
ایران نے آبنائے ہرمز میں 2 آئل ٹینکروں کے بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر دھماکے سے تباہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے 2 آئل ٹینکروں کے دھماکوں سے تباہ ہونے سے متعلق ایرانی دعویٰ مسترد کر دیا۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ایران نے دعویٰ کیا تھا کہ آج (ہفتے کی) صبح آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کے دوران 2 آئل ٹینکر بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر دھماکوں کا شکار ہوئے اور ان میں آگ بھڑک اٹھی۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کی بحریہ کا کہنا تھا کہ دونوں جہاز آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں والے راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے، جہاں وہ بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے آئی آر جی سی بحریہ کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی جارحیت کے باعث آبنائے ہرمز انتہائی غیر محفوظ اور مکمل طور پر بند ہے۔
تاہم سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں ایرانی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہ میں 2 ٹینکروں کے بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر دھماکے سے تباہ ہونے کی خبر غلط ہے۔
واضح رہے کہ امریکا نے گزشتہ روز ایران کے خلاف اپنی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے پلوں، توانائی کی تنصیبات اور ایک بڑی ایرانی بندرگاہ پر واقع ایک ٹاور کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔
یہ حملے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران پر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر عائد پابندیوں کے حوالے سے دباؤ بڑھانے کی دھمکیوں کے بعد کیے گئے۔
امریکا کا کہنا ہے کہ اس نے مسلسل ساتویں رات ایران کی فوجی صلاحیتوں کو کمزور کرنے کے مقصد سے حملے کیے ہیں۔







