بہتی شہ رگ

بہتی شہ رگ
محمد مبشر انوار
بابائے قوم نے کشمیر کے متعلق کہا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور پاکستان 1947ء سے کشمیر کا مقدمہ نہ صرف عالمی پلیٹ فارمز پر لڑ رہا ہے بلکہ اپنی مکمل اور غیر مشروط حمایت کشمیر کاز کے لئے رکھتا ہے۔ دنیا کا کوئی بھی فورم ایسا نہیں کہ جہاں کشمیر کی بات ہو اور پاکستان نے اس مقدمہ کو لڑنے سے انکار کیا ہو، بلکہ کشمیریوں کے شانہ بشانہ کھڑا نظر آتا ہے اور دنیا کی حمایت آزادی کے اس نامکمل ایجنڈا پر حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تاہم ابھی تک پاکستان کو اپنے اس مقصد میں کامیابی نہیں ہوسکی کہ اس کی کئی ایک وجوہات ہے۔ ان میں سرفہرست اگر دیکھا جائے تو سب سے اہم پاکستان کے معاشی حالات ہیں کہ دور حاضر میں ریاستوں کی اہمیت یا بات میں وزن اسی صورت ہوتا ہے بشرطیکہ ان کی دفاعی صلاحیت کے ساتھ ساتھ معاشی حیثیت بھی مستحکم ہو۔ خوش قسمتی سے پاکستان نے گزشتہ برس اپنی دفاعی حیثیت کا مسلمہ ثبوت نہ صرف بھارت بلکہ پوری دنیا کو دکھا دیا، لیکن بدقسمتی سے پاکستان کی معاشی حیثیت انتہائی دگر گوں ہے اور دوسری طرف بھارت، جو اس سے قبل اپنے تئیں صرف معاشی ہی نہیں بلکہ دفاعی حیثیت کا بھی دعویدار تھا،اس کی دفاعی حیثیت کا پول پاکستان نے بیچ چوراہے ایسا کھولا ہے کہ بھارت ابھی تک اپنے زخم چاٹ رہا ہے تو دوسری طرف عالمی سطح پر اسے جو ہزیمت اٹھانا پڑی ہے،اس نے بھارت کی بولتی بند کررکھی ہے۔بھارت اب پہلے کی طرح عالمی برادری میں بڑھ چڑھ کر اپنی جغرافیائی و معاشی و عسکری حیثیت کا ڈھنڈورا پیٹنے سے گریز کرتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ،اپنی ہزیمت کو مٹانے کے لئے،بھارت کی جانب سے زیر زمین کارروائیاں مسلسل جاری ہیں اور پاکستان کو کمزور کرنے یا اسے عالمی سطح پر سخت تنقید کا نشانہ بنانے کی کوئی صورت نہیں چھوڑ رہا۔ پاکستان کو داخلی عدم استحکام سے دوچار کرنے کے جن منصوبو ں پر بھارت عمل پیرا ہے، ان میں اس وقت سر فہرست افغان سرزمین سے ،پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیاں سرفہرست ہیں اور پاکستان داخلی طور پر ان سے نپٹنے میں اپنے وسائل صرف کررہا ہے لیکن تاحال ان سے نبردآزما ہونے میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہوا۔ دوسری طرف عالمی برادری کی ترجیحات پر نظر دوڑائیں تو یہ حقیقت واضح ہے کہ عالمی برادری کا مفاد ہی اسی میں ہے کہ وہ ہر مسلم ملک میں بالعموم جبکہ اس خطے میں بالخصوص پاکستان میں عدم استحکام کو قائم رکھیں کہ پاکستان جغرافیائی طور پر جس جگہ موجود ہے، اس کا عدم استحکام، عالمی برادری کے حریفوں کی ترقی میں رکاوٹ کا کردار ادا کرتا ہے لہذا پاکستان کا داخلی عدم استحکام عالمی سیاسی بساط کا حصہ بھی ہے۔پاکستان ،بارہا افغانستان کو اس حوالے سے اعتماد میں لینے کی کوششیں کرچکا ہے مگر پاکستان کی تمام تر کوششیں ناکام ثابت ہورہی ہیں اور افغان حکومت، جس کی مدد و حمایت پاکستان نے ہر موقع پر کی تھی، پاکستانی مفادات کے خلاف ہی بروئے کار آرہی ہے اور پاکستان اب معاملے کو ہمیشہ کے لئے ختم کرنے کی اپنی سی کوشش تو کر رہا ہے لیکن جب تک افغانستان کی حکومت یا حکومتیں ،اس حقیقت کا اعتراف نہیں کریں گی،وہ دوسروں کے ہاتھوں کھیلتے ہوئے، اپنے لئے اور پاکستان کے لئے مشکلات کھڑی کرتی رہیں گی۔رہی سہی کسر پاکستانی ’’ آقائوں‘‘ کا رویہ ہے جو پاکستان کے نظام حکومت کو تسلیم کرنے پرتیار ہی نہیں اور اپنی من مرضی کرنے سے کسی بھی صورت رکنے کے لئے تیار نہیں، وہ خواہ پاکستان کا عام انتخابی عمل ہو یا آزاد کشمیر کا انتخابی میدان،انہیں ہر صورت اپنے پسندیدہ یا پروردہ نمائندے حکومت میں درکار ہیں۔
حیرت انگیز طور پر کشمیر کی حیثیت ایک متنازعہ خطے کی ہے اور یہاں پر استصواب رائے سے فیصلہ ہونا ہے کہ کشمیر کی قسمت کیا ہو گی لیکن بدقسمتی سے نہ بھارتی کشمیر اور اب پاکستانی کشمیر میں بھی اس اہمیت کو تسلیم کیا جارہا ہے گو کہ پاکستان آج بھی کشمیریوں کے استصواب رائے پر کھڑا ہے مگر اقدامات اس دعوے کی نفی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ بالخصوص بھارت کے 5اگست2019ء کے اقدام کے بعد،معاملات مزید گھمبیر ہوتے نظر آتے ہیں حالانکہ بھارت کے اس ناجائز اقدام کے بعد، جیسے چین نے کشمیر کی حیثیت تبدیل ہونے پر،نو مینز لینڈ ڈیکلیئر ہونے پر لداخ کے علاقوں پر پیش قدمی کرتے ہوئے ہزاروں مربع کلو میٹر علاقے پر قبضہ کر لیا،پاکستان کو بھی اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے تھا لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ ایسا نہ ہونے کی وجہ بھی سامنے ہے کہ کشمیر پر بھارت ایک عرصہ تک پاکستان پر الزام دھرتا رہا کہ پاکستان کشمیریوں کی تحریک آزادی کو ہوا دیتا ہے اور کشمیری ( بھارتی مقبوضہ کشمیر) بھارت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں لیکن پاکستان ان کی تحریک آزادی میں مدد فراہم کرتا ہے اور بھارتی مقبوضہ کشمیر میں عدم استحکام پیدا کرتا ہے۔ دوسری جانب پاکستان کا ہمیشہ یہی موقف رہا کہ پاکستان کشمیریوں کی سفارتی،اخلاقی مدد کرتا ہے اور براہ راست اس تحریک آزادی کا حصہ نہیں رہا لیکن بھارت کی جانب سے مسلسل اس پراپیگنڈے کے جواب میں جنرل مشرف کے دور میں پاکستان نے بھارت کو باڑ لگانے کی سہولت فراہم کردی لیکن اس کے باوجود کشمیریوں کی تحریک آزادی جاری ہے۔ گو کہ جنرل مشرف کی جانب سے یہ سہولت فراہم کرنا بھی، کشمیر کاز کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہی خیال کیا جاتا ہے کہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے، جس کے مستقبل کا فیصلہ ہونا ہنوز ابھی باقی ہے، اور اس طرح ایک قابض فریق کو یہ سہولت فراہم کرنا کہ لائن آف کنٹرول پر مستقل باڑ لگائی جائے، پاکستان کے کشمیر موقف سے پیچھے ہٹنا ہی سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان کے اتنے بڑے غیر متوقع اقدام کے باوجود، کشمیری ایک دن کے لئے بھی اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹے اور نہ ہی ان کی تحریک میں کسی قسم کی کمی دکھائی دیتی ہے بلکہ وہ آج بھی اپنے موقف پر ڈٹ کر کھڑے ہیںاور بھارت سے آزادی کے طلبگار ہیں۔ بھارت کے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے یکطرفہ اورناجائز اقدام کے باوجود،بھارت کے کشمیری ڈیمو گرافی کو تبدیل کرنے کی کوششوں کے باوجود،بھارت مقبوضہ کشمیر میں سیاسی عمل،خواہ کنٹرولڈ ہی سہی،جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایک طرف کشمیر میں انتخابی عمل جاری ہوتا ہے اور دوسری طرف بھارتی سکیورٹی فورسز ،کشمیری احتجاجی مظاہرین پر گولیوں کی برسات کرتی دکھائی دیتی ہیں،اپنے جمہوری ہونے کی نفی خود بھارت اپنے عمل سے کرتا دکھائی دیتا ہے، جو بہرحال بھارت کے ماتھے پر کلنک کے ٹیکے کی مانند سجا رہتا ہے۔ انتخابی عمل میں بھی شفافیت نام کی کوئی چیز ،ایک بڑی جمہوریت کے دعویدار ہونے کے باوجود کہیں دکھائی نہیں دیتی ،اور اپنے من پسند نمائندگان کو ہی پارلیمنٹ کا حصہ بنایا جاتا ہے،خواہ اس کے لئے کچھ بھی کرنا پڑے،بھارت کو اس میں کسی کا کوئی ڈر نہیں اور نہ ہی شرم ہے۔
پاکستان کی طرف آتے ہیں تو یہ حقیقت اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ آزاد کشمیر کی اکثریتی آبادی،ایک عرصہ تک پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے کے لئے دل و جان سے راضی تھی لیکن بدقسمتی سے اب معاملات بہت بدل چکے ہیں اور کشمیریوں کی نئی نسل اب کشمیر کو آزاد دیکھنا چاہتی ہے۔ اس میں کسی حد تک جنرل مشرف کا کردار بھی رہا ہے اور واقفان حال کے مطابق جنرل مشرف، بھارتی و عالمی دبائو کے سامنے سرنڈر کر چکے تھے اور ان کے نزدیک، جو صورتحال تھی، اس کے مطابق ہی کشمیر کا فیصلہ تسلیم کر لیا گیا تھا البتہ دونوں طرف کے کشمیریوں کی آزادانہ نقل و حرکت بحال ہونا تھی، جو بوجوہ نہیں ہو سکی۔ اس وقت کی صورتحال کو اگر دیکھا جائے تو آزاد کشمیر میں بھی آج حالات بھارتی مقبوضہ کشمیر سے مختلف نظر نہیں آرہے کہ ایک طرف آزاد کشمیر کی عوام نے انتخابات میں عدم دلچسپی کا اظہار کیا ہے، عدم اطمینان کا اظہار کیا، عدم اعتماد کا اظہار کیا تو دوسری طرف ریاست نے کشمیری عوام کے عدم اعتماد، عدم اطمینان یا عدم دلچسپی کو دور کرنے کی بجائے،10۔15 %ووٹنگ شرح پر ہی انتخابات کروانے کو مقدم جانا ہے، یہ آزاد کشمیر انتخابات کو رپورٹ کرنے والے صحافیوں کی خبر ہے جبکہ آزاد کشمیر الیکشن کمیشن کے مطابق کشمیریوں کی بڑی تعداد نے انتخابی عمل میں حصہ لیا ہے۔ ملک کی مقبول سیاسی جماعت نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا، جبکہ پاکستانی انتخابی نتائج کی طرح یہاں بھی من پسند سیاسی جماعتوں میں نشستوں کی بندر بانٹ دیکھنے میں نظر آئی ہے تو دوسری طرف راولا کوٹ میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے لانگ مارچ پر، سیدھی گولیاں چلانے کی خبریں بھی سنائی دی ہیں۔ جے اے سی کے رہنما عمر نذیر کشمیری کے مطابق رینجرز نے گولیاں چلائی ہیں اور کئی کشمیری مظاہرین شہید کر دئیے گئے ہیں، جبکہ ان کا بھائی بھی شہید ہو گیا ہے۔ ارباب اختیار سے درخواست ہی کی جا سکتی ہے کہ کشمیری ہمارے مسلمان بھائی ہیں، ان سے معاملات افہام و تفہیم سے حل کر لئے جائیں تو زیادہ بہتر ہے، ان کے جائز مطالبات ماننے میں کوئی حرج نہیں کہ بابائے قوم نے کہا تھا کہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے، ہوس اقتدار میں اپنی شہ رگ کون کاٹتا ہے؟؟




