
عراق کے شہر موصل سے تعلق رکھنے والے کم عمر بچے مصطفیٰ محمد کا ایک جذباتی واقعہ سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کر رہا ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ مصطفیٰ نجف اور کربلا کے درمیان واقع ایک گاؤں میں اپنی خالہ کے گھر آیا ہوا تھا۔ اسی دوران ایک جلوس سڑک سے گزرا جسے دیکھ کر وہ جذباتی ہو گیا اور عقیدت کے اظہار کے لیے اس کے پیچھے دوڑ پڑا۔ تبرک حاصل کرنے کے لیے اس کے پاس کوئی چیز موجود نہیں تھی، اس لیے اس نے اپنی ٹی شرٹ اتار کر جلوس کی جانب اچھال دی۔
عینی شاہدین کے مطابق شدید گرمی اور تقریباً 47 ڈگری درجہ حرارت کے باوجود مصطفیٰ نے کافی فاصلہ پیدل طے کیا۔ یہ منظر ایک ایرانی ڈرائیور نے اپنے کیمرے میں محفوظ کیا جو جلوس کے ساتھ موجود تھا۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات میں یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ رہبرِ انقلاب کے دفتر نے بچے کے بارے میں معلومات طلب کی ہیں اور اس کی میزبانی کے لیے خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے کسی مستند سرکاری ذریعے کی جانب سے باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
عراقی عوام کی جانب سے اس واقعے کو عقیدت اور وابستگی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ متعدد صارفین نے کم عمر بچے کے جذبے کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔







