Column

معصوم خوابوں کا ملبہ۔۔۔ شہرِ خواب کا ماتم

معصوم خوابوں کا ملبہ۔۔۔ شہرِ خواب کا ماتم

صفدر علی حیدری

وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
بعض حادثے ایک لمحے میں رونما ہوتے ہیں، مگر سانحات کبھی ایک لمحے میں جنم نہیں لیتے۔ وہ برسوں تک خاموشی کے اندھیروں میں پرورش پاتے ہیں۔ غفلت انہیں غذا دیتی ہے، مصلحت انہیں پناہ دیتی ہے، بے حسی ان پر پہرہ دیتی ہے اور ہم انہیں معمولِ زندگی سمجھ کر نظر انداز کرتے رہتے ہیں۔ پھر اچانک ایک دن کوئی چھت زمین بوس ہو جاتی ہے، کوئی عمارت ملبے کا ڈھیر بن جاتی ہے اور ہم حیرت اور افسوس سے اسے حادثہ قرار دے دیتے ہیں۔ حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ اس فیصلے پر وقت بہت پہلے دستخط کر چکا ہوتا ہے؛ ہم صرف اس کے اعلان کے گواہ بنتے ہیں۔
پھر چند ننھے جنازے اٹھتے ہیں۔ چند بستے ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جاتے ہیں۔ چند مائوں کی گودیں ویران ہو جاتی ہیں۔ چند باپ اپنے ہی جگر گوشوں کو کندھوں پر اٹھائے لرزتے ہیں جیسے عمر بھر کی طاقت ایک لمحے میں بکھر گئی ہو۔ اس ماں کا تصور کیجیے جس نے بچوں کی پسندیدہ ڈش تیار کر رکھی تھی، دسترخوان سجا لیا تھا اور دروازے کی ہر آہٹ کو بچوں کی واپسی سمجھ رہی تھی۔ مگر دروازہ کھلا تو خبر آئی؛ ایسی خبر جس نے اس کی زندگی کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔
لاہور کے ایک ٹیوشن سینٹر کی چھت گری، مگر حقیقت یہ ہے کہ صرف اینٹ اور سریا نہیں گرا۔ اس روز ایک بار پھر ہمارے اجتماعی ضمیر کی دیوار منہدم ہوئی۔ ملبے کے نیچے صرف معصوم بچے نہیں دبے، بلکہ ریاست کی ذمہ داری، قانون کی سنجیدگی اور ہماری اخلاقی غیرت بھی دفن ہو گئی۔ وہاں خواب تھے، وہ خواب جنہیں مائیں ہر صبح دعائوں کی چادر اوڑھا کر رخصت کرتی ہیں اور شام کو مسکراتی آنکھوں سے واپس دیکھنے کی امید رکھتی ہیں۔
وہ بچے علم کی تلاش میں آئے تھے۔ ان کے ہاتھوں میں کتابیں تھیں، آنکھوں میں مستقبل کی چمک تھی۔ اور پھر ایک چھت نے فیصلہ کیا کہ یہ سب بے معنی ہے، اس نے ان کے مستقبل کو ایک سیکنڈ میں ماضی بنا دیا۔
یہ صرف ایک چھت کے گرنے کا واقعہ نہیں، بلکہ اس پورے نظام کی دراڑ تھی جو برسوں سے پھیل رہی تھی۔ سوال یہ نہیں کہ چھت کیوں گری، اصل سوال یہ ہے کہ وہ گری ہی کیوں؟ اس کی خستہ حالی کس کس نے دیکھی اور خاموش رہا؟ اگر عمارت مرمت کی محتاج تھی تو اس میں بچوں کو بٹھانے کی اجازت کس نے دی؟ قانون کی آنکھ کیوں بند تھی؟ حقیقت یہ ہے کہ جب ذمہ داری سو جاتی ہے تو حادثے جاگ اٹھتے ہیں۔
یہ سانحہ صرف لاہور کا نہیں، پورے پاکستان کا آئینہ ہے۔ چند روز پہلے کراچی میں ایک رہائشی عمارت زمین بوس ہوئی۔ ملبہ ہٹایا گیا تو پتہ چلا کہ وہ عمارت غیر قانونی تھی۔ شہروں میں ایسی بیسیوں عمارتیں کھڑی ہیں جن کا سرکاری ریکارڈ تک موجود نہیں۔ یہ اس نظام کی کمزوری کا ثبوت ہے جس میں قانون سے زیادہ طاقت سفارش اور رشوت کو حاصل ہے۔ جب ضمیر بکنے لگیں اور اختیار امانت کے بجائے تجارت بن جائے تو دیواریں اینٹوں سے نہیں، انسانی جانوں سے تعمیر ہونے لگتی ہیں۔
لاہور ہو یا کراچی، راولپنڈی ہو یا فیصل آباد، شاید ہی کوئی بڑا شہر ایسا ہو جہاں کوئی مخدوش عمارت اپنے انجام کی منتظر نہ کھڑی ہو۔ کہیں دیواروں میں دراڑیں ہیں، کہیں ستون اپنی طاقت کھو چکے ہیں، مگر زندگی مجبوری کے ساتھ انہی سایوں میں سانس لیتی رہتی ہے۔ خطرہ اپنی جگہ موجود ہے اور ہم اسے معمول سمجھ کر گزر جاتے ہیں، یہاں تک کہ ایک دن وہ معمول ماتم میں بدل جاتا ہے۔
کبھی سروے کا اعلان ہوتا ہے، کبھی خطرناک عمارتوں کی فہرست جاری ہوتی ہے، مگر چند دن بعد سب کچھ فائلوں کی گرد میں دفن ہو جاتا ہے۔ بیانات اپنی مدت پوری کر لیتے ہیں، تصویریں اخبارات سے اتر جاتی ہیں، مگر خطرہ اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔ ہر نیا سانحہ پچھلے سانحے کو دفن کر دیتا ہے اور ہر نئی تعزیت، پرانے وعدوں پر مٹی ڈال دیتی ہے۔
لیکن سوال صرف ریاست سے نہیں، ہم سب سے بھی ہے۔ کیا ہم نے کبھی جانچا کہ جس عمارت میں ہمارے بچے پڑھتے ہیں، وہ محفوظ ہے یا نہیں؟ کیا ہم نے کبھی غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آواز اٹھائی؟ کیا ہم نے کبھی رشوت دے کر یا سفارش کروا کر قانون کو کمزور نہیں کیا؟ اگر ہم دیانت سے اپنے گریبان میں جھانکیں تو محسوس ہوگا کہ ہر بڑے سانحے کے پیچھے بے حسیوں اور خاموشیوں کی ایک پوری زنجیر ہوتی ہے۔
اور یہ زنجیر ہم میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں ہے۔ جب ہم کسی افسر کو تحفہ دیتے ہیں، تو کیا ہم اس چھت میں پہلی دراڑ نہیں ڈال رہے؟ جب ہم معمار کی کم تر تعمیر پر خاموش رہتے ہیں، تو کیا ہم بچوں کے بستوں میں موت نہیں سجا رہے؟
اسلام انسان کو امانت دار دیکھنا چاہتا ہے۔ قرآن نے امانت اور جواب دہی کو ایمان کا حصہ قرار دیا ہے۔ نبی کریمؐ نے فرمایا: ’’ تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہوگا‘‘۔
یہ حدیث ہر اس شخص کے لیے ہے جس کے پاس کوئی ذمہ داری ہے۔ کیا ایک استاد اپنے طالب علم کا نگران نہیں؟ کیا ایک معمار اپنی عمارت کا نگران نہیں؟ کیا ایک والد اپنے بچے کا نگران نہیں؟ پھر کیوں ہم اپنی نگرانی میں لاپروا ہیں؟ افسوس کہ ہمارے ہاں احتساب ملبہ ہٹانے کے بعد شروع ہوتا ہے۔ پہلے جنازے اٹھتے ہیں، پھر مقدمات درج ہوتے ہیں، پھر گرفتاریاں اور رپورٹیں آتی ہیں، اور آخرکار سب کچھ وقت کی گرد میں دب جاتا ہے۔ اگر یہی سنجیدگی حادثے سے پہلے دکھائی جائے تو کسی ماں کی گود اجڑنے سے بچ جاتی۔
یہ المیہ ہے کہ ہم ایسے نظام میں جی رہے ہیں جہاں موت کے بعد کی کارروائی زندگی سے پہلے کی حفاظت سے زیادہ اہم ہے۔ ہم نے مرنے والوں کا احتساب سیکھ لیا، مگر زندہ رہنے والوں کی حفاظت بھول گئے۔
مجھے پشاور کے آرمی پبلک اسکول کی ایک ماں کی یاد آتی ہے۔ لوگوں نے اسے دلاسہ دیا کہ آپ کے بیٹے نے شہادت پائی ہے۔ اس نے دکھ میں ڈوبے ہوئے لہجے میں کہا تھا: ’’ میں نے اپنے بیٹے کو اسکول بھیجا تھا، میدانِ جنگ میں نہیں‘‘۔ یہ ہر اس ماں کی چیخ ہے جو اپنے بچے کو علم کی روشنی کے لیے رخصت کرتی ہے، موت کی تاریکی کے لیے نہیں۔وہ ماں شاید آج بھی زندہ ہے، مگر اس کی آنکھوں میں چمک نہیں۔ وہ آج بھی اٹھتی ہے، مگر اب اس کے اٹھنے کا مقصد نہیں رہا۔ وہ آج بھی کھانا پکاتی ہے، مگر دسترخوان پر ایک خالی جگہ ہمیشہ کے لیے رہ گئی ہے۔ وہ آج بھی دروازے کی طرف دیکھتی ہے، مگر جانتی ہے کہ کوئی نہیں آئے گا۔ یہی سب سے بڑا سانحہ ہے، زندہ رہنا مگر مر چکے ہونے کا احساس رکھنا۔
ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم ہر سانحے کے بعد سوگ منانے والی قوم بن کر رہنا چاہتے ہیں یا ہر سانحے کو اصلاح کا نقطہ آغاز بنانا چاہتے ہیں۔ ترقی صرف بلند عمارتوں کا نام نہیں، ترقی وہ ہے جس کی بنیاد دیانت پر ہو اور جس کی چھت کے نیچے ہر بچہ محفوظ ہو۔ اگر آج بھی ہم نے سبق نہ سیکھا تو کل کسی اور شہر سے پھر کسی ماں کا خواب برآمد ہوگا۔ فیصلہ مشکل ہے، مگر ناممکن نہیں۔ فیصلہ یہ ہے کہ ہم اپنی خاموشی توڑیں اور بے حسی کو دفن کریں۔ فیصلہ یہ ہے کہ ہم ہر عمارت کو امانت، ہر قانون کو دیانت اور ہر بچے کو مستقبل سمجھیں۔
ہم عہد کریں کہ آج کے بعد کوئی بچہ علم کی تلاش میں جان دے گا تو ہم اسے شہادت نہیں، ناانصافی کہیں گے۔ ہم عہد کریں کہ ہر چھت کو اپنی اولاد کی طرح محفوظ رکھیں گے۔ ہم عہد کریں کہ ہماری آواز کسی کی زندگی بنے گی۔
اور جب ہم یہ عہد کریں گے تو ایک نیا شہر تعمیر ہوگا، جہاں ماں اپنے بچے کو رخصت کرے گی تو یقین ہوگا کہ وہ واپس آئے گا۔ جہاں چھتیں گرنے کے لیے نہیں، محفوظ رکھنے کے لیے بنی ہوں گی۔
اللہ تمام معصوم جانوں پر رحمت فرمائے، سوگوار خاندانوں کو صبر دے اور ہمیں جرات دے کہ ہم صرف ماتم نہ کریں، بلکہ ایسا معاشرہ تعمیر کریں جہاں کوئی ماں دوبارہ یہ نہ کہے: ’’ میں نے اپنے بچے کو اسکول بھیجا تھا، میدانِ جنگ میں نہیں‘‘ ۔
یہ وہ لمحہ ہے جب ہم فیصلہ کریں، کیا ہم ماضی کے ملبے پر بیٹھ کر روتے رہیں گے، یا مستقبل کی بنیادیں مضبوط کریں گے؟ کیا ہم صرف سوگوار رہیں گے، یا نگراں بنیں گے؟
میں جانتا ہوں کہ یہ راستہ مشکل ہے، مگر میں یہ بھی جانتا ہوں کہ جب تک ہم اس پر نہیں چلیں گے، ہماری نسلیں ملبے سے اپنے خواب نکالتی رہیں گی۔ اس لیے آج میں آواز اٹھاتا ہوں، اور آپ سے التجا کرتا ہوں کہ آپ بھی اٹھائیں۔ کیونکہ جب لاکھوں آوازیں ایک ہو جائیں تو وہ طوفان بن جاتی ہیں، اور یہ طوفان ہی اس شہرِ خواب کو دوبارہ تعمیر کرے گا۔شہر صرف اینٹوں، سیمنٹ اور فولاد سے آباد نہیں ہوتے؛ شہر اعتماد سے آباد ہوتے ہیں۔ جب مائیں اپنے بچوں کو علم کے سفر پر اس یقین کے ساتھ رخصت کریں کہ شام انہیں ہنستا مسکراتا واپس دیکھیں گی، تب ہی کوئی شہر واقعی زندہ کہلانے کا حق دار ہوتا ہے۔ اگر ہماری عمارتیں بلند ہوں مگر ہمارے ضمیر کھنڈر بن جائیں تو ہماری ترقی محض ایک فریب ہے۔ آج اس ملبے کے نیچے صرف چند معصوم زندگیاں نہیں دبیں، بلکہ ہم سب کے ضمیر آزمائش میں ہیں۔ اگر ہم نے اس آزمائش سے سبق سیکھ لیا تو یہ ملبہ نئی بنیاد بن جائے گا، اور اگر پھر بھی خاموش رہے تو یاد رکھیے، اگلا سانحہ صرف وقت کا منتظر ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ قومیں سانحات سے نہیں مرتیں، سانحات سے سبق نہ سیکھنے سے مر جاتی ہیں۔ آئیے عہد کریں کہ آئندہ کسی بچے کی کتاب ملبے سے نہیں نکلے گی، کسی ماں کی دعا آہوں میں نہیں بدلے گی، اور ہمارے شہر خوابوں کی قبریں نہیں بلکہ خوابوں کی محفوظ پناہ گاہیں بنیں گے۔ یہی اس شہرِ خواب کا ماتم بھی ہے اور اسی کا امکانِ حیات بھی۔
صفدر علی حیدری

جواب دیں

Back to top button