Column

جرائم کی فصل آخر اُگتی کہاں سے ہے؟

جرائم کی فصل آخر اُگتی کہاں سے ہے؟
تحریر: رفیع صحرائی
ہر چند روز بعد ایک نئی خبر دل چیر کر رکھ دیتی ہے۔ کہیں پانچ سالہ بچی درندگی کا نشانہ بنتی ہے، کہیں سات سالہ معصوم اپنی معصومیت سمیت سفاکیت کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے، کہیں کمسن بچوں کے ساتھ ایسے انسانیت سوز مظالم ہوتے ہیں کہ قلم کانپ اٹھتا ہے اور زبان گنگ ہو جاتی ہے۔ پورا ملک غم و غصے کی لپیٹ میں آ جاتا ہے، سوشل میڈیا پر طوفان برپا ہو جاتا ہے، سخت ترین سزا کا مطالبہ ہونے لگتا ہے، اور اگر کوئی مجرم پولیس یا سی سی ڈی کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچ جائے تو بہت سے لوگ اسے فوری انصاف سمجھ کر اطمینان کا اظہار کرتے ہیں۔
یہ ردعمل اپنی جگہ فطری ہے۔ ایسے مجرم کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ انہیں قانون کے مطابق ایسی عبرتناک سزا ملنی چاہیے جو دوسروں کے لیے بھی نشانِ عبرت بنے۔ لیکن اس سارے شور و غوغا کے درمیان ایک بنیادی سوال مسلسل ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے: آخر یہ درندے پیدا کہاں سے ہو رہے ہیں؟ اگر ہر چند ہفتوں بعد ایک نیا مجرم سامنے آ جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ کہیں نہ کہیں ہماری اجتماعی تربیت، خاندانی نظام، تعلیمی ڈھانچہ اور اخلاقی بنیادیں کمزور ہو چکی ہیں۔ ہم فوری سزا کے ذریعی صرف شاخیں کاٹ رہے ہیں مگر جڑیں بدستور سلامت ہیں۔
اسلام نے چودہ سو سال پہلے ہی انسانی معاشرے کو وہ ضابط اخلاق عطا کر دیا تھا جس پر عمل کر لیا جائے تو ایسے جرائم کی شرح کم سے کم ہو سکتی ہے۔ قرآن مجید نے نگاہوں کی حفاظت، حیا، عفت، پاکدامنی اور رشتوں کی حرمت کو ایمان کا حصہ قرار دیا۔ رسول اکرمؐ نے اپنی پوری زندگی میں عورت کے احترام، بچوں سے محبت اور کمزور انسانوں کے حقوق کا ایسا عملی نمونہ پیش کیا جس کی مثال انسانی تاریخ میں مشکل سے ملتی ہے۔ لیکن افسوس کہ آج ہم نے قرآن کو زندگی کی کتاب کے بجائے صرف ثواب کی کتاب بنا دیا ہے۔ اسے خوبصورت غلافوں میں سجا تو دیا، مگر اس کے پیغام کو اپنی زندگیوں اور اپنی نسلوں تک منتقل کرنے کی فکر کم کر دی۔ کتنے ہی والدین ہیں جو اپنے بچوں کو مہنگے سے مہنگا اسکول تو بھیجتے ہیں، مگر قرآن مجید کو ترجمہ اور فہم کے ساتھ پڑھانے، سیرتِ نبویؐ سے روشناس کرانے اور اسلامی اخلاقیات سکھانے کو ثانوی حیثیت دیتے ہیں۔ حالانکہ کردار کی بنیاد وہیں سے استوار ہوتی ہے۔
ہم نے ننھے بچوں کے ہاتھوں میں موبائل فون تھما دئیے ہیں۔ دو یا تین سال کا بچہ رونے لگے تو اسے چپ کرانے کے لیے موبائل دے دیا جاتا ہے۔ نابالغ بچوں اور بچیوں کو مہنگے موبائل خرید کر دے دئیے جاتے ہیں۔ پھر نہ اس کے استعمال کا وقت متعین کیا جاتا ہے، نہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہ کیا دیکھ رہے ہیں۔ انٹرنیٹ کی بے لگام دنیا میں فحاشی، عریانی، تشدد اور اخلاق باختگی کا ایسا سیلاب ہے جو کمزور ذہنوں اور کمزور کرداروں کو بہا لے جاتا ہے۔ سائنس بھی اس بات کی تائید کرتی ہے کہ مسلسل غیر اخلاقی مواد دیکھنے سے انسان کی حساسیت متاثر ہوتی ہے، ہمدردی کم ہوتی ہے اور بعض افراد میں جنسی رویے بگڑ سکتے ہیں۔ اسی لیے یہ مسئلہ صرف مذہبی نہیں بلکہ نفسیاتی، سماجی اور خاندانی بھی ہے۔
بدقسمتی سے ہم نے جدیدیت کو اخلاقیات پر ترجیح دینا شروع کر دی ہے۔ گھروں کی سجاوٹ، لباس، تقریبات اور رہن سہن میں تو ہم ترقی یافتہ دنیا کی نقل کرتے ہیں، مگر ان کی مثبت اقدار، قانون کی پاسداری، نظم و ضبط اور ذمہ داری کا احساس اپنانے کی زحمت نہیں کرتے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہم نہ اپنی روایات کے رہے اور نہ جدید معاشروں کی اچھی صفات اپنا سکے۔
والدین کو یہ حقیقت کبھی نہیں بھولنی چاہیے کہ اولاد ان کی تقریروں سے زیادہ ان کے کردار سے سیکھتی ہے۔ اگر گھر میں نماز کی پابندی نہیں، سچائی کا ماحول نہیں، وقت کی قدر نہیں، والدین خود رات گئے تک موبائل اور سوشل میڈیا میں مصروف رہتے ہیں، صبح دیر سے اٹھتے ہیں، غصہ، بدزبانی اور جھوٹ معمول بن چکے ہیں تو پھر بچوں سے مثالی کردار کی توقع رکھنا خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔
اسی طرح بچوں کو قناعت، شکر، حلال رزق اور نفس پر قابو پانے کی تعلیم دینا بھی ناگزیر ہے۔ ہر خواہش فوراً پوری کر دینا، ہر ضد مان لینا اور ہر چیز کو دولت سے خریدنے کی عادت ڈال دینا شخصیت کو کمزور کر دیتا ہے۔ مضبوط کردار وہی ہوتا ہے جو اپنی خواہشات کو بھی قانون، اخلاق اور دین کے تابع رکھنا جانتا ہو۔
تعلیمی اداروں کو بھی محض امتحان پاس کروانے والی فیکٹریاں بننے کے بجائے کردار سازی کے مراکز بننا ہوگا۔ میڈیا کو یہ احساس کرنا ہوگا کہ آزادیِ اظہار کا مطلب بے حیائی کا فروغ نہیں۔ سوشل میڈیا کمپنیوں اور متعلقہ اداروں کو بچوں تک فحش مواد کی رسائی روکنے کے لیے مزید موثر اقدامات کرنے ہوں گے۔ ریاست کو قانون کی سختی کے ساتھ ساتھ اخلاقی و سماجی اصلاح کی جامع حکمتِ عملی بھی اپنانا ہوگی۔
یہ حقیقت بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ سخت سزا اور فوری انصاف لازم ہیں، مگر صرف سزا کسی معاشرے کی اخلاقی تعمیر نہیں کر سکتی۔ اگر برائی پیدا کرنے والے اسباب جوں کے توں موجود رہیں گے تو ایک مجرم کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا پیدا ہوتا رہے گا۔
ہمارے بزرگ کہا کرتے تھے کہ اگر کنویں میں نجاست گر جائے تو صرف پانی نکالتے رہنے سے کنواں پاک نہیں ہوتا، پہلے نجاست کو نکالنا پڑتا ہے۔ یہی اصول معاشروں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ جب تک فحاشی، اخلاقی بے راہ روی، تربیت سے غفلت، دینی شعور کی کمی اور والدین کی بے توجہی جیسی نجاستوں کا خاتمہ نہیں ہوگا، تب تک جرائم کی فصل بھی اگتی رہے گی۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم صرف مجرموں کے خلاف احتجاج نہ کریں بلکہ اپنے گھروں کا بھی احتساب کریں۔ اپنے بچوں کو وقت دیں، ان کے دوستوں سے واقف ہوں، ان کے موبائل اور انٹرنیٹ کے استعمال پر دانش مندانہ نگرانی رکھیں، قرآن کو سمجھ کر پڑھائیں، سیرتِ رسول اکرم ٔ کو ان کی عملی زندگی کا حصہ بنائیں، اور سب سے بڑھ کر خود وہ کردار اختیار کریں جسے ہم اپنی اولاد میں دیکھنا چاہتے ہیں۔
یاد رکھیے! قانون مجرم کو سزا دے سکتا ہے، لیکن صرف کردار سازی ہی مجرم پیدا ہونے سے روک سکتی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ہم
اپنی آنے والی نسلوں کو ایک باحیا، محفوظ اور مہذب معاشرہ دے سکتے ہیں۔ یہ کام حکومتوں کا نہیں، ہمارے اپنے کرنے کا ہے۔

جواب دیں

Back to top button