Column

نیا سمندری دفاعی اتحاد

نیا سمندری دفاعی اتحاد
تحریر: رفیع صحرائی
تاریخ گواہ ہے کہ جس قوم یا طاقت نے سمندروں پر اپنی موجودگی مضبوط بنائی، اس نے عالمی سیاست اور معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔ دنیا کی سیاست میں سمندر ہمیشہ طاقت، تجارت اور معیشت کی علامت رہے ہیں۔ آج بھی عالمی تجارت کا قریباً نوّے فیصد حصہ سمندری راستوں کے ذریعے ایک ملک سے دوسرے ملک تک پہنچتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ باب المندب، بحیرہ احمر اور خلیجِ عدن جیسے اہم آبی راستے صرف خطے کے ممالک ہی نہیں بلکہ پوری عالمی معیشت کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران ان آبی گزرگاہوں میں تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں، بحری قزاقی، مسلح گروہوں کی کارروائیوں اور علاقائی کشیدگی نے عالمی تجارت کو شدید خطرات سے دوچار کیا۔ ان حالات میں پاکستان سمیت چودہ ممالک کی جانب سے سعودی عرب کی قیادت میں ایک کثیر القومی میری ٹائم دفاعی اتحاد کی حمایت نہ صرف ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے بلکہ مستقبل کے علاقائی سلامتی کے نظام میں بھی ایک نئے باب کا اضافہ ہے۔
سن 1956ء میں نہر سویز کے بحران نے پہلی مرتبہ دنیا کو احساس دلایا کہ سمندری راستے صرف پانی کی گزرگاہیں نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہیں۔ پھر 1967ء سے 1975ء تک نہر سویز کی طویل بندش نے بین الاقوامی تجارت کو شدید دھچکا پہنچایا جبکہ حالیہ برسوں میں بحیرہ احمر اور باب المندب میں کشیدگی، تجارتی جہازوں پر حملوں اور عالمی سپلائی چین میں رکاوٹوں نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ اگر چند سو کلو میٹر پر مشتمل آبی گزرگاہ غیرمحفوظ تو اس کے اثرات ہزاروں میل دور بیٹھے عام صارف تک پہنچتے ہیں۔ ایندھن مہنگا ہوتا ہے، اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھتی ہیں، صنعتوں کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوتا ہے اور عالمی معیشت عدم استحکام کا شکار ہو جاتی ہے۔ یہی وہ تلخ حقیقت ہے جس نے دنیا کو اجتماعی سمندری سلامتی کے نئے نظام پر غور کرنے پر مجبور کیا ہے۔ اسی پس منظر میں پاکستان سمیت چودہ ممالک کی جانب سے سعودی عرب کی قیادت میں مجوزہ کثیرالقومی میری ٹائم دفاعی اتحاد کی حمایت محض ایک سفارتی پیش رفت نہیں بلکہ بدلتی ہوئی عالمی حکمت عملی کا اہم اشارہ ہے۔ یعنی اس اتحاد کا اصل مقصد بحیرہ احمر اور باب المندب میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال ہے۔ یہ آبی راستہ ایشیا، یورپ اور افریقہ کو جوڑنے والا اہم تجارتی کوریڈور ہے۔ اگر اس راہداری میں رکاوٹ پیدا ہو تو نہ صرف تیل کی ترسیل متاثر ہوتی ہے بلکہ عالمی سپلائی چین، اشیائے ضروریہ کی قیمتیں، انشورنس اخراجات اور بین الاقوامی تجارت بھی شدید دبائو کا شکار ہو جاتی ہے۔ حالیہ مہینوں میں متعدد تجارتی جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد دنیا کو احساس ہوا کہ کسی ایک ملک کے لیے اتنے وسیع سمندری علاقے کا تحفظ ممکن نہیں، لہٰذا اجتماعی دفاعی حکمتِ عملی وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔
سعودی عرب کی وزارتِ دفاع کے زیر اہتمام ہونے والے اجلاس میں پاکستان، سعودی عرب، کویت، بحرین، قطر، ترکیہ، مصر، اردن، یمن، بنگلہ دیش، نائیجیریا، سوڈان، جیبوتی اور صومالیہ نے اس اتحاد کی حمایت کا اعلان کیا، جبکہ دیگر ممالک نے بھی مستقبل میں شمولیت کی خواہش ظاہر کی۔ سعودی عرب کو اس اتحاد کا بانی ملک، قائد اور مستقل ہیڈ کوارٹر کا میزبان مقرر کرنا اس بات کا اظہار ہے کہ خطے کے ممالک ریاض کو ایک مثر اور قابلِ اعتماد قیادت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
مجوزہ اتحاد کے اغراض و مقاصد بھی نہایت واضح ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد باب المندب، بحیرہ احمر اور خلیجِ عدن میں آزادانہ جہاز رانی کو یقینی بنانا، تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں کا تحفظ، بحری قزاقی، دہشت گردی، اسلحہ اور منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام، حساس سمندری تنصیبات کی حفاظت، انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ اور مشترکہ بحری مشقوں کے ذریعے دفاعی استعداد میں اضافہ کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جدید کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام اور مربوط آپریشنل ڈھانچہ قائم کرنا بھی اتحاد کی ترجیحات میں شامل ہے۔
پاکستان کے لیے اس اتحاد کی اہمیت کئی پہلوں سے نمایاں ہے۔ پاکستان کی بحریہ پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے اعتبار سے خطے میں ایک مضبوط فورس سمجھی جاتی ہے اور وہ پہلے بھی مشترکہ بحری مشقوں اور امن مشنز میں اہم کردار ادا کر چکی ہے۔ اس اتحاد میں فعال کردار پاکستان کے دفاعی وقار، سفارتی اثر و رسوخ اور سعودی عرب سمیت دوست ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون کو مزید مستحکم کرے گا۔ علاوہ ازیں پاکستان کی برآمدات اور توانائی کی درآمدات بھی انہی سمندری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان آبی گزرگاہوں کا محفوظ رہنا براہِ راست قومی معاشی مفاد سے جڑا ہوا ہے۔تاہم اس اتحاد کو متعدد چیلنجز کا بھی سامنا ہوگا۔ سب سے بڑا چیلنج علاقائی سیاست اور مختلف طاقتوں کے باہمی مفادات ہیں۔ اگر یہ اتحاد کسی جغرافیائی یا سیاسی کشمکش کا حصہ بنا تو اس کی غیر جانبداری متاثر ہو سکتی ہے۔ اسی طرح رکن ممالک کی عسکری صلاحیتوں، وسائل، قانونی تقاضوں اور فیصلہ سازی کے طریقہ کار میں اختلافات بھی اس کی رفتار سست کر سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ مسلسل مالی وسائل، جدید بحری ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس شیئرنگ اور مربوط کمانڈ سسٹم کے بغیر اتنے وسیع سمندری علاقے کی موثر نگرانی آسان نہیں ہوگی۔
اس کے باوجود اس اتحاد کی کامیابی کے امکانات روشن دکھائی دیتے ہیں، بشرطیکہ اسے کسی سیاسی بلاک کے بجائے ایک خالصتاً دفاعی اور سلامتی کے پلیٹ فارم کے طور پر چلایا جائے۔ اگر رکن ممالک مشترکہ ذمہ داری، شفافیت، باہمی اعتماد اور مستقل تعاون کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہتے ہیں تو یہ اتحاد نہ صرف خطے میں امن و استحکام کو فروغ دے سکتا ہے بلکہ عالمی تجارت کو بھی ایک محفوظ ماحول فراہم کرے گا۔ مستقبل میں مصنوعی ذہانت، سیٹلائٹ نگرانی، ڈرون ٹیکنالوجی اور مشترکہ میری ٹائم آپریشن سینٹرز کا قیام اس اتحاد کی کارکردگی کو مزید موثر بنا سکتا ہے۔
آج کی دنیا میں سلامتی صرف زمینی سرحدوں تک محدود نہیں رہی بلکہ سمندری راستے بھی قومی سلامتی کا لازمی جزو بن چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں تشکیل پانے والا یہ مجوزہ میری ٹائم اتحاد محض ایک دفاعی انتظام نہیں بلکہ عالمی معیشت، توانائی کے تحفظ اور بین الاقوامی استحکام کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ اگر اس اتحاد کے مقاصد کو سیاسی مصلحتوں سے بالاتر رکھتے ہوئے عملی تعاون، مشترکہ حکمتِ عملی اور بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں آگے بڑھایا گیا تو یہ نہ صرف بحیرہ احمر اور باب المندب بلکہ پوری دنیا کی سمندری سلامتی کے لیے ایک موثر اور دیرپا ماڈل ثابت ہو سکتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button