تین زبانیں ، ایک انسانلفظ ، خاموشی اور آنسو
تین زبانیں ، ایک انسانلفظ ، خاموشی اور آنسو
شہر خواب ۔۔۔
صفدر علی حیدری۔۔۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا، مگر ان تمام نعمتوں میں ایک ایسی نعمت ہے جس نے اسے تمام مخلوقات سے ممتاز کر دیا، اور وہ ہے اظہارِ جذبات کی صلاحیت۔
انسان صرف دیکھتا اور محسوس نہیں کرتا، بلکہ اپنے احساسات کو دوسروں تک منتقل بھی کرتا ہے۔ یہی صلاحیت محبت کو رشتہ بناتی ہے، رشتوں کو اعتماد بخشتی ہے، معاشروں کو تہذیب عطا کرتی ہے اور ادب کو جنم دیتی ہے۔ اگر انسان اپنے دل کی بات دوسروں تک نہ پہنچا سکتا تو نہ خاندان وجود میں آتے، نہ معاشرے تشکیل پاتے، نہ علم نسل در نسل منتقل ہوتا اور نہ ہی انسان اپنے رب کے حضور دعا اور مناجات کا لطف پا سکتا۔
’’ رحمٰن ہی نے قرآن کی تعلیم دی، انسان کو پیدا کیا، اور اسے اظہارِ بیان کی صلاحیت عطا فرمائی ‘‘۔
یہ آیت محض بولنے کی صلاحیت کا بیان نہیں، بلکہ انسانی تہذیب، فکر، علم، ادب اور احساسات کی پوری دنیا کا خلاصہ ہے۔ بیان وہ نعمت ہے جس کے ذریعے انسان اپنے دل کے نہاں خانوں میں چھپے جذبات کو دوسروں تک پہنچاتا ہے۔ یہی بیان کبھی لفظوں کی صورت اختیار کرتا ہے، کبھی خاموشی کی شکل میں جلوہ گر ہوتا ہے، اور کبھی آنسوں کی صورت آنکھوں سے بہہ نکلتا ہے۔
اظہار کا پہلا اور سب سے نمایاں وسیلہ لفظ ہیں۔ لفظ صرف آوازوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ تہذیب، تاریخ، محبت، نفرت، امید، خوف اور تجربات کا خزانہ ہیں۔ ایک لفظ انسان کو ہنسا سکتا ہے، ایک لفظ رلا سکتا ہے، ایک لفظ ٹوٹے ہوئے دل کو جوڑ سکتا ہے اور ایک لفظ آباد گھروں کو ویران کر سکتا ہے۔
ماں کی پہلی پکار، استاد کی پہلی نصیحت، عاشق کا پہلا اقرار، بچے کی پہلی آواز اور بندے کی پہلی دعا، سب کچھ لفظوں ہی کے ذریعے وجود پاتا ہے۔
رسولؐ اللہ نے زبان کی حفاظت کو ایمان سے جوڑا اور فرمایا: ’’ جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے ‘‘۔
اس ایک جملے میں انسانی تعلقات کا پورا فلسفہ سمٹ آیا ہے۔ کیوں کہ زبان سے نکلا ہوا لفظ واپس نہیں آتا۔ وہ کسی کے دل میں اتر کر یا تو پھول بن جاتا ہے یا کانٹا۔
لیکن الفاظ کی عظمت کے باوجود ان کی ایک حد بھی ہے۔ زندگی میں بے شمار لمحات ایسے آتے ہیں جب انسان کی کیفیت زبان کے دائرے سے بڑھ جاتی ہے۔ کبھی خوشی اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ انسان صرف اتنا کہہ پاتا ہے’’ میں اتنا خوش ہوں کہ بتا بھی نہیں سکتا‘‘۔
کبھی غم اتنا شدید ہوتا ہے کہ لب ہلتے ہیں مگر آواز نہیں نکلتی۔ کبھی کسی کا احسان اتنا عظیم ہوتا ہے کہ انسان کہتا ہے’’ میں نہیں جانتا کس منہ سے آپ کا شکریہ ادا کروں‘‘۔
اور کبھی صرف اتنا کہہ کر خاموش ہو جاتا ہے’’ میرے پاس الفاظ نہیں ہیں‘‘ ۔
یہ الفاظ کی ناکامی نہیں، بلکہ جذبات کی وسعت کا اعتراف ہے۔
جب زبان اپنے سفر کی آخری حد تک پہنچ جاتی ہے تو اظہار کی دوسری زبان سامنے آتی ہے، اور وہ ہے خاموشی۔خاموشی بولنے کی ضد نہیں، بلکہ بولنے کا بلند ترین مقام ہے۔ بعض اوقات انسان کچھ بھی نہیں کہتا، مگر سب کچھ کہہ جاتا ہے۔
کچھ بھی نہ کہا اور کہہ بھی گئے
کچھ کہتے کہتے رہ بھی گئے
خاموشی کبھی محبت بن جاتی ہے، کبھی احترام، کبھی دعا، کبھی صبر، کبھی احتجاج اور کبھی ایسا جواب جس کے بعد مزید کسی وضاحت کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
ایک ماں اپنے بیمار بچے کے سر پر ہاتھ پھیرتی ہے، مگر کچھ نہیں کہتی۔ ایک باپ اپنی بیٹی کو رخصت کرتے وقت صرف اتنا کہتا ہے: ’’ خوش رہنا، بیٹی!‘‘، باقی تمام دعائیں اس کی خاموش آنکھوں میں سمٹ جاتی ہیں۔ ایک دوست صرف کندھے پر ہاتھ رکھ دیتا ہے، اور یہی خاموش لمس سیکڑوں لفظوں سے زیادہ تسلی دے جاتا ہے۔
اسی لیے کہا گیا ہے: خاموشی کو بھی اک طرزِ کلام کہنا پڑتا ہے۔
البتہ خاموشی ہمیشہ رضامندی نہیں ہوتی۔ کبھی یہ انکار ہوتی ہے، کبھی ناراضی، کبھی برداشت اور کبھی ایک باوقار احتجاج۔ جب محسوس ہو کہ سامنے والا سمجھنے کے لیے نہیں بلکہ الجھنے کے لیے آیا ہے، جب دلیل کی جگہ ضد لے لے، جب آپ کو اپنے لفظوں کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو ، تب خاموشی سب سے موثر اظہار بن جاتی ہے۔
حضرت مولا علیؓ کا فرمان ہے: ’’ جو شخص آپ کی حالت دیکھ کر آپ کی تکلیف اور جذبات کا اندازہ نہ لگا سکے، تو بول کر اپنے لفظ ضائع مت کرو‘‘۔
یہ جملہ صرف ایک نصیحت نہیں، بلکہ انسانی تعلقات کا ایک گہرا اصول ہے۔
لیکن انسانی جذبات کا سفر یہاں بھی ختم نہیں ہوتا۔ زندگی میں ایسے لمحات بھی آتے ہیں جب نہ لفظ باقی رہتے ہیں اور نہ خاموشی کافی محسوس ہوتی ہے۔ دل پر احساسات کا بوجھ اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ زبان خاموش رہ جاتی ہے اور خاموشی بھی اس کیفیت کو سنبھال نہیں پاتی۔ تب انسان کی آنکھیں بولتی ہیں، اور آنسو اظہارِ جذبات کی آخری، مگر سب سے سچی زبان بن جاتے ہیں۔
اگر لفظ ذہن کی زبان ہیں اور خاموشی روح کی، تو آنسو دل کی زبان ہیں۔ یہ وہ زبان ہے جس کے لیے نہ کسی لغت کی ضرورت ہوتی ہے، نہ مترجم کی، نہ کسی خاص ثقافت کی۔ دنیا کا ہر انسان آنسوں کا مفہوم سمجھ لیتا ہے۔ سو آنسو انسانیت کی سب سے عالم گیر زبان ہیں۔
کتنی عجیب بات ہے کہ انسان اس دنیا میں روتے ہوئے آتا ہے اور اکثر روتے ہوئے لوگوں کو چھوڑ کر رخصت ہوتا ہے۔ گویا زندگی کا آغاز بھی آنسو سے ہوتا ہے اور اختتام بھی، صرف ان کے اسباب بدلتے رہتے ہیں۔
یہ آنسو کہاں کام نہیں آتے؟ خوش ہیں تو آنسو، دکھی ہیں تو آنسو، مایوس ہیں تو آنسو، پریشان ہیں تو آنسو، ناراض ہیں تو آنسو، شرمندہ ہیں تو آنسو، شکر گزار ہیں تو آنسو، توبہ کر رہے ہیں تو آنسو، وصال ہو تو آنسو، جدائی ہو تو آنسو۔ یہ آنسو وہاں بھی اپنا اثر دکھا جاتے ہیں جہاں دلیل، منطق اور الفاظ سب ناکام ہو جاتے ہیں۔ بعض اوقات ایک سچا آنسو برسوں کی ناراضی ختم کر دیتا ہے، ایک آنسو معافی دلا دیتا ہے، اور ایک آنسو انسان کو اپنے رب کے اتنا قریب کر دیتا ہے جتنا طویل گفتگو بھی نہیں کر پاتی۔
یہ تصور درست نہیں کہ رونا کمزوری ہے۔ کمزور وہ نہیں جو رو لیتا ہے، بلکہ کبھی کبھی وہ شخص زیادہ کمزور ہوتا ہے جو عمر بھر اپنے دل کو پتھر بنائے رکھتا ہے۔
حضور اکرمؐ کی آنکھوں سے بھی آنسو بہے، انبیائے کرامٌ روئے، صالحین اور اولیائے کرام اشک بار ہوئے۔ حضرت یعقوب ٌ تو فراقِ یوسفٌ میں اتنا روئے کہ آنکھیں دے بیٹھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنسو احساسِ انسانیت کی علامت ہیں، کمزوری کی نہیں بلکہ زندگی کی علامت ہیں۔
جن کی آنکھوں میں ہوں آنسو انھیں زندہ سمجھو
پانی مرتا ہے تو دریا بھی اتر جاتے ہیں
جدید نفسیات بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے کہ جذبات کو مسلسل دبانا انسان کے ذہنی سکون کو متاثر کرتا ہے۔ انسان کو اپنے احساسات کے اظہار کا کوئی نہ کوئی راستہ ضرور چاہیے۔ کبھی گفتگو، کبھی دعا، کبھی تحریر، کبھی خاموشی اور کبھی آنسو ، یہی وہ راستے ہیں جن سے دل کا بوجھ ہلکا ہوتا ہے اور انسان دوبارہ زندگی کا سامنا کرنے کے قابل ہوتا ہے۔
ورنہ اس پر یہ مصرع صادق آئے گا:
غم سے پتھر ہو گیا لیکن رویا نہیں
یا پھر
اندر کا آدمی کبھی باہر نہ آ سکا
پتھرا گیا وہ جسم کے اندر پڑے پڑے
موجودہ دور اور احساسات کی ویرانی: افسوس یہ ہے کہ آج کے دور میں رابطے تو بے شمار ہیں، مگر احساس کم ہوتا جا رہا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کی باتیں تو سنتے ہیں، مگر کیفیت نہیں سمجھتے۔ پیغامات پڑھتے ہیں، مگر دل نہیں پڑھتے۔ حالانکہ ہر انسان کے اندر ایک ایسی دنیا آباد ہوتی ہے جس تک صرف وہی پہنچ سکتا ہے جو لفظوں کے ساتھ خاموشی اور آنسوں کی زبان بھی جانتا ہو۔
اس لیے ضروری ہے کہ ہم دوسروں کے الفاظ ہی نہیں، ان کی خاموشی بھی سنیں اور ان کی آنکھوں کی نمی بھی پڑھیں۔ ہر خاموش انسان مطمئن نہیں ہوتا، ہر مسکراتا ہوا چہرہ خوش نہیں ہوتا، اور ہر رونے والا کمزور نہیں ہوتا۔ بعض اوقات خاموشی سب سے بلند فریاد ہوتی ہے اور آنسو سب سے سچی گواہی۔
صرف چہرے ہی نہ دیکھو کبھی آنکھیں بھی پڑھو
کچھ سوالی بڑے خود دار ہوا کرتے ہیں
حقیقت یہ ہے کہ زندگی کا حسن اسی توازن میں ہے کہ انسان جانتا ہو کب بولنا ہے، کب خاموش رہنا ہے اور کب آنکھوں کو بولنے دینا ہے۔
جب محبت کا اظہار کرنا ہو تو لفظوں میں بخل نہ کرے۔
جب غصہ غالب آ جائے تو خاموشی اختیار کرے۔
اور جب خوشی، غم، شکر، ندامت یا محبت کی شدت زبان اور خاموشی دونوں کو بے بس کر دے تو آنسوئوں کو بہنے دے ، کیونکہ بعض اوقات ایک آنسو وہ بات کہہ دیتا ہے جو ہزار خطیب اپنی تقریروں میں نہیں کہہ سکتے۔
انسان کی پوری زندگی انہی تین دائروں کے درمیان گردش کرتی ہے۔ پہلے زبان بولتی ہے، پھر خاموشی معنی عطا کرتی ہے اور آخر میں آنکھیں وہ سچ بیان کرتی ہیں جسے نہ زبان ادا کر سکتی ہے اور نہ خاموشی چھپا سکتی ہے۔
اس پوری بحث کا خلاصہ صرف اتنا ہے: لفظ ذہن کی زبان ہیں۔
خاموشی روح کی زبان ہے۔
اور آنسو دل کی زبان ہیں۔
جب یہ تینوں اپنی اپنی جگہ پر استعمال ہوں تو انسان صرف اپنے جذبات کا اظہار نہیں کرتا بلکہ اپنی پوری انسانیت کا اظہار کرتا ہے۔ یہی احساس، یہی توازن اور یہی حسن انسان کو انسان بناتا ہے۔
اس مقام پر محسن بھوپالی مرحوم یاد آتے ہیں:
ہماری جان پہ دہرا عذاب ہے محسن
کہ دیکھنا ہی نہیں ہم کو سوچنا بھی ہے
یعنی انسان ایک طرف اپنے جذبات کو محسوس کرنے سے قاصر ہے، اور دوسری طرف ان کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہے ، گویا وہ اپنے ہی جذبات کی گرفت میں ہے۔ لیکن یہ گرفت بھی ایک نعمت ہی، کیونکہ یہی تو اسے لفظ، خاموشی اور آنسو کی صورت میں اپنی ذات سے باہر نکلنے کا راستہ دیتی ہے۔





