Column

ایس ٹی آئیز کو انتظار کی صلیب سے اتارا جائے

ایس ٹی آئیز کو انتظار کی صلیب سے اتارا جائے
تحریر: رفیع صحرائی
پنجاب میں سرکاری سکولوں کو درپیش اساتذہ کی کمی ایک دیرینہ مسئلہ ہے۔ کئی سکول ایسے ہیں جہاں طلبہ کی تعداد کے مقابلے میں مستقل اساتذہ کی تعداد کم ہے۔ کہیں ایک استاد کو ایک سے زیادہ جماعتیں پڑھانا پڑتی ہیں اور کہیں ایک ہی استاد پر مختلف مضامین کی تدریس کا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔ اس صورتحال میں حکومت پنجاب کی جانب سے سکول ٹیچر انٹرنز یعنی ایس ٹی آئیز (STIs)کی بھرتی ایک قابلِ تحسین اور بروقت قدم تھا۔ گزشتہ دو برس کے دوران ہزاروں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور باصلاحیت نوجوانوں کو بطور ایس ٹی آئیز سرکاری سکولوں میں تدریسی خدمات انجام دینے کا موقع ملا۔ ان نوجوانوں نے نہ صرف سکولوں میں اساتذہ کی کمی کو کسی حد تک پورا کیا بلکہ اپنی توانائی، جدید تعلیمی سوچ اور محنت سے تعلیمی ماحول کو بھی بہتر بنانے میں کردار ادا کیا۔ دوسری طرف ان بھرتیوں کے ذریعے ایسے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو باعزت روزگار کا موقع ملا جو اپنی ڈگریاں ہاتھ میں لیے روزگار کی تلاش میں دربدر تھے۔
یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ ایس ٹی آئیز کی تقرریاں مستقل بنیادوں پر نہیں بلکہ محدود مدت کے لیے کی جاتی رہی ہیں۔ اس انتظام کا ایک سبب شاید یہ تھا کہ حکومت کو فوری طور پر اساتذہ کی کمی پوری کرنے کے ساتھ ساتھ مستقل بھرتیوں کے لیے وقت بھی درکار تھا۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ عارضی بنیادوں پر کام کرنے والے یہ اساتذہ جب کسی سکول میں کئی ماہ تک خدمات انجام دیتے ہیں تو وہ وہاں کے تعلیمی ماحول، طلبہ کی صلاحیتوں، کمزوریوں اور نفسیاتی ضروریات سے واقف ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ ان کی اچانک رخصتی کے بعد نئے اساتذہ کی تعیناتی سے ایک مرتبہ پھر تعلیمی عمل کو ابتدائی مرحلے سے شروع کرنا پڑتا ہے۔
گزشتہ سال ایک مثبت پیش رفت یہ ہوئی کہ سابق ایس ٹی آئیز کی خدمات بھی دوبارہ حاصل کی گئیں۔ یہ فیصلہ اس امر کا اعتراف تھا کہ ان نوجوان اساتذہ کی خدمات مفید اور قابلِ قدر ہیں۔ مگر اب ایک مرتبہ پھر وہی سوال سر اٹھا رہا ہے کہ نئے تعلیمی سال کے آغاز پر ان اساتذہ کا کیا بنے گا؟گرمیوں کی تعطیلات ختم ہونے میں اب زیادہ وقت باقی نہیں۔ اگر نئے ایس ٹی آئیز کی بھرتی کے لیے ابھی اشتہار جاری کیا جاتا ہے تو درخواستیں وصول کرنے، امیدواروں کی جانچ پڑتال، میرٹ لسٹیں تیار کرنے، انٹرویوز اور دیگر انتظامی مراحل میں خاصا وقت لگ سکتا ہے۔ نتیجتاً سکول کھلنے کے بعد بھی کئی ہفتوں تک اساتذہ کی کمی برقرار رہنے کا خدشہ موجود رہے گا۔ اس کا براہِ راست نقصان طلبہ کو ہوگا ۔ صوبائی حکومت اور محکمہ تعلیم کے لیے یہ ایک نہایت اہم موقع ہے کہ وہ بروقت فیصلہ کرے۔ جو ایس ٹی آئیز پہلے سے خدمات انجام دے رہے ہیں اور جنہوں نے اپنی کارکردگی سے خود کو اہل ثابت کیا ہے، ان کی خدمات میں توسیع کا فیصلہ ابھی کر لیا جائے اور ان کی باقاعدہ جوائننگ گرمیوں کی تعطیلات ختم ہوتے ہی کروا دی جائے۔ اس طرح سکول کھلنے کے پہلے دن ہی تدریسی سرگرمیاں پوری رفتار کے ساتھ شروع ہو سکیں گی۔
یہاں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ اگر کسی سکول میں ایک ایس ٹی آئی گزشتہ ایک یا دو سال سے خدمات انجام دے رہا ہے، طلبہ اور والدین اس کی تدریسی صلاحیت سے مطمئن ہیں، سکول انتظامیہ اس کی کارکردگی سے آگاہ ہے اور وہ میرٹ پر بھرتی ہو کر پہلے ہی اپنی اہلیت ثابت کر چکا ہے تو ہر سال اسے دوبارہ انتظار کی صلیب پر کیوں لٹکایا جائے؟ ایک نوجوان استاد جو پورا سال اس فکر میں مبتلا رہے کہ چند ماہ بعد اس کا روزگار ختم ہو جائے گا، وہ ذہنی سکون اور یکسوئی کے ساتھ کس طرح اپنی ذمہ داریاں ادا کرے گا؟ اس غیر یقینی کیفیت کا اثر صرف استاد پر نہیں بلکہ اس کے پورے خاندان پر پڑتا ہے۔ ایک تعلیم یافتہ نوجوان کی ملازمت کا معاملہ محض ایک فرد کا مسئلہ نہیں ہوتا بلکہ اس سے اس کے والدین، بیوی بچوں اور پورے گھرانے کی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں۔
یہ بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ ہر سال نئی بھرتی کا عمل شروع کرنے سے حکومت کے انتظامی وسائل اور وقت بھی صرف ہوتے ہیں۔ اشتہار سے لے کر تقرری تک ایک طویل مرحلہ طے کرنا پڑتا ہے۔ اگر پہلے سے کام کرنے والے اہل اور تجربہ کار ایس ٹی آئیز کو توسیع دے دی جائے تو نہ صرف وقت بچے گا بلکہ بھرتی کے پورے عمل پر اٹھنے والے انتظامی اخراجات میں بھی کمی آئے گی۔ سب سی بڑھ کر طلبہ کا قیمتی وقت ضائع ہونے سے بچے گا۔
تعلیم کے میدان میں وقت کی اہمیت سب سے زیادہ ہے۔ ایک طالب علم کا ضائع ہونے والا ایک دن بھی اس کے تعلیمی سفر پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ جب سکول کھلتے ہیں تو پہلے دن سے ہی تدریس شروع ہونی چاہیے۔ اگر استاد موجود نہ ہوں، کلاسیں خالی ہوں یا ایک استاد کو کئی جماعتوں کا بوجھ اٹھانا پڑے تو اس کا نقصان بالآخر طالب علم کو ہی برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے ایس ٹی آئیز کا مسئلہ محض چند ہزار نوجوانوں کے روزگار کا مسئلہ نہیں، یہ پنجاب کے لاکھوں بچوں کے تعلیمی مستقبل کا سوال بھی ہے۔
حکومت پنجاب نے تعلیم کے شعبے میں متعدد اقدامات کیے ہیں اور وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی جانب سے تعلیم کو ترجیح دینا یقیناً قابلِ تحسین ہے۔ اسی طرح صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کی جانب سے ایس ٹی آئی پروگرام کے ذریعے تدریسی خلا کو پُر کرنے کی کوشش بھی ایک مثبت قدم ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس پروگرام کو محض عارضی انتظام کے طور پر نہ دیکھا جائے بلکہ اس کے تجربات اور نتائج کی بنیاد پر ایک جامع اور مستقل پالیسی تشکیل دی جائے۔
اگر مستقل اساتذہ کی بھرتی کا عمل جاری ہے تو اسے تیز کیا جائے، خالی اسامیوں کو جلد از جلد پُر کیا جائے اور جب تک مستقل اساتذہ دستیاب نہیں ہوتے، اس وقت تک ایس ٹی آئیز کو ایک واضح، شفاف اور قابلِ عمل پالیسی کے تحت تعلیمی نظام کا حصہ بنایا جائے۔ ہر سال چند ماہ کے لیے تقرری، پھر کئی ماہ کا انتظار اور دوبارہ بھرتی کا عمل نہ حکومت کے لیے موثر ہے، نہ اساتذہ کے لیے اطمینان بخش اور نہ ہی طلبہ کے بہترین مفاد میں ہے۔
یہ بھی مناسب ہوگا کہ ایس ٹی آئیز کی کارکردگی جانچنے کے لیے ایک شفاف نظام بنایا جائے۔ جو اساتذہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، ان کی خدمات کو ترجیحی بنیادوں پر جاری رکھا جائے۔ اس سے میرٹ بھی برقرار رہے گا اور ایک تجربہ کار تدریسی قوت بھی دستیاب رہے گی۔ یوں حکومت ہر سال نئے سرے سے وہی عمل دہرانے کے بجائے پہلے سے تربیت یافتہ اور تجربہ کار نوجوانوں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا سکتی ہے۔
ایس ٹی آئیز کے حوالے سے ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ یہ پروگرام نوجوانوں کے لیے تدریس کے شعبے میں عملی تربیت کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ آج کا ایس ٹی آئی اگر ایک یا دو سال کسی سرکاری سکول میں کامیابی سے خدمات انجام دیتا ہے تو کل وہ ایک بہتر، زیادہ تجربہ کار اور زیادہ ذمہ دار مستقل استاد ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیی اس پروگرام کو محض عارضی ملازمت کے بجائے مستقبل کی تدریسی افرادی قوت تیار کرنے کے ایک موثر پلیٹ فارم کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایس ٹی آئیز صرف روزگار کے متلاشی نوجوان نہیں، وہ ہمارے بچوں کے استاد ہیں۔ وہ کلاس روم میں کھڑے ہو کر صرف کتاب نہیں پڑھاتے بلکہ قوم کے مستقبل کی تعمیر کرتے ہیں۔ اس لیے ان کے مستقبل کو بھی غیر یقینی کے حوالے نہیں کیا جانا چاہیے۔ حکومت پنجاب کے پاس اس وقت ایک سنہری موقع ہے۔ وہ بروقت فیصلہ کرکے نہ صرف ہزاروں تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ذہنی اذیت اور غیر یقینی سے نجات دے سکتی ہے بلکہ لاکھوں طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو بھی محفوظ بنا سکتی ہے۔

جواب دیں

Back to top button