Column

آزاد کشمیر کا امن اور قومی ذمے داری

اداریہ۔۔۔
آزاد کشمیر کا امن اور قومی ذمے داری
آزاد جموں و کشمیر میں حالیہ انتخابات اور اس سے قبل پیدا ہونے والی صورت حال نے ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ قومی مفادات، جمہوری تسلسل اور امن و امان کے تقاضے ہر قسم کی سیاسی کشمکش سے بالاتر ہوتے ہیں۔ انتخابات کسی بھی جمہوری نظام کا بنیادی ستون ہیں اور ان کی شفافیت، پرامن انعقاد اور عوام کی آزادانہ رائے کا احترام ہی ریاستی استحکام کی ضمانت بنتا ہے۔ ایسے میں اگر انتخابی عمل کو احتجاج، تصادم یا تشدد کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی جائے تو اس کے اثرات صرف ایک علاقے تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے ملک کی سیاسی ساکھ اور بین الاقوامی تاثر کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے اپنی پریس کانفرنس میں آزاد کشمیر کی حالیہ صورت حال پر حکومت پاکستان کا موقف پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ہی کسی گروہ کو دھونس، تشدد یا طاقت کے زور پر اپنی مرضی مسلط کرنے دی جائے گی۔ حکومت کا یہ موقف اس اصول سے ہم آہنگ ہے کہ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ضرور ہے، مگر اس کے اظہار کا راستہ ہمیشہ آئین، قانون اور پرامن سیاسی عمل ہونا چاہیے۔ آزاد کشمیر کی سیاسی حیثیت اور حساس جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر یہاں امن و استحکام غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ خطہ نہ صرف کشمیری عوام کی امنگوں کی علامت ہے بلکہ عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے اصولی موقف کا بھی ایک اہم مظہر ہے۔ اسی لیے یہاں کسی بھی قسم کی بدامنی، انتشار یا تشدد سے پیدا ہونے والا تاثر پاکستان کے سفارتی اور سیاسی موقف پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ اس تناظر میں تمام سیاسی قوتوں اور سماجی حلقوں کی ذمے داری ہے کہ وہ اختلافات کو جمہوری اور آئینی دائرے میں رکھتے ہوئے عوامی مفاد کو اولین ترجیح دیں۔ اگر کسی جماعت، تنظیم یا گروہ کو انتخابی عمل یا انتظامی فیصلوں پر اعتراض ہے تو اس کے لیے قانونی اور آئینی راستے موجود ہیں۔ الیکشن کمیشن، عدالتیں اور دیگر متعلقہ ادارے ایسے معاملات کے حل کے لیے قائم کیے گئے ہیں۔ دنیا کی مضبوط جمہوریتوں میں بھی انتخابی تنازعات پیدا ہوتے ہیں، لیکن ان کا حل سڑکوں پر تصادم یا طاقت کے استعمال کے بجائے قانونی فورمز پر تلاش کیا جاتا ہے۔ یہی رویہ ریاستی استحکام اور جمہوری روایات کو مضبوط کرتا ہے۔ حکومت کی جانب سے یہ موقف بھی سامنے آیا ہے کہ احتجاج کے دوران بعض عناصر کے قبضے سے ممنوعہ اسلحہ برآمد ہوا اور یہ کہ کچھ احتجاجی سرگرمیوں نے پرتشدد شکل اختیار کی۔ ان دعوں کی مکمل اور شفاف تحقیقات متعلقہ اداروں کی ذمے داری ہیں، تاکہ حقائق غیر جانبداری سے سامنے آسکیں۔ اگر واقعی کسی نے قانون ہاتھ میں لیا، ریاستی املاک کو نقصان پہنچایا یا عوام کے جان و مال کو خطرے میں ڈالا تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ اسی طرح اگر کسی کارروائی میں ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال یا کسی بے ضابطگی کا الزام ہو تو اس کا بھی غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔ قانون کی بالادستی اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب اس کا اطلاق بلاامتیاز ہو۔ یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام نے انتخابی عمل میں بھرپور شرکت کی۔ ووٹ ڈالنا ہر شہری کا بنیادی جمہوری حق ہے اور عوام کی شرکت اس بات کا اظہار ہوتی ہے کہ وہ اپنے مستقبل کے فیصلے بیلٹ باکس کے ذریعے کرنا چاہتے ہیں۔ اس عوامی اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ تحمل، بردباری اور جمہوری روایات کا مظاہرہ کیا جائے۔ کشمیر کا مسئلہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی جزو ہے اور اس حوالے سے قومی اتفاقِ رائے ہمیشہ پاکستان کی بڑی طاقت رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاملے پر داخلی استحکام، قومی یکجہتی اور سیاسی ہم آہنگی کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ ایسے اقدامات یا طرزِ عمل سے گریز کیا جانا چاہیے جن سے یہ تاثر پیدا ہو کہ داخلی اختلافات قومی مفادات پر حاوی ہورہے ہیں۔ اختلافات اپنی جگہ، مگر قومی مفاد کے معاملات میں ذمے دارانہ رویہ ہی ملک کی قوت بنتا ہے۔ اس موقع پر حکومت کی یہ ذمے داری بھی ہے کہ وہ عوام کے جائز خدشات اور مطالبات کو سنجیدگی سے سنے، موثر مکالمے کو فروغ دے اور شفاف طرزِ حکمرانی کے ذریعے عوامی اعتماد کو مزید مضبوط بنائے۔ اسی طرح سیاسی جماعتوں اور احتجاجی حلقوں پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنے موقف کے اظہار کے لیے آئینی اور پرامن ذرائع اختیار کریں، کیونکہ تشدد کسی بھی مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہوتا۔ پاکستان کی جمہوری روایت اسی وقت مضبوط ہوگی جب ہر شہری کے ووٹ کا احترام کیا جائے، قانون کی حکمرانی یقینی بنائی جائے اور اختلافِ رائے کو آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے برداشت کیا جائے۔ آزاد کشمیر میں امن، استحکام اور جمہوری تسلسل نہ صرف وہاں کے عوام کے مفاد میں ہے بلکہ یہ پاکستان کے قومی مفاد، سفارتی وقار اور کشمیر کے اصولی موقف کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ تحمل، دانش اور ذمے داری کا مظاہرہ کیا جائے۔ قومی اتحاد، قانون کی پاسداری اور جمہوری اقدار ہی وہ راستہ ہیں جو نہ صرف آزاد کشمیر بلکہ پورے پاکستان کے روشن اور مستحکم مستقبل کی ضمانت بن سکتے ہیں۔ ریاست کی ذمے داری امن و امان کا تحفظ ہے، جبکہ سیاسی قوتوں کی ذمے داری جمہوری عمل پر اعتماد کو فروغ دینا ہے۔ جب یہ دونوں ذمے داریاں اپنی اصل روح کے مطابق ادا ہوں گی تو نہ صرف عوام کا اعتماد مستحکم ہوگا بلکہ پاکستان کا قومی بیانیہ بھی مزید مضبوط اور موثر انداز میں دنیا کے سامنے آئے گا۔
شذرہ۔۔۔
ایچ آئی وی کا بڑھتا خطرہ
سندھ میں گزشتہ قریباً ایک دہائی کے دوران ایچ آئی وی ؍ ایڈز کے متعدد بڑے آئوٹ بریکس سامنے آنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ملک میں متعدی بیماریوں کی روک تھام کے لیے موجود نظام اب بھی کئی بنیادی کمزوریوں کا شکار ہے۔ 2016ء میں لاڑکانہ کے ڈائیلیسس مریضوں میں ایچ آئی وی کی منتقلی، بعد ازاں لاڑکانہ میں بچوں میں بڑے پیمانے پر وائرس کا پھیلا، مختلف اضلاع میں نئے کیسز کی رپورٹنگ اور اب کراچی کے ایک نجی اسپتال سے مسلسل سامنے آنے والے کیسز اس امر کی نشان دہی کرتے ہیں کہ مسئلہ وقتی نہیں بلکہ ایک سنگین عوامی صحت کا بحران بنتا جارہا ہے۔ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ ہر واقعے کے بعد تحقیقات، کمیٹیاں اور ہنگامی اقدامات تو کیے جاتے ہیں، مگر جیسے ہی عوامی توجہ کم ہوتی ہے، اصلاحات کا عمل بھی سست پڑ جاتا ہے۔ نتیجتاً غیر محفوظ سرنجوں کا استعمال، ناقص انفیکشن کنٹرول، غیر معیاری بلڈ اسکریننگ، نجی کلینکس کی کمزور نگرانی اور غیر تربیت یافتہ طبی عملے کی سرگرمیاں بدستور جاری رہتی ہیں۔ یہی وہ عوامل ہیں جو ایچ آئی وی کے پھیلائو میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ مسئلہ صرف سندھ تک محدود نہیں رہا۔ قومی سطح پر بھی ہر سال ایچ آئی وی کے نئے مریضوں کی تعداد میں اضافہ تشویش کا باعث ہے۔ اگرچہ مختلف وجوہ اس وائرس کے پھیلائو کا سبب بنتی ہیں، تاہم صحت کے شعبے میں حفاظتی اصولوں پر عمل نہ ہونا، آلودہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال، غیر محفوظ خون کی منتقلی، غیر رجسٹرڈ لیبارٹریاں اور غیر معیاری طبی مراکز اس خطرے کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔ ایسے حالات میں یہ معاملہ کسی ایک صوبے کا نہیں بلکہ پورے ملک کی صحت عامہ کا مسئلہ بن چکا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاق اور تمام صوبے مل کر ایک جامع قومی حکمت عملی تشکیل دیں، جس میں انفیکشن کنٹرول کے یکساں معیارات، خون کی اسکریننگ کے موثر نظام، نجی و سرکاری اسپتالوں کی باقاعدہ نگرانی، سرنجوں کے محفوظ استعمال، طبی فضلے کی مناسب تلفی اور طبی عملے کی مسلسل تربیت کو یقینی بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ غیر قانونی کلینکس اور غیر مستند طبی مراکز کے خلاف بلاامتیاز کارروائی بھی ناگزیر ہے۔ عوامی آگاہی بھی اس جنگ کا اہم ہتھیار ہے۔ لوگوں کو یہ شعور دیا جانا چاہیے کہ وہ علاج کے دوران نئی سرنج کے استعمال کا مطالبہ کریں، صرف مستند بلڈ بینکوں سے خون حاصل کریں اور رجسٹرڈ طبی مراکز سے ہی علاج کروائیں۔ احتیاط اور آگاہی کے ذریعے بہت سے کیسز کو روکا جا سکتا ہے۔ ایچ آئی وی ایک ایسا مسئلہ ہے جس سے نمٹنے کے لیے وقتی ردِعمل کافی نہیں۔ اگر اب بھی مضبوط نگرانی، موثر قانون سازی اور مستقل اصلاحات کو ترجیح نہ دی گئی تو یہ بحران مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔ عوام کی صحت کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمے داری ہے اور اس ذمے داری کی ادائیگی کے لیے فوری، مربوط اور دیرپا اقدامات ناگزیر ہیں۔

جواب دیں

Back to top button