آیت اللہ علی خامنہ ای کے خون کا بدلہ

آیت اللہ علی خامنہ ای کے خون کا بدلہ
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
گو امریکہ ایران مذاکرات کا عمل قطر میں جاری ہے اور جنگ بندی کسی حد تک ہو چکی ہے لیکن ایران اپنے موقف پر ڈٹا ہوا ہے ۔ ایران نے یورنیم کی افزودگی اور جوہری پروگرام کو ناقابل تنسیخ قرار دیتے ہوئے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کا بدلہ لینے کا بھی اعلان کیا ہے۔ ایرانی حکومت کے چیف مذاکرات باقر قالیباف کے انٹرویو کے حوالے سے شائع ہونے والی خبر کے مطابق قطر مذاکرات سے قبل امریکہ ایران کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں کمی آئی ہے اور اسی طرح لبنان کے محاذ پر اسرائیل حزب اللہ میں لڑائی میں نسبتا کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا جب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم ہوئی ہے ایران چالیس ملین بیرل تیل برآمد کر چکا ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا وہ ناکہ بندی کے دوران تیل کی برآمد واقعی نہیں کر سکے تھے مگر اب تیل کی برآمد بدستور جاری ہے۔ ایران کے یورنیم کی افزودگی سے دستبردار ہونے سے انکار کے باوجود امریکی صدر ٹرمپ نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام میں کمی کا عمل درست سمت میں چل رہا ہے۔ قارئین! آپ کو یاد ہوگا میں قبل ازیں اپنے کئی کالموں میں کہہ چکا ہوں کہ ایران اپنے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کی ملکیت سے کبھی دستبردار نہیں ہو گا جس کی تصدیق ایران کے چیف مذاکرات باقر قالیباف کے اس بیان سے ہو جاتی ہے جس میں انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام کو ناقابل تنسخ قرار دیا ہے۔ آپ دیکھیں ایرانی قیادت اور عوام نے امریکہ کے ساتھ چالیس روزہ جنگ کے دوران جس یکجہتی کا مظاہرہ کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں اسلامی انقلاب کے باوجود ایران میں پہلوی خاندان کے حامیوں کی ایک تعداد موجود ہے مگر جب ملک پر مشکل کی گھڑی آئی وہ اپنے تمام تر اختلافات کو بھلا کر ملک کے لئے کھڑے ہوگئے۔ ایرانی قوم کی مشکلات کی گھڑی میں متحد ہو کر دشمن کا مقابلہ کرنا اسے اقوام عالم میں ممتاز کرتاہے۔ ایرانی قوم نے اپنے سپریم لیڈر کی شہادت کے باجود صبر اور یکجہتی کے دامن کو نہیں چھوڑا اور اپنے ملک کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنا دیا۔ یہ اور بات ہے امریکی صدر اپنے شکست کو فتح قرار دینے کے لئے آئے روز نت نئے بیانات دے رہے ہیں مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ بھلا سوچنے کی بات ہے کئی دہائیوں پر مشتمل اقتصادی پابندیاں ایران کو دفاعی لحاظ سے کمزور نہیں کر سکیں بلکہ اسی عرصے میں ایران نے اپنے دفاع کو پہلے سے زیادہ مضبوط بنا دیا۔ آج اقوام عالم کی نظریں امریکہ کی بجائے ایران پر مرکوز ہیں کہ معاشی لحاظ سے کمزور ہونے کے باوجود دنیا کی سپر پاور کو ایران نے آئینہ دکھا دیا۔یہ ایرانی قوم کا خاصہ ہے کہ سو سالہ بادشاہت کا خاتمہ کرکے اسلامی سلطنت قائم کی ۔ایرانی قوم کی اپنے سپریم لیڈر سے محبت اور وابستگی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے باوجود وہ بدلہ لینے کا علم اٹھائے ہوئے ہیں۔ اگر ہم مسلم دنیا پر نظر ڈالیں تو امریکہ کے ساتھ جنگ میں کسی مسلمان ملک نے ایران کی مدد نہیں کی البتہ پاکستان نے اس ضمن میں اہم کردار ادا کیا ہے جس سے دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی عمل میں لائی گئی ہے۔ درحقیقت مسئلہ خطے میں چودھراہٹ کا ہے اسرائیل امریکہ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کی بالا دستی کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں مگر ایران خطے میں اپنی بالا دستی قائم کرنے کا خواہاں ہے۔ عجیب تماشہ ہے اسرائیل اور دیگر ملک جوہری پروگرام جاری رکھ سکتے ہیں ایران جوہری پروگرام جاری نہیں رکھ سکتا۔ دراصل امریکہ اور اسرائیل مسلم ملکوں کی بالادستی کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں جب کہ اس کے برعکس ایران امریکہ اور اسرائیل کی بالا دستی کو قبول کرنے کو تیار نہیں۔ حالیہ جنگ میں امریکہ اسرائیل نے ایران کے بارے میں جو اندازے لگائے تھے وہ غلط ثابت ہوئے۔ صدر ٹرمپ کو توقع تھی وہ چند روز میں رجیم چینج کرکے ایران میں کٹھ پتلی حکومت کا قیام عمل میں لا سکیں گے مگر ان کے تمام اندازے غلط ثابت ہوئے اور انہیں اقوام عالم میں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکی صدر کی چالاکی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے وہ ایران نے منجمد اثاثوں کو بحال کرنے کی بجائے ایران کے اثاثوں کے عوض امریکی اجناس ایران کو فروخت کرکے ایران کو حتمی المقدور کمزور کرنے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔ سوال ہے امریکی صدر جنگ بندی اور ایران کے ساتھ مخلصانہ طور پر بات چیت کے خواہش مند ہوتے وہ سب سے پہلے ایران کے منجمد اثاثو ں کی واپسی کو اولین ترجیح دیتے۔ اگرچہ ظاہری طور پر صدر ٹرمپ پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی تعریفوں کو کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اگر وہ پاکستان کے ساتھ مخلص ہوتے وہ ایران سے پاکستان کو گیس کی سپلائی کی اجازت دے سکتے تھے لیکن وہ پاکستان کے ساتھ دوستی کا دم بھرنے کے باوجود پاکستان اور پاکستانی قوم کو مشکلات میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ سوال ہے ایران نے عالمی ثالثی عدالت میں پاکستان کے خلاف گیس پائپ لائن کے معاہدے پر عمل درآمد نہ کرنے کے خلاف مقدمہ کیا ہوا ہے جس میں پاکستان کو معاہدے کی پاسداری نہ کرنے پر اربوں ڈالر جرمانہ عائد کرنے کے خدشات کو رد نہیں کیا جا سکتا ۔ تعجب ہے مسلمان ملکوں نے امریکیوں کو اڈے فراہم کرکے ان کے اخراجات بھی برداشت کئے لیکن جب وقت پڑا تو امریکہ اڈے ان کا تحفظ کرنے میں ناکام رہے جس کے بعد ان ملکوں کو سمجھ آجانی چاہیے کہ وہ اسلام دشمن قوتوں سے دور رہیں ۔ بدقسمتی سے خلیجی ملک تیل کی دولت سے عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ تیل کی دولت سے عیش و عشرت کرنے والے حکمرانوں کو صرف اپنے اقتدار کی فکر لاحق رہتی ہے کہیں امریکہ انہیں اقتدار سے محروم نہ کر دے۔ ایران کو دیکھیں تن تنہا امریکیوں کو مقابلہ کیا، لہذا اب وقت آگیا ہے خلیجی ملک امریکہ سے کنارہ کشی کرکے ایران کے ہاتھ مضبوط کریں تاکہ سب مل کر متحد ہو کر اسلام دشمن طاقتوں کا مقابلہ کر سکیں۔




