضبوط بنایا جائے۔ حکومت کو یہ بھی یقینی بنانا چاہیے کہ پٹرولیم لیوی سے حاصل ہونے والی بھاری رقم محض بجٹ کے خلا پُر کرنے میں نہ کھپ جائے بلکہ اسے ایسے منصوبوں پر خرچ کیا جائے جو معیشت کی پیداواری صلاحیت بڑھائیں۔ ریاست کی مالی ضرورت اپنی جگہ، مگر عوام کو ریلیف بھی ریاست ہی کی ذمے داری ہے۔ محصولات بڑھانے کے بجائے آمدن بڑھانے کی پالیسی ہی پاکستان کو پائیدار معاشی استحکام دے سکتی ہے۔

جواب دیں

Back to top button