
وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفون پر رابطہ کرتے ہوئے خطے کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو علاقائی امن و استحکام کو متاثر کر سکتے ہیں۔
وزیراعظم آفس کے مطابق گفتگو کے دوران شہباز شریف نے خطے میں فوری امن کی بحالی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران امن کے لیے ہونے والی پیش رفت کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔
انہوں نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت کیے گئے باہمی وعدوں اور ذمہ داریوں کی پاسداری کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ خطے میں باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔
وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے اپنا مثبت اور مخلصانہ کردار جاری رکھے گا۔
وزیراعظم آفس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے گزشتہ ماہ صدر مسعود پزشکیان کے دورۂ اسلام آباد کے دوران طے پانے والے فیصلوں پر بھی پیش رفت کا جائزہ لیا اور پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے ان پر تیزی سے عملدرآمد جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔







